ایم ایچ 370 کی تلاش: کب کیا ہوا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

تین ہفتے تک دن رات تلاش کے بعد ملائیشیا کے وزیر اعظم نے منگل کو کہا ہے کہ لاپتہ مسافر طیارہ ایم ایچ 370 بحر ہند میں گر کر تباہ ہوگیا تھا۔ انہوں نے برطانوی سائنسدانوں اور سیٹلائٹ انمارسیٹ کے ڈیٹا کے نئے تجزیوں کی بنیاد پر یہ معلومات دیں۔

آئیے جانتے ہیں کہ طیارے کے لاپتہ ہونے کے بعد سے اس کی تباہی کے اعلان تک کب کیا ہوا۔

8 مارچ

ملائیشیا ایئر لائنز کے طیارے ایم ایچ 370 نے مقامی وقت کے مطابق رات 12 بج کر 41 منٹ پر بجے کوالالمپور سے بیجنگ کے لیے پرواز بھری اور اسے صبح 6.30 بجے کے آس پاس منزل پر پہنچنا تھا۔

طیارے پر 227 مسافر اور عملے کے 12 اراکین سوار تھے۔

طیارے کے شریک پائلٹ نے ایئر ٹریفک کنٹرولر کو ایک بج کر 19 منٹ پر پیغام دیا ’آل رائٹ، گڈ نائٹ‘۔

فوجی ریڈار پر اس طیارے کو آخری بار رات دو بج کر 14 منٹ پر دیکھا گیا۔ طیارہ اس وقت اپنے مقررہ راستے سے ہٹ کر آبنائے ملاكا میں مغرب کی طرف بڑھ رہا تھا۔ اس کے آدھے گھنٹے بعد ملائیشیا ایئر لائنز نے کہا کہ طیارے سے رابطہ ٹوٹ گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چین اور آسٹریلیا کے طیاروں کو علاقے میں کئی اشیا نظر آئیں

حکام نے بتایا کہ طیارے میں دو ایسے بھی مسافر سوار تھے ہیں جن کے پاس چوری شدہ پاسپورٹ تھے۔ اس سے شک پیدا ہوا کہ طیارے کے لاپتہ ہونے کے پیچھے شدت پسندوں کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔

9 مارچ

ملائیشیا کے وزیرِ ٹرانسپورٹ نے کہا کہ امکان ہے کہ لاپتہ ہونے والا مسافر طیارہ فنی خرابی کے باعث واپس مڑا ہو۔

ویت نام کے ایک جہاز کو سمندر میں کچھ ملبہ نظر آیا لیکن کچھ نہیں ملا۔

10 مارچ

چین نے ملائیشیا سے کہا کہ لاپتہ ہونے والے مسافر طیارے کے لیے تلاش کے عمل کو تیز کیا جائے۔

11 مارچ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جنوبی بحر ہند میں بہت سے ہوائی اور بحری جہاز لکڑی کے تختوں اور ملبے کی تلاش میں لگے رہے۔

لاپتہ طیارے کی تلاش کا دائرہ 115 بحری میلوں تک بڑھا دیا گیا اور کئی ممالک کے کل 34 طیارے اور 40 بحری جہاز لاپتہ طیارے کی مصروف رہے۔

ملائیشیا کی فوج نے ریڈار سگنل کی بنیاد پر دعوی کیا کہ لاپتہ طیارہ راستہ بدل کر آبنائے ملاكا کی طرف گیا۔ یہ سمجھا گیا کہ جہاز بہت نیچے اڑ رہا تھا۔

ملائیشیا پولیس نے بتایا کہ چوری کے پاسپورٹ کے ذریعہ اس طیارے میں سوار ہونے والے دو مرد مسافر ایران کے شہری ہیں جنہوں نے یورپ کے ٹکٹ خریدے تھے لیکن وہ ممکنہ شدت پسند نہیں ہیں۔

12 مارچ

چین کی خبر رساں ایجنسی زنہوا نے خبر دی کہ چین کے سیٹلائٹ سے ملی تصاویر سے پتہ چلا ہے کہ لاپتہ طیارے کا ممکنہ ملبہ ویت نام کے جنوبی سرے میں سمندر میں تیرتا ہوا نظر آیا ہے۔

13 مارچ

ملائیشیا کے حکام نے لاپتہ طیارے کی تلاش کا دائرہ جزائر انڈیمان اور مزید آگے تک بڑھایا لیکن وہاں کچھ نہیں ملا۔ بعد میں چین کے سفارت خانے کی طرف سے کہا گیا کہ تصاویر غلطی سے جاری کر دی گئی تھیں اور ان میں لاپتہ طیارے کا کہیں کوئی ملبہ نظر نہیں آیا۔

14 مارچ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ملائیشیا کے وزیراعظم نجیب رزاق نے کہا کہ لاپتہ طیارے کا راستہ جان بوجھ کر تبدیل کیا گیا

بی بی سی کو معلومات ملیں کہ ممکن ہے کہ لاپتہ ہونے والا ملائیشین مسافر طیارہ غائب ہونے کے بعد بھی پانچ گھنٹے سے زیادہ عرصے تک محوِ پرواز رہا ہو۔ یہ مانا گیا کہ ریڈار سے رابطہ ٹوٹنے کے بہت دیر بعد تک طیارہ ایک سیٹیلائٹ نظام کو خودکار طریقے سے سگنل بھیج رہا تھا۔

