فرانسیسی سیٹلائٹ کی تصاویر سے ’ملبے کے ممکنہ شواہد‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آسٹریلیا اس سرچ آپریشن کی سربراہی کر رہا ہے

ملائیشیا کا کہنا ہے کہ فرانس نے اسے لاپتہ بوئنگ 777 طیارے کے ’ممکنہ ملبے‘ کی نئی تصاویر بھیجی ہیں جو سیٹلائٹ سے لی گئی ہیں۔

ان تصاویر میں بحرِ ہند کے جنوبی حصے میں جہاز کے ملبے سے ملتی جلتی اشیا نظر آ رہی ہیں جن کا ممکنہ طور پر تعلق لاپتہ طیارے سے ہو سکتا ہے۔

یاد رہے کہ دو ہفتے قبل لاپتہ ہونے والے ملائیشیا کے مسافر طیارے کی جنوبی بحرِ ہند کے علاقے میں تلاش کا عمل چوتھے دن میں داخل ہوگیا ہے۔

چین کی طرف سے لاپتہ طیارے ایم ایچ 370 کے ممکنہ ملبے کی تصاویر جاری ہونے کے بعد طیارے کو تلاش کرنے کے لیے اتوار کو جنوبی بحرِ ہند کے وسیع علاقے میں آٹھ طیاروں کو بھیجا گیا ہے۔

ان طیاروں میں چار سویلین ایک امریکی پی ایٹ شامل ہیں۔ چین کے دو فوجی طیارے بھی بین الاقوامی سطح پر ہونے والی تلاش میں حصہ لینے کے لیے آسٹریلیا کے شہر پرتھ پہنچے ہیں لیکن انھیں ابھی تک تلاش کے لیے نہیں بھیجا گیا۔ جاپان بھی دو پی تھری اوریئنز بھیج رہا ہے۔

آسٹریلیا اس سرچ آپریشن کی سربراہی کر رہا ہے اور اس نے کہا ہے کہ وہ لکھڑی کے ایک بڑے تختے کو ڈھونڈ رہا ہے۔

اس علاقے میں سمندر میں تیرتی اشیا اور سنیچر کو لکڑی کے ایک ٹکڑے کی دریافت نے ان امیدوں میں اضافہ کر دیا ہے کہ جہاز کا ملبہ ممکنہ طور پر اسی علاقے میں ہو سکتا ہے۔

آسٹریلیا کے بحریہ میں آپریشن کوارڈینیٹر مائک بارٹن نے نظر آنے والے ملبے کے بارے میں کہا کہ’اس میں ایک لکھڑی کا ٹکڑا ہے جس کے اردگرد مختلف رنگ اور سائزکے بیلٹ اور کچھ دیگر اشیا ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ’ہم نے اسے کل دوبارہ ڈھونڈنے کی کوشش کی، نیوزی کا ایک طیارہ اسے تلاش کر رہا تھا لیکن بدقسمتی سے یہ اسے نہیں ملا۔‘

ملائیشیا ایئر لائنز کا یہ مسافر طیارہ گذشتہ 15 دنوں سے لاپتہ ہے۔

اس طیارے پر 239 افراد سوار تھے جن میں اکثریت چینی مسافروں کی تھی۔

چین نے ملائیشیا پر لاپتہ طیارے کے معاملے سے نمٹنے پر تنقید بھی کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption آسٹریلیا کے شہر پرتھ میں ایک جاپانی طیارے کا عملہ تلاش کے مشن میں مدد دینے کے لیے تیار کھڑا ہے
تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption HMAS کیپٹن ایلسن نورس کی سربراہی میں پہلا جہاز ہے جو تلاش کے کام میں مدد دینے کے لیے اس قدر دور پہنچا ہے
تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption تلاش کی اس مسلسل جدوجہد کے دوران لاپتہ طیارے کے مسافروں کے لواحقین کے لیے انتظار کی گھڑیاں جیسے ایک ناختم ہونے والا ایک سلسلہ ہے

ملائیشیا کا کہنا ہے کہ جہاز کا راستہ دانستہ تبدیل کیا گیا تھا اور اب اس کی تلاش آسٹریلوی ساحلی شہر پرتھ کے جنوب مغرب میں تقریباً 2500 کلو میٹر کے فاصلے پر 23000 کلو میٹر کے علاقے میں کی جا رہی ہیں۔

جنوبی بحرِ ہند میں سیٹیلائٹ سے لی گئی تصاویر میں ملبہ نظر آنے کی وجہ سے امید پیدا ہو گئی ہے کہ لاپتہ طیارہ وہاں ہو سکتا ہے اس لیے جنوبی بحرِ ہند بین الاقوامی سطح پر کی جانے والی تلاش کا مرکز بنا ہوا ہے۔

آسٹریلیا کا بحری جہاز ایچ ایم اے ایس سکسیس واحد جہاز ہے جو اس علاقے میں موجود ہے جو ضرورت پڑنے پر بڑے سے بڑا ملبہ بھی اٹھا سکتا ہے۔ امریکہ، برطانیہ، چین اور دیگر ممالک کے بحری جہاز اس علاقے تک پہنچنے کے لیے سفر میں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption نیوزی لینڈ کا اورئین طیارہ ایک لمبے مشن کے بعد واپس پرتھ پہنچ رہا ہے
تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption 26 ممالک جن میں سے اکثر کی بحری اور فضائی افواج اس مشن میں مدد دے رہی ہیں
تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption طیارے کی تلاش کے لیے ان دنوں بحرِ ہند میں مختلف ممالک کے طیارے اور بحری جہاز کام کر رہے ہیں

چین نے سنیچر کو جو جنوبی بحرِ ہند میں تیرتے ہوئے ملبے کی سیٹیلائٹ تصاویر جاری کی تھیں جس کے بارے میں شبہ ہے کہ یہ گمشدہ طیارے کے ہو سکتے ہیں جو 8 مارچ کو لاپتہ ہو گیا تھا۔

چینی ٹی وی چینل سی سی ٹی وی پر تازہ ترین موصلاتی تصاویر دکھائی گئیں جو ’گاؤفین 1 نامی ہائی ریزولوشن موصلاتی سیارے‘ سے لی گئی تھیں جو چین کی قومی خلائی انتظامیہ کا ہے۔

آسٹریلیا کے وزیرِاعظم ٹونی ایبٹ نے ان تصاویر کو حوصلہ افزا قرار دیا گیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ’ظاہر ہے اب ہمارے پاس کچھ مصدقہ معلومات ہیں اور ہماری امید بڑھتی جا رہی ہے۔ لیکن یہ صرف امید ہی ہے کہ ہم اس بدقسمت طیارے کو دریافت کرنے کے لیے صحیح راستے پر ہیں۔‘

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سمندر کے اس حصے میں تلاش کا عمل انتہائی مشکل اور خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

اسی بارے میں