اٹلی: ’اشارے کنائے خون میں شامل ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption اطالوی تہذیب میں اشاروں کا رواج نیپلز پر یونانیوں کے قبضے کے بعد دیکھنے میں آیا

اٹلی میں سماعت اور گویائی کی صلاحیت سے محروم لوگ عجیب مشکل کا شکار ہیں۔ اس ملک میں اشاروں کی زبان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اور اطالوی لوگ گفتگو میں ہاتھوں سے اشاروں کے اتنے عادی ہیں کہ بہرے لوگ پریشان ہو جاتے ہیں کہ کہنے والا آخر چاہ کیا رہا ہے۔

ہم اٹلی کے کلچر کی بہت سے چیزوں سے بخـوبی واقف ہیں، مثلاً ایسپریسو کافی، جلیٹو آئس کریم، اور سب سے بڑھ کر اطالوی ڈیزائنرز کے تخلیق کردہ مہنگے مردانہ اور زنانہ سوٹ۔ لیکن شاید ہم یہ نہیں جانتے کہ بات کرتے ہوئے اطالوی لوگ اپنے ہاتھوں کا کتنا ’بے دریغ‘ استعمال کرتے ہیں۔ انگوٹھے اور اپنی درمیانی انگلی کو آپس میں رگڑ کے پیسے کی بات مراد لینا ہو، ٹھوڑی پر انگلی مار کے یہ ظاہر کرنا ہو کہ مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے، یا اپنی آنکھ کے نیچے شہادت کی انگلی مار کے یہ ظاہر کرنا ہو کہ آپ دوسرے شخص کی بات سے رضامند ہیں، الغرض اطالویوں کو اشاروں میں بات کرنا بہت اچھا لگتا ہے۔

روم کی یونیورسٹی کی پروفیسر ایزابیلا پوگی نے حال ہی میں ایک تحقیقی مقالہ شائع کیا ہے جس میں انھوں نے دو سو پچاس مختلف اشاوں کی نشاندہی کی ہے جن میں سے کچھ طنز کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور کچھ تقریری انداز میں بات کرنے کے لیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption آنکھ کے نیچے انگلی کا مطلب ہے ’میں آپ سے اتفاق کرتا ہوں‘

سننے کی صلاحیت سے محروم افراد کے لیے بی بی سی کے خصوصی پروگرام میں بات کرتے ہوئے پروفیسر پوگی کا کہنا تھا کہ اطالوی تہذیب میں جتنی اشاروں میں بات کی جاتی ہے اتنی شاید دنیا کے کسی دوسرے کلچر میں نہ ہو۔

’ہمارے ہاں یہ بات یونانی تہذیب سے آئی ہے۔ جب یونانی اٹلی کے جنوبی علاقوں میں پہنچے اور انھوں نے نیپلز پر قبضہ کر لیا تو یہاں کی مقامی آبادی نے یونانیوں کے خوف سے آپس میں اشاروں میں بات کرنا شروع کر دی۔ اور آہستہ آہستہ یہ عادت اطالوی تہذیب کا حصہ بن گئی۔‘

سِسلی سے تعلق رکھنے والے فلم ساز لُوکا والو پرجوش انداز میں اشاروں میں بات کرنے والے اطالوی لوگوں کی ایک بہت اچھی مثال ہیں۔ اشاروں کے موضوع پر اپنی ایک دستاویزی فلم (جسم کی زبان) میں انھوں نے بڑے شد ومد کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ اشارے روز مرہ اطالوی زندگی کا خاص حصہ ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’اگر آپ اٹلی آتے ہیں، تو کسی بھی گلی، مارکیٹ میں کسی چوک میں کھڑے ہو جائیں اور بات کرتے ہوئے لوگوں کے چہروں، ہاتھوں اور باقی جسم کو دیکھیں۔ مجھے لگتا ہے کہ اشارے کرنا ہمارے خون میں شامل ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption اطالوی اشارے: دائیں تصویر میں اشارے کا مطلب ہے آپ کا شکرہ جبکہ بائیں تصویر کا مطلب ہے کیا، کب، اور کیوں

اگرچہ پروفیسر پوگی اور لُوکا والو کے تحقیقی کام کو دنیا میں بہت پذیرائی ملی ہے، لیکن اٹلی میں سماعت سے محروم لوگوں میں سے کچھ کا کہنا ہے کہ انھیں سمجھ نہیں آ رہی کہ اٹلی کی تہذیب میں وہ لوگ کہاں ’فِٹ‘ ہوتے ہیں۔

تاہم اٹلی میں بہرے افراد کے لیے استعمال کی جانے والی اشاروں کی زبان کی ماہر باربرا پناچی کہتی ہیں کہ یہ زبان اٹلی میں ہزارہا لوگ استعمال کرتے ہیں اور اس زبان میں استعمال کیے جانے والے اشاروں کے معنی ان اشاروں سے زیادہ گہرے ہیں جو عام اطالوی استعمال کرتے ہیں۔

باربرا پناچی کے بقول اطالوی کلچر میں استعمال ہونے والے اشارے کوئی باقاعدہ زبان نہیں ہیں، بلکہ ہم لوگ اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کے لیے اشاروں کا بہت استعمال کرتے ہیں۔

اس سب کے باوجود یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اشاروں کی باقاعدہ زبان اور عام اطالوی لوگوں کے اشاروں کنائیوں میں کئی چیزیں مشترک ہیں۔ سماعت سے محروم لوگوں کے ایک پروگرام کے میزبان میمنوں کاسٹی کہتے ہیں کہ اٹلی کی گلیوں میں گفگتو کے دوران کیے جانے والے اشاروں میں ربط ڈھونڈا جا سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں جب وہ اٹلی میں تھے تو انھوں نے محسوس کیا کہ بازاروں میں کیے جانے والے اشارے گفتگو اور ابلاغ کا ایک شاندار ذریعہ ہیں۔اگر وہ کاغذ اور قلم لیکر بازار میں نکل جاتے تو شاید کوئی بھی چیز نہ خرید پاتے اور اپنا مدعا بیان کرنے میں بالکل ناکام رہتے۔

میمنون کاسٹی کہتے ہیں کہ ’انگلینڈ بہت مختلف ہے۔ لوگ چہرے کے تاثرات کے ذریعے بات نہیں کرتے، اس لیے اٹلی کی نسبت انگلینڈ میں کسی کو اپنی بات سمجھانا مشکل ہوتا ہے۔

اسی بارے میں