شمالی کوریا کا بلسٹک میزائلوں کا تجربہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ماضی میں شمالی کوریا نے تین جوہری تجربے کیے ہیں جن میں سے آخری فروری 2013 میں کیا گیا تھا

امریکہ، جنوبی کوریا اور جاپان کی ہالینڈ میں شمالی کوریا کے بارے میں ملاقات کے چند گھنٹے بعد ہی، شمالی کوریا نے درمیانی رینج کے دو بلسٹک میزائلوں کا تجریہ کیا ہے۔

2009 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ نڈونگ میزائل کا تجربہ کیا گیا ہو۔ گذشتہ چند ہفتوں میں شمالی کوریا چھوٹی رینج کے میزائلوں کے تجربات کرتا رہا ہے۔

ڈونگ میزائل کا یہ تجربہ جنوبی کوریا کے ایک بحری جہاز کو نشانہ بنانے کی چوتھی سالگرہ کے موقعے پر کیا گیا ہے۔

امریکہ اور جنوبی کوریا نے اس تجربے کی مذمت کی ہے جو کہ اقوام متحدہ کے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

امریکی دفترِ خارجہ نے اس تجربے کو ’پریشان کن اور اشتعال انگیز‘ قرار دیا۔

دفترِ خارجہ کی نائب ترجمان میری ہارف نے ایک بیان میں کہا کہ ’ہم شمالی کوریا سے کہیں گے کہ وہ تحمل سے کام لے اور مزید اشتعال انگیز اقدامات سے گریز کرے۔‘

امریکی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ شمالی کوریا نے اپنے حالیہ تجرنے کے لیے کوئی بحری نوٹس نہیں دیا تھا۔

جنوبی کوریا کی وزارتِ دفاع نے کہا کہ میزائل سقون کے علاقے سے فائر کیے گئے اور انھوں نے 650 کلومیٹر تک پرواز کی۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ میزائل نہ صرف جاپان کے بیشتر علاقے کو نشانہ بنا سکتے ہیں بلکہ روس اور چین تک پہنچ سکتے ہیں۔

گذشتہ چند ہفتوں میں شمالی کوریا نے اس وقت میزائل تجربے کیے ہیں جب دوسری جانب امریکہ اور جنوبی کوریا مشترکہ فوجی مشقیں کر رہے تھے۔

شمالی کوریا کی جانب سے بلسٹک میزائل تجربوں پر اقوام متحدہ کی جانب سے پابندی لگائی گئی ہے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ نڈونگ میزائل پر جوہری ہتھیار لگائے تو جا سکتے ہیں مگر یہی رائے مانی جاتی ہے کہ شمالی کوریا میں اس کی صلاحیت نہیں ہے۔

ماضی میں شمالی کوریا نے تین جوہری تجربے کیے ہیں جن میں سے آخری فروری 2013 میں کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں