کرائمیا: روسی فوج کا یوکرین بحری اڈے پر قبضہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption روسی فوجیوں نے کرائمیا کے علاقے میں یوکرین کے ایک بحری اڈے فیودوسیا پر قبضہ کر لیا ہے

یوکرین کے حکام نے بتایا ہے کہ روسی فوجیوں نے کرائمیا کے علاقے میں ان کے ایک بحری اڈے فیودوسیا پر قبضہ کر لیا ہے اور یہ 48 گھنٹے میں ایسا تیسرا حملہ ہے۔

یوکرین کے وزیر دفاع ولادی سلیو سیلزنیوو نے بی بی سی کو بتایا کہ روسیوں نے بحریہ کے اڈے پر دو طرف سے حملہ کیا جس میں انھوں نے خودکار اسلحے اور گرینیڈز کا استعمال کیا۔

انھوں نے کہا کہ روسی فوجیوں نے یوکرین کے فوجیوں کو گھیر لیا اور ان کے افسروں کے ہاتھ باندھ دیے۔

واضح رہے کہ روس نے کرائمیا میں یوکرین کے زیادہ تر فوجی اڈوں پر قبضہ کرلیا ہے اور وہ اس خطے میں اپنی گرفت مضبوط کرتا جا رہا ہے۔

فیودوسیا اڈے کے ایک فوجی نے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ وہاں گولی باری ہوئی ہے اور اس بات کی تصدیق بھی کی کہ بحریہ کے اڈے کو قبضے میں لے لیاگیا ہے۔

کرائمیا کے دارالحکومت سمفروپولو میں بی بی سی کے نمائندے مارک لوین نے بتایا کہ کرائمیا میں فیودوسیا کا بحری اڈہ ان آخری فوجی اڈوں میں شامل تھا جو کیئف کے کنٹرول میں تھا لیکن پچھلے کچھ دنوں سے اسے روسی فوجیوں نے محاصرے میں لے رکھا تھا۔

اس سے قبل جمعے کی رات کو دو دوسرے فوجی اڈوں پر حملہ کیا گیا اور انھیں قبضے میں لے لیا گيا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption گذشتہ دنوں روس حامی کرائمیا کے فوجیوں نے یوکرین کے تقریبا تمام ملیٹری اڈوں پر قبضہ کر لیا ہے

اس سے قبل انٹرفیکس نیوز ایجنسی نے خبر دی تھی کہ کرائمیا میں یوکرین کی 189 ملیٹری اکائیوں اور فیسیلیٹیز پر روسی پرچم لہرائے گئے تھے۔

دوسری جانب یورپ میں نیٹو ملیٹری کمانڈر نے اتوار کو متنبہ کیا ہے کہ یوکرین کی مشرقی سرحد پر موجود روسی فوج مولڈووا تک آپریشن کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

جبکہ اتوار کی شام سے کرائمیا کے مختلف علاقوں میں بجلی کا نظام متاثر ہوا ہے جسے حکام تکنیکی خرابی قرار دے رہے ہیں۔

اس سے قبل مغربی کرائمیا میں نووہ فروروکا میں سینکڑوں غیر مسلح مظاہرین نے یوکرین کی بحریہ کے ایک اڈے پر قبضہ کر لیا تھا۔

روس حامی مسلح گروہ یوکرین کی بحریہ کے جہاز بھی اپنے قبضے میں لیتے رہے ہیں۔

کرائمیا میں بی بی سی نامہ نگار ایئن پینل کا کہنا ہے کہ یوکرینی فوجی ایسا محسوس کر رہے ہیں کہ جزیرہ نما کرائمیا کو ان کے فوجی افسران نے ان کے حال پر چھوڑ دیا ہے۔

اسی بارے میں