ایم ایچ 370: ’تلاش کے لیے وقت کی کوئی قید نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ طیارے کے لیے ہماری تلاش کی شدت اور دائرۂ کار بڑھ رہا ہے کم نہیں ہو رہا

آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم ٹونی ایبٹ نے کہا ہے کہ ملائیشیا کے لاپتہ مسافر طیارے کی تلاش کے لیے وقت کی کوئی قید مقرر نہیں کی گئی۔

مغربی ساحلی شہر پرتھ کے قریب صحافیوں سے بات کرتے ہوئے آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم نے کہا کہ ایم ایچ 370 کی تلاش کا کام مسلسل جاری ہے۔

دس ہوائی جہاز اور دس بحری جہاز پرتھ کے جنوب مغرب میں بحرِ ہند میں جہاز کا ملبہ تلاش کر رہے ہیں۔

ملائیشیا سے بیجنگ جانے والا یہ مسافر طیارہ آٹھ مارچ کو لاپتہ ہو گیا تھا۔

جہاز کے کاک پٹ میں ہونے والی سرگرمیوں کا ریکارڈ جہاز میں موجود فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر محفوظ ہو جاتا ہے تاہم اس فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر کی جانب سے سنگلز محض 30 دن تک موصول ہوتے ہیں۔

جہاز کی تلاش میں مصروف ٹیمیں اس مدت کے خاتمے سے قبل فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر کو تلاش کرنے کی خواہش مند ہیں اور اس کے لیے ایک مخصوص آلے ’ٹوڈ پِنگ لوکیٹر‘ (toad ping locator) استعمال کیا جائے گا تاہم اس کے لیے بھی پہلے جہاز کے ملبے کے مقام کی مصدقہ نشاندہی ضروری ہے۔

حالیہ دنوں میں میں متعدد مقامات پر ملبے کے مشتبہ ٹکڑوں کی نشاندہی کی گئی لیکن ان میں سے کوئی بھی لاپتہ جہاز کا نہیں تھا۔

آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم کا کہنا تھا: ’ہم مزید کچھ عرصے تک تلاش کا کام جاری رکھیں گے۔ ہماری تلاش کی شدت اور دائرہِ کار بڑھ رہا ہے کم نہیں ہو رہا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption لاپتہ جہاز کے 153 چینی مسافروں کے رشتہ دار اتوار کو کوالالمپور پہنچے ہیں وہ ملائیشیا کے حکام کی جانب سے غیر یقینی اطلاعات ملنے پر برہم ہیں

لاپتہ جہاز کے 153 چینی مسافروں کے رشتہ دار اتوار کو کوالالمپور پہنچے ہیں۔ وہ ملائیشیا کے حکام کی جانب سے غیر یقینی اطلاعات پر برہم ہیں۔

انہوں نے ’ہمیں سچ بتاؤ‘ کے نعرے لگائے اور ملائیشیا کے وزیرِ اعظم نجیب رزاق سے مطالبہ کیا کہ وہ گمراہ کن بیانات پر معافی مانگیں۔

اس سے قبل مسافروں کے لواحقین ملائیشیا کے وزیرِ اعظم نجیب رزاق کے اس بیان پر مشتعل ہو گئے تھے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ مسافر طیارہ بحر ہند میں گر کر تباہ ہو گیا ہے اور اس میں کوئی زندہ نہیں بچا۔

بعد ازاں آسٹریلوی وزیرِ اعظم نے بھی ان کے بیان کی توثیق کرتے ہوئے کہا: ’جہاز بحرِ ہند میں کہیں لاپتہ ہوا ہے۔ اور شواہد کی روشنی میں یہ غلط نہیں کہ وزیرِ اعظم نجیب رزاق اس نتیجے پر پہنچے ہیں۔‘

جہاز کے لاپتہ ہونے کی ممکنہ امکانات میں سے ایک مبینہ طور پر پائلٹ کے ہی ہاتھوں جہاز کا اغوا کیا جانا بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ افواہیں اس وقت گردش میں آئیں جب پائلٹ کے گھر میں موجود فلائٹ سِمولیٹر سے کچھ فائلیں ڈیلیٹ کیے جانے کی اطلاعات ملیں۔

تاہم سنیچر کو ملائیشیا کے وزیرِ ٹرانسپورٹ نے کہا تھا کہ تفتیش کاروں کو فلائٹ سیمولیٹر سے کوئی ’مجرمانہ‘ شواہد نہیں ملے۔

ملائیشیا کا بوئنگ 777 پرواز کے ایک گھنٹے بعد لاپتہ ہو گیا تھا۔

اسی بارے میں