’ملائیشیا سچ سچ بتائے کہ کیا ہوا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مسافروں کے لواحقین نے اپنے پیاروں کی موت کا ذمہ دار ملائیشیا کی حکومت اور فضائی کمپنی کو قرار دیا ہے

سترہ دن قبل لاپتہ ہونے والے مسافر طیارے ایم ایچ 370 کے مسافروں اور عملے کے افراد کی یاد میں ملائیشیا اور چین میں دعائیہ تقاریب منعقد کی گئی ہیں۔

یہ دعائیہ تقاریب ملائیشیا کے وزیراعظم نجیب رزاق کی جانب سے طیارے کی تباہی اور اس پر سوار تمام 239 افراد کی ہلاکت کے اعلان کے اگلے ہی دن منعقد ہوئی ہیں۔

اس طیارے کے 227 مسافروں میں سے بیشتر چینی تھے جن کے لواحقین نے منگل کو بیجنگ میں ملائیشیا کے سفارت خانے کے سامنے احتجاج کیا ہے اور ایک بیان میں ملائیشیا پر حقیقت کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے اور حقیقت چھپانے کا الزام عائد کیا ہے۔

احتجاج کے دوران چینی مسافروں کے لواحقین اور سکیورٹی اہل کاروں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔

دو سو کے قریب لواحقین نے ملائیشیا کے سفارت خانے کی طرف مارچ کیا۔ انھوں نے بینر اٹھا رکھے تھے جس پر ملائیشیا کی حکومت کو سچ بولنے کو کہا گیا تھا۔

جب پولیس نے ان کی بسوں کو روکا تو یہ پیدل چل پڑے اور پولیس پر بوتلیں پھینکنا شروع کر دیں۔ اس موقع پر ملائیشیا کے سفارت خانے کی حفاظت کے لیے بھاری تعداد میں پولیس کی نفری تعینات رہی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مسافروں اور عملے کے افراد کی یاد میں ملائیشیا اور چین میں دعائیہ تقاریب منعقد کی گئی ہیں

ملائیشین ایئر لائن کے چیف ایگزیکٹیو افسر احمد جوہری یحییٰ نے منگل کو میڈیا کو بتایا کہ ’ہمیں نہیں معلوم یہ افسوس ناک واقعہ کیسے اور کیوں ہوا۔‘

انھوں نے طیارے کی تباہی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’گذشتہ رات جو اعلان کیا گیا تھا اور جو مسافروں کے لواحقین کو بتایا گیا تھا وہ ایک حقیقیت ہے جسے ہمیں تسلیم کرنا چاہیے۔‘

ملائیشین ایئر لائن کے چیئرمین محمد نور یوسف نے اس صورتِ حال کو’ایک بےمثال واقعہ قرار دیا جسے کے لیے بےمثال اقدامات کی ضرورت ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں جو تحقیقات ہو رہی ہیں وہ طویل اور پیچیدہ ہو سکتی ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’لیکن ہم ہلاک شدگان کے لواحقین کی مدد کرتے رہیں گے۔‘

ادھر آسٹریلیا کے حکام نے جنوبی بحرِ ہند میں خراب موسمی حالات کے باعث طیارہ کے ملبے کی تلاش کا کام چوبیس گھنٹے کے لیے معطل کر دیا ہے۔

آسٹریلیا کی میری ٹائم سیفٹی اتھارٹی نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ اُس نے خراب موسمی حالات میں تلاش کے کام کے جاری رکھنے میں خطرات کا اندازہ لگانے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ موجودہ موسمی حالات میں یہ کام جاری رکھنا تلاش کے کام میں شامل عملے کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔

آسٹریلیا کے وزیر دفاع ڈیوڈ جانٹسن نے کہا ہے کہ تلاش کے کام کے کم از کم آئندہ چوبیس گھنٹوں میں شروع کیے جانے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ ایک بہت بڑا کام ہے اور یہ دنیا کے انتہائی دور افتادہ سمندروں میں کیا جانا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption لاپتہ طیارے کے 227 مسافروں میں سے بیشتر چینی تھے

آسٹریلوی فضائیہ کے وائس چیف مارک بنسکن کا کہنا تھا کہ ’ کسی بھوسے کے ڈھیر میں سوئی تلاش نہیں کر رہے بلکہ ابھی تو بھوسے کے ڈھیر کو تلاش کر رہے ہیں۔‘

آسٹریلیا کی بحریہ کے جہاز ’اوشن شیلڈ‘ کو بھی تلاش کے کام میں لگایا جا رہا ہے۔ اس جہاز پر امریکی ساخت کے ’اکوسٹک ڈیٹیکشن‘ کے جدید ترین آلات نصب ہیں اور اس سے جہاز کے ’بلیک باکس‘ کا کھوج لگانے کی کوشش کی جائے گی۔

اس کے علاوہ چینی بحریہ کے پانچ جہازوں کو بھی اس کام میں شامل کیا جا رہا ہے۔

چین کی حکومت نے اس سیٹیلائٹ ڈیٹا تک رسائی کا مطالبہ بھی کیا ہے جس کی بنیاد پر ملائیشین حکام اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ دو ہفتے قبل لاپتہ ہونے والا ملائیشین ائیرلائنز کا مسافر طیارہ بحرِ ہند میں گر کر تباہ ہوا تھا۔

اسی بارے میں