برطانیہ کو اپنی فوج میں اضافے کا مشورہ

Image caption سنہ 2010 کے دفاعی تجزیے میں حکومت نے سنہ 2020 تک جرمنی سے اپنے تمام 20 ہزار فوجی واپس بلانے کا اعلان کیا تھا

برطانوی فوج کے سابق سربراہ نے کہا ہے کہ شام اور یوکرین میں کشیدگی کو مدِنظر رکھتے ہوئے برطانیہ کو مزید فوجی بھرتی کرنے چاہیے اور جرمنی میں اپنے تین ہزار فوجیوں کو برقرار رکھنا چاہیے۔

لارڈ ڈاناٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ فوجی کی تعداد میں اضافے سے ظاہر ہو جائے گا کہ برطانیہ ’دفاع اور سکیورٹی کے معاملات کو سنجیدگی سے لیتا ہے۔‘

ملک کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ وہ فوج میں تبدیلی لانا چاہتی ہے۔حکومت اپنے موجودہ منصوبے کے تحت سنہ 2018 فوج کو 102000 سے کم کرکے 82000 پر لانا چاہتی ہے۔ جب کہ اس دوران جز وقتی طور پر کام کرنے والے فوجیوں کی تعداد 15 ہزار سے 30 ہزار پر پہنچ جائے گی۔

سنہ 2006 سے سنہ 2008 تک برطانوی فوج کے سابق سربراہ کے عہدے پر کام کرنے والے لارڈ ڈاناٹ نے کہا کہ’دنیا میں سٹریٹیجک حالات بدل گئے ہیں۔ اور ہمیں اپنے فوج میں کمی کرنے کے عمل کو روک کرکے فوج کی تعدا میں معمولی اضافہ کرنا چاہیے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ’اس سے یہ پیغام جائے گی کہ ہم اپنی دفاع اور سکیورٹی کے معاملات کو سنجیدگی سے لیتے ہیں اور روسی صدر ولادی میر پوتن کو مزید مہم جوئی پر غور کرنے سے پہلے دو دفعہ سوچنا چاہیے۔‘

جرمنی میں گذشتہ 70 سال سے برطانوی فوجی تعینات ہیں۔ لارڈ ڈاناٹ نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ جرمنی سے اپنی فوج بلانے کے فیصلے پر نظرثانی کرے۔

سنہ 2010 کے دفاعی تجزیے میں حکومت نے سنہ 2020 تک جرمنی سے اپنے تمام 20 ہزار فوجی اور کے خاندانوں کو واپس بلانے کا اعلان کیا تھا۔

کرائمیا میں روسی فوج کی آمد پر نیٹو کے خدشات پر لارڈ ڈاناٹ نے کہا کہ مغربی ممالک کے پیغام بھیجنے کے پیچھے طاقت ہونی چاہیے۔

انھوں نے برطانوی فوج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ’بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ برطانیہ کے لیے 82000 فوج بہت کم ہے اور یقیناً میں بھی ان لوگوں میں شامل ہوں۔‘

ان کا موقف تھا کہ’ مزید فوج بھرتی کرنے سے پوتن اور دوسرں کو یہ پیغام ملےگا کہ سفارت کاری اور معاشی پابندیاں ایک عمل ہے لیکن ہمارے پیغام کے پیچھے طاقت ہے۔‘

یورپ میں نیٹو کے کمانڈروں نے کہا ہے کہ یوکرین کی سرحد پر روسی فوج’مناسب تعداد میں ہے اور وہ بالکل تیار ہے۔‘

یورپ کے سپریم کمانڈر جنرل فلپ بریڈلو نے بالخصوص مالدوا کے خطے کو لاحق خطرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

لارڈ ڈاناٹ نے یہ باتیں ایسے وقت میں کہیں ہیں جب امریکی صدر براک اوباما اور دیگر عالمی رہنما ہالینڈ میں ملاقات کرنے والے ہیں جہاں پر وہ یوکرین اور کرائمیا کی صورتِ حال پر بات چیت کریں گے۔

اسی بارے میں