واشنگٹن:مٹی کے تودوں سے تباہی، 14 لاشیں برآمد

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اوسو میں مٹی اور گارے نے چوتھائی مربع میل کے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے

امریکہ کی شمال مغربی ریاست واشنگٹن میں حکام کا کہنا ہے کہ سنیچر کو مٹی کے تودوں تلے دبنے والے ایک گاؤں کی نصف سے زیادہ آبادی اب بھی لاپتہ ہے۔

حالیہ مردم شماری کے مطابق سیاٹل سے 90 کلومیٹر دور واقع اوسو نامی اس گاؤں میں 180 افراد رہائش پذیر تھے اور امدادی کارکن اب بھی ان میں سے 100 سے زیادہ افراد کو تلاش کر رہے ہیں۔

مٹی کے 177 فٹ اونچے تودوں نے اس گاؤں کے 30 مکانات کو تباہ کر دیا اور امدادی کارکنوں نے ملبے سے اب تک 14 لاشیں برآمد کر لی ہیں۔

حکام نے اس حادثے کی وجہ حالیہ تیز بارشوں کو قرار دیا ہے اور اس میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں سے ایک 81 سالہ شخص اور ایک شیرخوار بچے کی حالت نازک ہے۔

حکام کا خیال ہے کہ کئی لاپتہ افراد مٹی اور گارے کی پانچ میٹر موٹی تہہ تلے اپنی گاڑیوں میں بھی پھنسے ہو سکتے ہیں لیکن ان افراد کو زندہ نکالنے کے امکانات ہر گزرتے لمحے کے ساتھ معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔

امدادی سرگرمیوں کے انچارج جان پیننگٹن نے کہا ہے کہ اگرچہ 108 افراد لاپتہ ہیں لیکن ہم اسے زخمی ہونے یا مرنے والوں کی تعداد قرار نہیں دے سکتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ na
Image caption مٹی کے 177 فٹ اونچے تودوں نے اس گاؤں کے 30 مکانات کو تباہ کر دیا

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ ’108 کی تعداد حتمی نہیں تاہم ہمیں اس ملبے سے اب تک کوئی زندہ نہیں ملا ہے۔‘

آگ بجھانے کے مقامی عملے کے سربراہ ٹریویس ہوٹس نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’حالات بہت نازک ہیں۔‘

اوسو میں مٹی اور گارے نے چوتھائی مربع میل کے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ ایک عینی شاہد نے مقامی اخبار کو بتایا کہ جب تودے گرے تو وہ گاڑی چلا رہے تھے اور انہیں گارے سے بچنے کے لیے اچانک بریک لگانی پڑی۔

پاؤلو فالکو کا کہنا تھا کہ ’مجھے سڑک پر اندھیرا سا چھاتا ہوا محسوس ہوا اور سب کچھ تین سیکنڈ میں ختم ہوگیا۔‘

ایک اور عینی شاہد رابن ینگ بلڈ نے سیاٹل ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اچانک وہاں کیچڑ کی ایک دیوار تھا اور پھر ہم لڑھکنے لگے۔ ہمارا مکان ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا اور ہم ملبے تلے دب گئے اور ہم نے پھر مٹی کھود کر خود کو باہر نکالا۔‘

اسی بارے میں