نوروز پر ایرانی دبئی کھنچے چلے آتے ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption امارات میں تقریباً چار لاکھ ایرانی مقیم ہیں

ہر سال مارچ میں نوروز کے آتے ہی متحدہ عرب امارات میں ایرانی کمیونٹی کی تعداد میں ہزاروں کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ وہ ہزاروں ایرانی ہیں جو نئے سال کی تقریبات منانے امارات پہنچ جاتے ہیں۔

اگرچہ ایران کے خلاف بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے ان لوگوں کی تعداد میں حالیہ برسوں میں کمی آئی ہے لیکن دبئی آئے ہوئے ایرانیوں نے بی بی سی کے مارکس جارج کو بتایا کہ اچھے دن لوٹ رہے ہیں۔

رات ایرانی پاپ موسیقی کی پرشور آواز سےگونج رہی تھی اور جدید فیشن سے لیس جوان ایرانی لڑکے اور لڑکیاں نوروز کی آمد کا جشن منا رہے تھے۔ وہ ایک ایسے طرز زندگی سے لطف اندوز ہو رہے تھے جس پر ان کے ملک میں پابندی ہے۔

یہ منظر ہے دبئی کے جگمگاتے ہوئے ساحل پر واقع ایک اوپن ایئر کلب کا۔

اور یہ منظر صرف اسی کلب تک محدود نہیں بلکہ دبئی میں ان دنوں ایسے کئی میوزک کانسرٹ اور پارٹیاں ہو رہی ہیں جہاں آپ کو ایران کی سخت معاشرتی پابندیوں سے کچھ دنوں کے لیے فرار ہونے والے ایرانی نظر آئیں گے۔

’میں خود کو اتنا آزاد محسوس کر رہی ہوں۔ یہ زبردست ہے۔‘ یہ الفاظ ہیں شیراز سے تعلق رکھنے والی چھبیس سالہ مہناز کے۔

ایک چست سیاہ ڈریس اور اونچی ایڑھی پہنے ہوئے مہناز اپنے دوستوں کے ساتھ ڈانس کر رہی تھی اور کلب کی موسیقی سے بھرپور فضا کو مذید مہکا رہی تھی۔

اس پارٹی میں آئی ہوئی ایرانی لڑکیوں میں شاید ہی کسی لڑکی نے وہ سکارف لیا ہوا ہو جس کے بغیر آپ ایران میں گھر سے باہر نہیں نکل سکتے۔

نوروز بہار کی آمد کی علامت ہے، سال کے وہ دن جب ایرانی لوگ ایک نئی صبح کا آْغاز کرتے ہیں۔

گذشتہ سال ایرانی عوام کے لیے تبدیلی کا سال ثابت ہوا۔ شاید اسی لیے ایرانیوں کو امید ہے کہ ان کی زندگی مذید بہتر ہونے جا رہی ہے کیونکہ وہ بُرے ترین حالات دیکھ چکے ہیں اور آنے والے دن ماضی سے زیادہ بُرے نہیں ہو سکتے۔

محمود احمدی نژاد کے آٹھ سالہ سخت دور حکومت کے بعد گذشتہ سال صدر حسن روحانی کے انتخاب نے لوگوں کو امید دی کہ اب مغرب اور ایران کے درمیان تناؤ کم ہو جائے گا۔

’مجھے نفرت ہے احمدی نژاد سے۔ وہ بالکل ہی غلط راستے پر چل نکلے تھے اور انھوں نے بہت لوگوں کو ناخوش کر دیا۔‘ مہناز نے بڑے پرجوش انداز میں کہا۔

’لیکن پچھلے سال کے الیکشن ہمارے لیے بہت اچھا قدم تھے۔‘

صاف ظاہر ہے کہ صدر روحانی سے جو توقعات وابسطہ کی جا رہی ہیں وہ تمام حقیقت پر مبنی نہیں کیونکہ احمدی نژاد سے پہلے لوگ اصلاحات پسند محمد خاتمی کے آٹھ سال دیکھ چکے ہیں جن کے دوران کوئی بڑی تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی تھی۔

اور اس پر یہ کہ ایران کو اصرار ہے کہ وہ اپنا جوہری پروگرام جاری رکھنے کا حق استعمال کرے گا۔

اصفہان سے تین دن کے لیے دبئی آئے ہوئے ستائیس سالہ میلاد کا اس بارے میں کہنا تھا کہ ’ میرے ملک میں کچھ لوگوں کے پاس خوراک خریدنے کے پیسے نہیں ہیں، جبکہ میری حکومت کہتی ہے کہ ہمارے لیے جوہری توانائی حاصل کرنا زیادہ ضروری ہے۔‘

میلاد بہت سے دوسرے ایرانی نوجوانوں کی طرح دبئی کے سستے ترین ہوٹل میں قیام کر رہا ہے۔ اس کی کوشش ہے کہ ایران سے باہر کسی ملک میں قیام کرے۔

’ایران میں زندگی بہت مشکل ہے۔ بے شمار لوگوں کے پاس کوئی پیسہ ہے نہ کوئی سہولت۔ ہم اپنے ملک میں ترقی دیکھنا چاہتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption صدر روحانی ایران پر لگائی گئی سخت پابندیوں میں کچھ کمی کرانے میں کامیاب ہوئے ہیں

ہر سال، وہ ایرانی جن کے پاس ملک سے باہر چھٹیاں گزارنے کے لیے درکار مالی وسائل ہیں، وہ نوروز کے دنوں میں متحدہ امارات کا رخ کرتے ہیں۔ امارات میں مستقل سکونت اختیار کرنے والے ایرانیوں کی تعداد چار لاکھ ہے۔

جو چیز نوروز پر آئے ہوئے ایرانیوں کو یہاں کھینچ لاتی ہے وہ دبئی میں ایرانی پاپ موسیقی کے کانسرٹ اور پارٹیاں ہیں۔

لیکن سنہ 2011 کے مقابلے میں ایرانی ریال کی قیمت ایک تہائی تک گِر چکی ہے اور ایران کی بیمار معیشت میں کوئی بہتری نہ ہونے کی وجہ سے ہر سال دبئی آنے والے ایرانی نوجوانوں کی تعداد میں کمی آتی جا رہی ہے۔ اس سال یہاں آنے والوں کی تعداد گذ؛شتہ چند سالوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔

لگتا ہے ایرانیوں کے لیے اب دبئی بھی بہت مہنگا ہوتا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں