طیارے کی تلاش دوبارہ شروع، مضطرب لواحقین کا حقائق جاننے پر اصرار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption موسم میں بہتری کے بعد تلاش دوبارہ شروع ہوئی اور بدھ کو چھ ممالک کے طیارے اس میں شریک ہیں

بحرِ ہند کے جنوبی حصے میں موسم میں بہتری کے بعد ملائیشین ایئر لائنز کے لاپتہ طیارے کے ملبے کی تلاش کا عمل دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے۔

آسٹریلیا کی میری ٹائم سیفٹی اتھارٹی (امسا) کا کہنا ہے کہ بدھ کو تلاش کے کام میں 12 طیارے حصہ لے رہے ہیں۔

ملائیشیا کا مسافر طیارہ ایم ایچ 370 آٹھ مارچ کو کوالالمپور سے بیجنگ جاتے ہوئے لاپتہ ہوا تھا اور اس پر 227 مسافر اور عملے کے 12 ارکان سوار تھے۔

اس طیارے کے 153 مسافروں کا تعلق چین سے تھا جن میں سے متعدد کے لواحقین اپنے رشتہ داروں کی ہلاکت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ کیونکہ اب تک طیارے کا ملبہ نہیں مل سکا ہے۔

گمشدہ طیارے کی تلاش کے سلسلے میں اب توجہ آسٹریلوی شہر پرتھ سے تقریباً ڈھائی ہزار کلومیٹر دور سمندر کے ایک دور افتادہ حصے پر مرکوز ہے۔

منگل کو آسٹریلوی فضائیہ کے وائس چیف مارک بنسکن نے کہا تھا کہ وہ ’ کسی بھوسے کے ڈھیر میں سوئی تلاش نہیں کر رہے بلکہ ابھی تو بھوسے کے ڈھیر کو ہی تلاش کر رہے ہیں۔‘

یہ عالمی سرچ آپریشن خراب موسم اور طوفانی ہواؤں سے سمندر میں اٹھنے والی خطرناک لہروں کی وجہ سے متاثر ہوا ہے اور منگل کو بھی اسے معطل کرنا پڑا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مسافروں کے لواحقین نے اپنے پیاروں کی موت کا ذمہ دار ملائیشیا کی حکومت اور فضائی کمپنی کو قرار دیا ہے

تاہم بدھ کی صبح آسٹریلوی میری ٹائم سیفٹی اتھارٹی نے بتایا ہے کہ اب حالات بہتر ہوئے ہیں اور پروازیں دوبارہ شروع کر دی گئی ہیں۔

’امسا‘ کے مطابق اس وقت تلاش کے عمل میں چھ ممالک آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، امریکہ، جاپان، چین اور جنوبی کوریا کے سات فوجی اور پانچ عام طیارے شریک ہیں۔

ان کے علاوہ آسٹریلیا کی جنگی بحری جہاز ایچ ایم اے یس سکسیس اس علاقے میں تلاشی لے رہا ہے جہاں رواں ہفتے ملبے کے دو ممکنہ ٹکڑوں کی نشاندہی ہوئی تھی۔

ملائیشیا کے وزیراعظم نجیب رزاق نے پیر کو باقاعدہ طور پر طیارے کی بحرِ ہند میں گر کر تباہی اور اس پر سوار تمام 239 افراد کی ہلاکت کا اعلان کیا تھا۔

لاپتہ چینی مسافروں کے درجنوں لواحقین نے منگل کو بیجنگ میں ملائیشیا کے سفارت خانے کے سامنے احتجاج بھی کیا اور ایک بیان میں ملائیشیا پر حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے اور حقیقت چھپانے کا الزام عائد کیا۔

احتجاج کے دوران چینی مسافروں کے لواحقین اور سکیورٹی اہل کاروں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔ دو سو کے قریب لواحقین نے ملائیشیا کے سفارت خانے کی طرف مارچ کیا۔ انھوں نے بینر اٹھا رکھے تھے جس پر ملائیشیا کی حکومت کو سچ بولنے کو کہا گیا تھا۔

جب پولیس نے ان کی بسوں کو روکا تو یہ پیدل چل پڑے اور پولیس پر بوتلیں پھینکنا شروع کر دیں۔ اس موقع پر ملائیشیا کے سفارت خانے کی حفاظت کے لیے بھاری تعداد میں پولیس کی نفری تعینات رہی۔

سترہ دن قبل لاپتہ ہونے والے مسافر طیارے ایم ایچ 370 کے مسافروں اور عملے کے افراد کی یاد میں ملائیشیا اور چین میں دعائیہ تقاریب منعقد کی گئی ہیں۔

اسی بارے میں