عرب اتنے بٹے ہوئے کبھی نہ تھے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عرب لیگ گذشتہ دہائیوں سے مشترکہ ایجنڈا بنانے میں ناکام چلی آرہی ہے

عرب دنیا کے لوگ اب اپنے رہنماؤں کے بلند و بانگ دعوؤں کے عادی ہو چکے ہیں اور پچیس مارچ سے کویت میں شروع ہونے والی دو روزہ عرب کانفرنس سے بھی انھیں کوئی خاص توقعات نہیں ہیں۔

بلکہ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کے اس مرتبہ ان کی توقعات ماضی سے بھی کم ہیں۔

ماضی کے عرب سربراہ اجلاسوں کی طرح اس کانفرنس کا انعقاد بھی عرب لیگ ہی کر رہی ہے جسے ستر برس پہلے اس مقصد کے لیے بنایا گیا تھا کہ یہ باہمی کوششوں کے ذریعے ’رکن ممالک کے درمیان قریبی تعاون‘ کو فروغ دے گی۔ستر سال پہلے جب عرب ممالک نوآبادیاتی نظام سے آزادی پا رہے تھے تو توقع یہی تھی کہ رکن ممالک محض تعاون پر اکتفا نہیں کریں گے بلکہ عرب لیگ خطے میں بہت بڑی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔

لاکھوں عرب عوام کا خواب تھا کہ برطانوی اور فرانسیسی نوآبادیاتی آقاؤں کی بنائی ہوئی سرحدیں گرا دی جائیں گی اور مغرب میں مراکش سے لیکر مشرق کی خلیجی ریاستوں تک پھیلی ہوئی عرب دنیا میں اتحاد کا بول بالا ہوگا۔

عوام کا یہ خواب کچھ اتنا غلط بھی نہ تھا کیونکہ انھیں لگتا تھا کہ جوان قیادت کے ہوتے ہوئے عرب اتحاد کے تمام مطلوبہ اجزا ان کے ہاں موجود تھے: ایک ہی مذہب، زبان، تاریخ اور مشترکہ تہذیب سب کچھ تو تھا۔ اور سب سے بڑھ کر یہ خواب کہ عرب اپنی عظمت رفتہ کو ایک مرتبہ پھر حاصل کر سکتے ہیں۔

لیکن آج یہ خواب دیکھنے والوں کی تعداد مٹھی بھر دیوانوں سے زیادہ نہیں ہے۔ گذشتہ نصف صدی سے زیادہ عرصے کے دوران حکومتوں کی باہمی مخاصمت، مختلف ممالک کی آپس میں کشمکش اور جنگوں کے بعد عرب عوام کی اکثریت عرب اتحاد کے خواب کو دفن کر چکی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’عرب سپرنگ‘ سے بہت سے عرب عوام کو بہتری کی امید بندھ گئی تھی

سنہ 2011 میں ’عرب بہار‘ سے ایک مرتبہ پھر لوگوں کی امید بندھ گئی تھی، عرب اتحاد کی امید نہ سہی لیکن لوگوں کو لگا کہ ان کی مقبول عوامی توقعات پوری ہونے جا رہی ہیں۔ آمر حکمرانوں کا تختہ الٹے کی شدید خواہش کے پیچھے بھی سب سے بڑا جذبہ اپنی عزت نفس کی بحالی کا تھا۔

عوام جانتے تھے کہ ان کے نئے حکمران نوآبادیاتی دور کی سرحدوں کو تو نہیں گرا سکیں گے، لیکن وہ اتنی خواہش ضرور رکھتے تھے کہ نئی حکومتیں کم از کم خطے کو درپیش چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کریں گی اور یوں عرب دنیا اپنے مشترکہ مقاصد حاصل کر لے گی۔۔۔ اسرائیل، فلسطینیوں کی حالت زار، دولت کی غیر مساوی تقسیم، نوجوانوں میں بے روزگاری، ایک ناکام ہوتا ہوا تعلیمی نظام، عرب ممالک کی ایک دوسرے کے ہاں سرمایا کاری، وغیرہ، وغیرہ۔

لیکن ایک مرتبہ پھر عرب عوام کو اپنے خوابوں اور حقیقت کے درمیان ایک بہت بڑی خلیج دیکھنے کو ملی اور ان کی چھوٹی چھوٹی توقعات بھی پوری ہوتی نظر نہ آئیں۔

میں گذشتہ چالیس برس سے مشرق وسطیٰ سے خبریں بھیج رہا ہوں، لیکن میں نے اس سے پہلے عرب دنیا کو اتنا منقسم اور ٹوٹا پھوٹا کبھی نہیں پایا جتنی یہ مجھے آج نظر آ رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption شام میں جاری تنازعے سے عربوں کے باہمی تنازعات میں اضافہ ہو گیا ہے

عرب ممالک نظریاتی اور فرقہ وارانہ تفرقات کے ایک ایسے پیچیدہ جال میں پھنس چکے ہیں جس کا سِرا سجھائی نہیں دیتا۔

باہمی کشمکش اور تفرقات سے پُر اس تناظر کو مد نظر رکھیں تو ہمیں حیرت ہی ہوگی اگر عرب ممالک کے سربراہان مملکت کویت میں آج سے شروع ہونے والی کانفرنس کے بارے میں زیادہ پرجوش نظر آئیں۔

’عرب اتحاد‘ کے ایجنڈے کو مذاکرات کی میز سے غائب ہوئے برسوں بیت چکے۔ آج تو ممکنہ علاقائی تعاون پر معنی خیز مذاکرات بھی ایک خواب ہی دکھائی دیتے ہیں۔

اسی بارے میں