لاپتہ طیارے کی تلاش تیسرے ہفتے بھی جاری

Image caption آسٹریلوی فضائیہ کے دو پی تھری اوریئن طیارے بحرِ ہند میں ملبے کی تلاش میں مصروف رہے

ملائیشیا کے لاپتہ طیارے ایم ایچ 370 کی جس پر 239 افراد سوار تھے تلاش تیسرے ہفتے میں داخل ہو گئی ہے۔

تین دن پہلے بحرِ ہند میں سیٹیلائٹ سے لی گئی تصاویر میں ملبہ نظر آنے کی وجہ سے جنوبی بحرِ ہند لاپتہ طیارے کے لیے بین الاقوامی سطح پر کی جانے والی تلاش کا مرکز رہا ہے لیکن ابھی کوئی چیز سامنے نہیں آئی۔

جنوبی بحرِ ہند میں ممکنہ ملبے کی تلاش کےلیےجاری مہم جمعے کو رات پڑنے پر ختم کر دی گئی تھی لیکن سنچیر کی صبح تلاش کا کام دوبارہ شروع کر دیا ہے۔

تلاش کی اس عالمی مہم میں پانچ فوجی طیاروں سمیت آسٹریلوی فضائیہ کے دو پی تھری اوریئن طیارے شریک ہیں۔چین، جاپان اور برطانوی بحری جہاز بھی اس تلاش میں جلد شریک ہو جائیں گے۔

کوالالمپور سے پرواز بھرنے والا یہ جہاز آٹھ مارچ کو لاپتہ ہوا تھا۔ پہلے اس کا رابطہ ایئر ٹریفک کنٹرول سے ختم ہوا جس کے بعد یہ ریڈار سے بھی غائب ہو گیا۔

آسٹریلوی میری ٹائم سیفٹی اتھارٹی نے کہا تھا کہ سنیچر کو لاپتہ طیارے کی تلاش میں نیوی کے جہاز ایچ ایم اے ایس سکسیس بھی شامل ہوں گے۔

جمعرات کو شروع ہونے والی کسی ممکنہ ملبے کی تلاش میں ابھی تک کوئی کامیابی نہیں ہوئی۔

آسٹریلیا کے وزیرِاعظم ٹونی ایبٹ نے کہا کہ’یہ دنیا میں ایک بہت ہی ناقابلِ تسخیر جگہ تک رسائی کا مسئلہ ہے لیکن اگر وہاں پر کچھ ہے تو ہم اسے تلاش کر لیں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ’ہم پر لاپتہ طیارے مسافروں کے لواحقین اور دوستوں کا قرض ہے کہ ہم جو کچھ کر سکتے ہیں وہ کریں تاکہ یہ معمہ حل ہو جائے۔‘

جمعرات کوامکان ظاہر کیا گیا تھا کہ آسٹریلوی سیٹیلائٹ سے لی گئی تصاویر میں جنوبی بحرِ ہند میں نظر آنے والے ملبے کا تعلق شاید ملائیشیا کے لاپتہ طیارے سے ہو۔ لاپتہ جہاز کی تلاش آسٹریلوی ساحلی شہر پرتھ کے جنوب مغرب میں تقریباً 2500 کلو میٹر کے فاصلے پر کی جا رہے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سمندر کے اس حصے میں تلاش کا عمل انتہائی مشکل اور خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

جمعرات کو ملائیشیا کے قائمقام وزیرِ ٹرانسپورٹ ہشام الدین حسین نے کہا تھا کہ سیٹیلائٹ سے لی گئی تصاویر میں نظر آنے والا ملبہ ممکنہ طور پر لاپتہ طیارے کی طرف ’مصدقہ نشاندہی‘ کر سکتا ہے۔

ملائیشیا کا کہنا ہے کہ جہاز کا راستہ دانستہ تبدیل کیا گیا تھا اور اب دنیا کے 26 ممالک اس جہاز کی تلاش میں مصروف ہیں اور اسے وسط ایشیا میں قزاقستان سے لے کر جنوب میں بحرِ ہند تک ڈھونڈا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں