انگلینڈ اور ویلز میں ’گے‘ شادیوں کی اجازت

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption لندن کے علاقے ازلنگٹن میں پیٹر میگریتھ اور ڈیوڈ کابریزا نے قانون کے اطلاق کے فوراً بعد شادی کی

برطانیہ میں سکاٹ لینڈ کے بعد اب انگلینڈ اور ویلز میں بھی ہم جنس پرست جوڑوں کو قانونی طور پر شادی کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

انگلینڈ اور ویلز میں اس قانون کا اطلاق جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب رات بارہ بجے سے ہوا ہے

سکاٹ لینڈ میں فروری میں اس سلسلے میں قانون سازی کی گئی تھی اور وہاں ہم جنس پرست جوڑے کی پہلی شادی رواں برس اکتوبر میں متوقع ہے۔

ان تینوں کے برعکس شمالی آئرلینڈ ایسا کوئی قانون منظور کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا ہے۔

برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون سمیت کئی انگلش سیاسی رہنماؤں نے ہم جنس پرست جوڑوں کو قانوناً شادی کی اجازت دیے جانے کا خیرمقدم کیا ہے جبکہ کچھ مذہبی گروپ اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔

ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ اس قدم سے لوگوں کو یہ پیغام ملا ہے کہ وہ ہم جنس پرست ہیں یا نہیں، وہ برابر ہیں۔

’پنک‘ نیوز ویب سائٹ کے لیے ایک مضمون میں وزیراعظم کیمرون نے لکھا ہے کہ ’یہ اختتام ِ ہفتہ ہمارے ملک کے لیے اہم لمحہ ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ ہم ایسا ملک ہیں جو احترام، برداشت اور برابری جیسی روایات کو معزز جانتا ہے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ قانون میں تبدیلی ان لوگوں کے لیے حوصلہ افزا ہوگی جو اپنی جنس کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔‘

لبرل ڈیموکریٹ پارٹی کے رہنما نک کلیگ نے کہا ہے کہ ’برطانیہ ایک مختلف جگہ بن جائے گا۔‘

لیبر پارٹی کے رہنما ایڈ ملی بینڈ نے ان ہم جنس پرست جوڑوں کو مبارکباد دی جو شادی کے بندھن میں بندھنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’اصل برابری کی جنگ ابھی جیتی نہیں گئی ہے۔‘

انگلینڈ میں ہم جنس پرست جوڑوں کو شادی کی اجازت ملنے کے فوراً بعد جو جوڑے رشتۂ ازدواج میں بندھے ان میں لندن کے علاقے ازلنگٹن کے پیٹر میگریتھ اور ڈیوڈ کابریزا بھی شامل تھے جو گذشتہ 17 برس سے ساتھ رہ رہے تھے۔

چرچ آف انگلینڈ کے سربراہ آرچ بشپ آف کنٹربری جسٹن ویلبی نے کہا ہے کہ اب چونکہ پارلیمان نے اس بارے میں فیصلہ دے دیا ہے تو کلیسائے انگلستان اب ہم جنس پرست شادیوں کی مخالفت ترک کر دے گا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’قانون بدل گیا ہے۔ حالات بدل چکے ہیں۔ ہم اسے تسلیم کرتے ہیں۔‘

اسی بارے میں