15 مارچ

ملائیشیا کے وزیراعظم نجیب رزاق نے کہا کہ لاپتہ طیارے کا راستہ جان بوجھ کر تبدیل کیا گیا تھا اور ریڈار سے رابطہ ٹوٹنے کے سات گھنٹے بعد تک یہ طیارہ محوِ پرواز تھا۔ انھوں نے یہ بھی کہا جنوبی چینی سمندر میں طیارے کی تلاش ختم کی جا رہی ہے اور اب تلاش کے دو ممکنہ علاقے ہیں، ایک شمالی راہداری جو قزاقستان اور ترکمانستان سے شمالی تھائی لینڈ تک محیط ہے اور جنوبی راہداری جو انڈونیشیا سے جنوبی بحر ہند تک پھیلی ہوئی ہے۔

16 مارچ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption طیارے کی تلاش میں 25 ممالک نے حصہ لیا

لاپتہ طیارے کی تلاش کا دائرہ 11 ملکوں تک بڑھا دیا گیا اور طیارے کی تلاش میں مصروف ممالک کی تعداد 14 سے بڑھ کر 25 ہوگئی۔ ملائیشیا نے وزیرِ ٹرانسپورٹ نے کہا کہ تلاشی کا پہلے سے پیچیدہ عمل اب مزید مشکل ہوگیا ہے۔

17 مارچ

ملائیشیا کے حکام نے کہا کہ لاپتہ طیارے کی مواصلاتی نظام کو بند کیا گیا تھا۔ تفتیش کاروں نے جہاز کے اغوا یا پائلٹ کی طرف سے خود کشی کرنے کی کوشش کے خدشات سے انکار نہیں کیا اور کہا کہ وہ اس طیارے میں تمام لوگوں کے پس منظر کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

18 مارچ

تھائی لینڈ کی فوج نے کہا کہ اسے اپنے ریڈار پر کچھ ایسا نظر آیا تھا جو ہو سکتا ہے کہ لاپتہ جہاز رہا ہو۔

لاپتہ طیارے میں سوار چینی مسافروں کے لواحقین نے کہا کہ اگر ملائیشیا کی حکومت طیارے کے بارے میں معلومات فراہم کرنے میں ناکام رہی تو وہ اجتجاجاً بھوک ہڑتال کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مسافروں کے لواحقین کی پریشانی اور بےچینی میں روز بروز اضافہ ہوتا رہا

چین نے ایم ایچ 370 کی عالمی تلاشی مہم کے ساتھ ساتھ چینی حدود میں علیحدہ سے تلاش بھی شروع کر دی۔

مالدیپ کے جزیرے کوداہونوادو کے ایک مقامی کونسلر نے بی بی سی کو بتایا کہ دس افراد نے ایک بڑے طیارے کو اس کے گمشدہ ہونے کے کچھ گھنٹے بعد دیکھنے کی بات کی تھی۔

19 مارچ

مسافروں کے لواحقین کی پریشانی اور بےچینی میں روز بروز اضافہ ہوتا رہا اور چینی مسافروں کے لواحقین کو ایک پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کے سامنے سے گھسیٹ کر دور کر دیا گیا۔

ملائیشیا کے وزیرِ ٹرانسپورٹ نے ان اطلاعات کو مسترد کر دیا کہ لاپتہ ہونے والا طیارہ مالدیپ میں دیکھا گیا تھا۔

20 مارچ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سٹیلائٹ نے جنوب مغربی بحر ِ ہند میں ملبے کے دو حصوں کی نشاندہی کی

آسٹریلیا کے وزیراعظم ٹونی ایبٹ نے کہا کہ سٹیلائٹ نے جنوب مغربی بحر ِ ہند میں ملبے کے دو حصوں کی نشاندہی کی ہے جو ممکنہ طور پر ایم ایچ 370 سے متعلق ہوسکتے ہیں۔ اس ملبے کی تلاش میں چار طیارے بھیجے گئے لیکن انھیں کچھ نہیں ملا۔

21 مارچ

چین نے جنوبی بحر ہند میں لاپتہ طیارے کی تلاش کے لیے اپنے تین جنگی جہاز بھیجنے کا اعلان کیا۔

22 مارچ

ملائیشیا کے وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا کہ چینی سیٹلائٹ کو جنوبی بحر ہند میں ملبے جیسا کچھ نظر آیا ہے جس کی تلاش شروع کی گئی۔

23 مارچ

جنوبی بحر ہند میں بہت سے ہوائی اور بحری جہاز لکڑی کے تختوں اور ملبے کی تلاش میں لگے رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

معلومات کی کمی کی شکایت کے ساتھ، لاپتہ طیارے میں سوار مسافروں کے اہل خانہ کے غصے میں اضافہ ہوا

فرانس نے بھی کہا کہ اس کے سیٹلائٹ سے ملی تصاویر سے جنوبی بحرِ ہند میں کچھ ملبہ دکھائی دیا ہے۔

24 مارچ

چین اور آسٹریلیا کے طیاروں کو علاقے میں کئی اشیا نظر آئیں تاہم ملائیشیا کے وزیراعظم نجیب رزاق نے برطانوی ایئر ایکسیڈنٹ اینڈ انویسٹیگیشن برانچ اور انمار سیٹ سیٹلائٹ سے حاصل کردہ تازہ مواد کے حوالے سے کہا کہ لاپتہ طیارے کا سفر جنوبی بحر ہند میں ختم ہوا تھا اور اس حادثے میں کوئی زندہ نہیں بچا۔

اسی بارے میں