’انٹرنیٹ پر اظہار غیرمحفوظ‘

Image caption ہر تیسرے رائے دہندہ کا کہنا تھا کہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ انٹرنیٹ پر حکومت کی مسلسل نگرانی میں ہیں

ایک عالمی سروے کے مطابق ہردوسرا شخص اپنے خیالات کے آزادانہ اظہار کے لیے انٹرنیٹ کو غیر محفوظ سمجھتا ہے۔

بی بی سی کی عالمی سروس کے 17 ممالک کے ایک جائزے میں حصہ لینے والے 52 فیصد شہریوں نے اس بات سے اتفاق نہیں کیا کہ ’میں انٹرنیٹ پر اپنے خیالات کا اظہار کرنے کو محفوظ سمجھتا ہوں‘ جبکہ 40 فیصد نے اس سے اتفاق کیا کہ انٹرنیٹ محفوظ ہے۔

بی بی سی کی عالمی سروس کے لیے اس جائزے میں گلوب سکین نامی کمپنی نے دسمبر 2013 اور فروری2014 کے درمیانی عرصے میں دنیا بھر میں 17 ہزار افراد سے رائے معلوم کی۔ اس جائزے کے نتائج کا اعلان بی بی سی عالمی سروس کے جاری سلسلے ’آزادی‘ کے تحت کیا جا رہا ہے اور اس کے لیے 17 مختلف زبانوں میں دنیا بھر کے قارئین، سامعین اور ناظرین کے لیے آزادی کے موضوع پر خصوصی پروگرام نشر کیے جا رہے ہیں۔

جائزے کے مطابق جہاں ہر دو میں سے ایک شخص انٹرنیٹ کو غیر محفوظ سمجھتا ہے وہاں دو تہائی (67 فیصد) رائے دہندگان سمجھتے ہیں کہ انٹرنیٹ نے انہیں زیادہ آزادی دی ہے جبکہ صرف 25 فیصد اس خیال سے اتفاق نہیں کرتے۔

سروے میں لوگوں سے پانچ مختلف قسم کی ’آزادیوں‘ کے بارے میں پوچھا گیا تھا اور انہوں نے انٹرنیٹ کی آزادی کو سب سے کم نمبر دیے، کیونکہ 17 ممالک میں ہر تیسرے رائے دہندہ کا کہنا تھا کہ وہ یہ محسوس نہیں کرتے کہ وہ انٹرنیٹ پر حکومت کی مسلسل نگرانی میں نہیں ہیں۔ امریکیوں کی اکثریت (54 فیصد) اور جرمنوں کی اکثریت ( 51 فیصد) خود کو حکومت کی نگرانی سے آزاد نہیں سمجھتی، اس کے برعکس چین میں ایک بڑی اکثریت (76 فیصد) خود کو حکومت کی نگرانی سے آزاد سمجھتی ہے۔

اسی طرح انڈونیشیا (69 فیصد) اور روس (61 فیصد) میں بھی رائے دہندگان کے اکثریت کی رائے یہی ہے کہ وہ خود کو حکومتی نگرانی سے آزاد سمجھتے ہیں۔

جائزے میں میڈیا میں اصلاحات کو بھی رائے دہنگان نے کم نمبر دیے۔ حالیہ جائزے میں شامل آٹھ ممالک میں میڈیا ریفارمز کے حوالے سے سنہ 2007 اور سنہ میں 2014 میں بھی سروے کرائے گئے تھے۔ سات برس پہلے کے جائزے کے مقابلے میں اب ایسے لوگوں کے تناسب میں تقریباً ایک تہائی کی کمی ہو گئی ہے جو یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے ملک میں ذرائع ابلاغ اتنے’آزاد ہیں کہ وہ کسی جانبداری کے بغیر درست اور سچی خبریں لوگوں تک پہنچائیں۔‘

سات سال پہلے یہ شرح 59 فیصد تھی لیکن حالیہ جائزے میں یہ 40 فیصد ہو گئی ہے۔ میڈیا کے بارے میں جائزے میں سب سے زیادہ کمی کینیا (37 پوائنٹس)، اس کے بعد بھارت (23 پوائنٹس) اور بھارت کے بعد روس (20 فیصد) میں دیکھنے میں آئی ہے۔ برطانیہ اور امریکہ میں لوگوں کی ایک اقلیت کا خیال ہے کہ ان کے ملکوں میں میڈیا آزاد ہے، جبکہ سنہ 2007 میں ان ممالک میں اکثریت میڈیا کو آزاد سمجھتی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اس جائزے میں سترہ ممالک میں 17,589 افراد سے رائے لی گئی

میڈیا کے علاوہ، جہاں تک آزادی کی دوسری اقسام کا تعلق ہے، جائزے میں شامل تمام 17 ممالک میں لوگوں کی ایک بھاری اکثریت کا کہنا تھا کہ انھیں ’اپنی مرضی کے مذہب کی تعلیمات پر عمل کرنے‘ (87 فیصد) اپنی ’مرضی کے شخص کے ساتھ شادی کرنے یا ساتھ رہنے‘ (86 فیصد) اور ’کسی بھی موضوع پر کھلے بندوں بات کرنے‘ (75 فیصد) کی آزادی حاصل ہے۔

گلوب سکین اور اس کے مقامی پارٹنروں کی وساطت سے بی بی سی کے لیے کیے جانے والے اس جائزے میں 17 ممالک میں 17,589 افراد سے ٹیلیفون کے ذریعے اور براہ راست ملاقات کر کے ان کی رائے لی گئی۔

گلوب سکین کے چیئرمین ڈو مِلر نے جائزے کے نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اس جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ جدید جمہوریتوں کی دو بنیادوں یعنی ’لوگ میڈیا کو آزاد اور متوازن سمجھتے ہیں‘ اور ’انٹرنیٹ پر اپنی رائے دینے کی آزادی‘ کو خطرے کا سامنا ہے۔

’اس کے علاوہ نتائج سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ شخصی آزادیاں جن کو جدید مغربی جمہوریتوں کی روایات سمجھا جاتا ہے، وہ دراصل جائزے میں شامل 17 ممالک کے شہریوں کے دماغوں میں بھی راسخ ہو چکی ہیں۔ بلکہ جائزے میں یہ عجیب بات سامنے آئی ہے کہ مغربی جمہوریتوں میں ان شخصی آزادیوں کو رائے دہندگان نے اب کم درجے پر رکھا ہے۔

اسی بارے میں