جوہری تحفظ کے لیے قانون سازی کا عالمی عزم

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہم نے جوہری تحفظ کے معاملے میں اپنے رویوں میں ایک کلیدی تبدیلی دیکھی ہے:براک اوباما

جوہری تحفظ کے معاملات پر عالمی سربراہ کانفرنس میں شریک 53 ممالک میں سے 35 نے عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے رہنما اصولوں کی بنیاد پر قانون سازی کا عزم کیا ہے۔

تاہم ہالینڈ کے شہر دی ہیگ میں جوہری سلامتی پر دو روزہ سربراہ اجلاس میں شریک پاکستان، بھارت، چین اور روس جیسی جوہری طاقتوں نےجوہری سلامتی کی اس نئی عالمی کاوش کا حصہ بننے سے گریز کیا ہے۔

منگل کو اجلاس کے اختتام پر جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ جن ممالک نے عالمی رہنما اصولوں کے نفاذ کا وعدہ کیا ہے وہ اپنے غیرجانبدار ماہرین سے اپنے ’جوہری مواد کے تحفظ کے اقدامات کے جائزے‘ پر بھی تیار ہوگئے ہیں۔

بیان کے مطابق یہ 35 ممالک انتہائی افزودہ یورینیم کی مقدار کم سے کم رکھنے پر بھی تیار ہوگئے ہیں۔

اجلاس سے خطاب کے دوران امریکی صدر براک اوباما نے کہا کہ 12 ممالک اور دنیا بھر میں دو درجن جوہری تنصیبات ’انتہائی افزودہ یورینیم اور پلوٹونیم سے چھٹکارا حاصل کر لیں گی‘۔

دو ہزار چودہ کی جوہری سلامتی کی کانفرنس کے اختتام پر اِس غیر معمولی کاوش کے لیے 35 ملکوں کے اتفاقِ رائے کا مقصد، جوہری ہتھیاروں کو دہشتگردوں کے ہاتھ لگنے سے بچانا ہے۔

براک اوباما کا بھی کہنا تھا کہ ’ہم نے جوہری تحفظ کے معاملے میں اپنے رویوں میں ایک کلیدی تبدیلی دیکھی ہے لیکن اب بھی ہمیں ان مقاصد کے لیے حصول کے لیے بہت کام کرنا ہوگا جن کا تعین چار برس قبل کیا گیا تھا تاکہ دنیا میں تمام جوہری اور تابکار مواد کو محفوظ بنایا جا سکے تاکہ وہ خطرہ ثابت نہ ہو سکے۔‘

خیال رہے کہ جوہری مواد کے تحفظ کے یہ رہنما اصول رکن ممالک پر لازم نہیں، لیکن اگر یہ کسی ملک کے قانون کا حصہ بن جائیں تو وہ ملک، ایجنسی کے ان اصولوں پر عمل درآمد کا پابند ہو جاتا ہے۔

پیر کو اسی سربراہ اجلاس سے اپنے خطاب میں پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے کہا تھا کہ جوہری سلامتی سب کی قومی ذمہ داری اور عالمی ترجیح ہونی چاہیے اور پاکستان کا جوہری سلامتی کا نظام جوہری تحفظ، احتساب، سرحدوں پر کنٹرول اور تابکاری کی صورت میں ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا جوہری مواد اور اثاثے محفوظ ہیں اور پاکستان کے جوہری اثاثوں کی حفاظت کے لیے تہہ در تہہ حفاظتی نظام موجود ہے جو کہ اندرونی و بیرونی اور سائبر حملوں سے دفاع کی صلاحیت رکھتا ہے۔‘

پیر کو ہی نواز شریف سے ملاقات کے بعد امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے کہا تھا کہ امریکہ کو پاکستان کے جوہری پروگرام کی حفاظت پر اعتماد ہے۔

اسی بارے میں