یوکرین اب کرائمیا سے اپنے فوجی نکالنے کی تیاری میں

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption کرائمیا میں روس حامی فوجیوں نے سیواستوپولو بحری اڈے پر قبضہ کر لیا ہے

یوکرین کے سکیورٹی چیف نے کہا ہے کہ یوکرین اپنے فوجیوں اور ان کے اہل خانہ کو کرائمیا سے نکالنے کے بارے میں منصوبے اور لائحہ عمل تیار کر رہا ہے۔

سکیورٹی چیف اینڈری پاروبی نے کہا کہ یوکرین انھیں ’جلد از جلد اور اچھی طرح‘ یوکرین کی سرزمین پر منتقل کرنا چاہتا ہے۔

اس سے قبل روس کے حامی فوجیوں نے کرائمیا میں یوکرین کے بحری ہیڈ کوراٹر سمیت دو بحری اڈوں پر قبضہ کرلیا ہے۔ یوکرین نے کہا ہے کہ ان کے بحری سربراہ کو روک لیا گیا ہے۔

یہ واقعات کرائمیا اور ماسکو کے معاہدے بعد رونما ہوئے ہوئے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت کرائمیا کا خطہ روس میں شامل ہو جائے گا۔

اینڈری پاروبی نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تیزی سے بدلتے ہوئے حالات پر دارالحکومت کیئف کے موقف کی وضاحت کی۔

انھوں نے کہا کہ اب یوکرین آنے والے روسی باشندوں کے لیے ویزے کا نظام شروع کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ کیئف کرائمیا کو ’غیر عسکری خطہ‘ قرار دیے جانے کے لیے اقوام متحدہ کی حمایت چاہتا ہے جس کے تحت روسی فوج کا وہاں سے انخلا کے علاوہ ’یوکرین کی فوج کی یوکرین کی سرزمین پر واپسی اور ان تمام شہری آبادی کی وہاں سے منتقلی کی سہولتیں جو مقبوضہ علاقے میں نہیں رہنا چاہتی ہیں۔‘

اس کے علاوہ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ یوکرین اب ماسکو کی سربراہی والی تنظیم کامن ویلتھ آف انڈیپنڈنٹ سٹیٹس (سی آئي ای) کو چھوڑ رہا ہے اور امریکہ اور برطانیہ کے ساتھ فوجی مشق کی تیاری کر رہا ہے۔

اپنے فوجیوں اور ان کے اہل خانہ کی کرائمیا سے یوکرین منتقلی کے بارے میں یوکرین کے عبوری وزیر خارجہ آندری دیشچتسیا نے بی بی سی کو بتایا کہ جو بھی وہاں سے منتقل نہیں ہونا چاہتے انھیں کرائمیا خالی کرنے کے لیے مجبور نہیں کیا جائے گا۔

تاہم اس کے ساتھ انھوں نے یہ بھی کہا کہ حالات کے بارے میں ’کوئی پیش گوئی نہیں کی جاسکتی اور یہ بعض اوقات بے قابو ہیں اس لیے شہریوں کے لیے وہاں خطرات بھی ہیں۔‘

دریں اثنا یوکرین کے عبوری صدر نے اپنے بحری سربراہ سرہی ہیدوک کی رہائی کے لیے مقامی وقت کے مطابق رات نو بجے کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

اس کے فورا بعد روس کے وزیر دفاع سرگیئی شوئیگو نے کرائمیا کے حکام سے انھیں رہا کرنے کی اپیل کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اس سے قبل یوکرین کے فوجی اڈے پر بھی حملہ ہوا تھا

یاد رہے کہ اتوار کو کرائمیا کے ووٹروں نے ایک متنازعہ ریفرینڈم میں یوکرین سے علیحدگی کا فیصلہ کیا تھا۔

یورپی یونین اور امریکہ نے اس ریفرنڈم کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ یورپی یونین نے روس، کرائمیا اور یوکرین کے سرکاری اہل کاروں اور دیگر افراد پر سفری پابندیاں عائد کی ہیں جبکہ ان کے اثاثے بھی منجمد کیے گئے ہیں۔

برسلز اور وائٹ ہاؤس میں حکام نے کہا ہے کہ ان پابندیوں کے دائرہ کار کو بڑھایا جائے گا جبکہ ماسکو نے دھمکی دی ہے کہ ’یہ ناقابلِ قبول ہے اور نتائج کے بغیر نہیں ہے۔‘

اس بحران کا آغاز گزشتہ سال نومبر میں ہوا جب روس کے حمایت یافتہ صدر وکٹر ینوکووچ نے یورپی یونین کے ساتھ اشتراک کے معاہدے کو مسترد کر کے ماسکو کے ساتھ بہتر تعلقات کو بڑھانا شروع کیا۔

اسی بارے میں