چینی صدر یورپ کے پہلے دورے کے لیے پہنچ گئے

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption چینی صدر پہلی مرتبہ یورپ کے سرکاری دروے پر آئے ہیں

چین کے صدر شی جن پینگ یورپ کے اپنے پہلے سرکاری دورے پر ہالینڈ پہنچ گئے ہیں۔ چینی صدر اور ان کی اہلیہ پنگ لوئیان کا ہالینڈ کے بادشاہ ویلم ایلکزینڈر اور ملکہ میکسیمہ نے ایمسٹرڈیم میں استقبال کیا۔

چینی صدر اس دورے میں فرانسڑ جرمنی اور بلجیئم جائیں گے اور برسلز میں یورپی یونین کے صدر دفتر کا بھی دورہ کریں گے۔

ان کے ہمراہ دو سو تجارتی شخصیات بھی دورے میں شامل ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ بات چیت کا مرکز تجارت ہی رہے گی۔

دورے کے ایجنڈے میں 150 ایئر بس طیاروں کی ممکنہ خرید بھی شامل ہے۔

اس کے علاوہ توقع کی جا رہی ہے کہ مغربی ممالک چینی صدر سے اصرار کریں گے کہ وہ روس پر یوکرین کے حوالے سے دباؤ بڑھائیں۔

چین خارجہ امور کے معاملات میں عموماً روس کی حمایت کرتا ہے تاہم یوکرین کے معاملے میں چین نے روس کی مکمل حمایت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

اقوام متحدہ میں روس کے یوکرین کے کرائمیا خطے کو روس میں شامل کرنے کے اقدام کی مذمت کے حوالے سے ایک ووٹ میں چین نے اپنی رائے محفوظ کرلی۔

شنگائی میں بی بی سی کے نامہ نگار جان سڈورتھ کا کہنا ہے کہ چین اور یورپ کا رشتہ اکثر تناؤ کا شکار رہا ہے۔

یورپی یونین کی جانب سے شمسی تونائی کے چینی پینلز پر اضافی ٹیکس کے بعد چین کے فرانسیسی شراب پر جوابی ٹیکس عائد کرنے کا معاملہ گذشتہ ہفتے ہی حل ہوا ہے۔

چینی سربراہ اور ہالینڈ کے بادشاہ ایمسٹرڈیم کے دام سکوئر میں شاہی محل میں ایک عشائیہ میں شرکت کریں گے۔ ادھر ایمنسٹی انٹرنیشنل نے چین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر روشنی ڈالنے کے لیے دام سکوئر میں مظاہرے کا بھی انعقاد کیا ہے۔

صدر شی جن پینگ جی 7 ممالک کے اجلاس سے قبل ہی یورپ پہنچے ہیں جہاں آئندہ ہفتے دا ہیگ میں جوہری سیکیورٹی اجلاس بھی ہونے کو ہے۔

امید کی جا رہی ہے کہ اس اجلاس کے دوران وہ صدر اوباما سے ملاقات کریں گے جس میں یوکرین کا معاملہ زیرِ بحث آئے گا۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امکان اس بات ہے کہ اس تنازع کے حوالے سے چینی صدر بیجنگ کا ’صبر اور ٹھہراؤ‘ سے کام لینے کا موقف دہرائیں گے۔

اس دورے میں چینی صدر فرانسیسی صدر اور جرمن چاسلر سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔

اسی بارے میں