شکست خوردہ روس کا انتقام

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کرائمیا پر روس کے قبضےکے بعد مشرقی یوکرین کو بھی فوج کشی کا سامنا ہے

’ایک بات تو آپ شروع میں ہی مان لیں۔ وہ یہ کہ سرد جنگ دوبارہ شروع نہیں ہو رہی ہے۔ روس جتنا چاہے اپنی فوجی طاقت دکھا لے، وہ سوویت یونین نہیں بن سکتا۔ اب جتنے بھی حالات بگڑ جائیں، روس اور باقی دنیا کے درمیان اس قسم کی کوئی نظریاتی جنگ نہیں شروع ہونے جا رہی جس میں گذشتہ صدی کا بڑا عرصہ گزرا۔‘

یہ نیٹو کے ایک سینیئر سفارتکار کے اپنے الفاظ تو نہیں لیکن انھوں نے مجھے کچھ عرصہ پہلے جو بتایا تھا یہ الفاظ اس کا خلاصہ ضرور ہیں۔

لیکن میرا خیال ہے کہ کرائمیا پر روس کے قبضے اور مشرقی یوکرین کو روس کی جس فوجی دھمکی کا سامنا ہے، اس کے بعد یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ صورتحال ویسی نہیں رہی جیسی مجھے نیٹو کے سفارتکار نے بتائی تھی۔

روس نے اپنے حالیہ اقدامات سے یورپ میں سفارتکاری کی اس روایت کو توڑ دیا ہے جس کا آغاز سرد جنگ کے اختتام سے ہوا تھا۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ یہ سفارتکاری کی وہی روایت تھی جس کا آغاز نازی جرمنی کے زوال کے بعد یورپ میں ہوگیا تھا۔

تب سے تمام یورپی ممالک اس خیال کے قائل ہو گئے تھے کہ آئندہ تنازعات کو طاقت کی بجائے مذاکرات سے حل کیا جائے گا اور اب کسی ملک کی اصل قوت کا انحصار اس کی فوجی صلاحیت کی بجائے معاشی طاقت پر ہوگا۔

بات کرائمیا پر روس کے قبضے پر ختم نہیں ہوئی، بلکہ تقریباً دس دن قبل کریملن سے صدر پوتن کے خطاب سے یہی اشارہ ملتا ہے کہ حالات مزید خراب ہونے جا رہے ہیں۔

روسی ترجمان بھلے یہ کہتے رہیں کہ روس کا یوکرین میں فوجیں بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، لیکن علاقے میں روسی فوجوں کی حالیہ تعیناتی ایک دوسری کہانی سنا رہی ہے۔ اور کہانی یہ ہے کہ روس یوکرین پر فوجی چڑھائی کر کے رہے گا۔

پوتن کہاں تک جائیں گے؟

کریملن سے پوتن کا خطاب صرف اس وجہ سے اہم نہیں تھا کہ انھوں نے اس میں یہ دکھایا کہ وہ جو کہہ رہے ہیں وہ کر گزریں گے۔ پوتن اپنے خطاب میں کیا بتانا چاہ رہے تھے، اس کے لیے فرانسیسوں نے ایک خاص لفظ ایجاد کیا ہوا ہے اور وہ لفظ ہے ’روانش‘ (revanche)۔ اس لفظ کا مطلب ہے ماضی کی اپنی کسی بُری شکست کا بدلہ لینا۔

صدر پوتن کے قریبی حلقوں میں اکثریت کا خیال ہے کہ جب سوویت یونین کے حصے بخرے ہوئے تھے تو روس کو مغرب کے ہاتھوں ایک بری شکست ہوئی تھی۔

اپنے خطاب میں صدر پوتن نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ روس کم از کم اپنے پچھواڑے میں اپنا تسلط قائم کر کے دکھانا چاہتا ہے اور اگر بات اپنے اڑوس پڑوس میں طاقت کی دھاک کی ہے تو روس کا سب سے بڑا پچھواڑہ تو یوکرین ہی ہے۔

صدر پوتن اس راہ پر کہاں تک جانا چاہتے ہیں، یہ ابھی واضح نہیں ہے۔ لیکن روس کی جانب سے یوکرین اور مولدووا پر فوجی چڑھائی کا خطرہ بڑا واضح ہے۔

یہی وجہ ہے کہ دس سال پہلے نیٹو میں شمولیت اختیار کرنے والی بحیرۂ بالٹک کی تین ریاستیں آج سکون میں ہیں۔ یہ روسی فوجی چڑھائی کا خطرہ ہی ہے کہ اچانک نیٹو نے اپنے رکن ممالک کو یقین دہانی کرانا شروع کر دی ہے کہ ان کی سیکیورٹی نیٹو کے ایجنڈے میں سر فہرست ہے۔

نیٹو سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ یوکرین کی نیم مردہ فوج کی اچھی خاصی مدد کرے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption نیٹو اپنے رکن ممالک میں فوجیوں کی تعداد بڑھا سکتا ہے

نیٹو یہ تو معلوم نہیں کر سکتا کہ روس کی نیت کیا ہے، تاہم وہ روس کی جانب سے اب تک ملنے والے اشاروں کی بنیاد پر روس کی فوجی صلاحیت کا اندازہ ضرور کر سکتا ہے۔

تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ نیٹو کیا کر سکتا ہے؟ نیٹو کا پہلا قدم یہ ہو سکتا ہے کہ وہ شمالی یورپ میں اپنے اتحادیوں کی پریشانی پر انہیں تسلی دے۔

یوکرین کی مدد

پہلے اقدام کے طور پر نیٹو بالٹک ریاستوں اور پولینڈ میں مزید اتحادی فوجوں کی تعیناتی کر سکتا ہے۔ اگر نیٹو کے اتحادی رہنما رضامند ہو جاتے ہیں تو رکن یورپی ممالک میں چھوٹی چھوٹی فوجی مشقوں کے ذریعے ان ممالک میں نیٹو اپنے فوجیوں کی موجودگی کو مستقل شکل دے سکتا ہے۔

اسی طرح یوکرین کے لیے بھی امداد میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ بظاہر لگتا ہے کہ یوکرین کی موجودہ حکومت نیٹو میں شامل ہونے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی، تاہم نیٹو رکنیت کے بغیر بھی یوکرین کی مدد کر سکتا ہے کیونکہ یوکرین نیٹو کا پارٹنر یا ساتھی تو ہے ہی۔ نیٹو ممالک اس سے پہلے بھی یوکرین کی مدد کر چکا ہے جس کا مقصد فوج پر سیاسی حکومت کا اختیار بڑھانا اور یوکرین کی فوجی منصوبہ بندی کو بہتر کرنا تھا۔ آنے والے دنوں میں یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ یوکرین کی کمزور فوج کو غیر مہلک ہتھیار فراہم کر کے اسے زیادہ موثر بنایا جائےگا۔

نیٹو اس بات کا اشارہ دے چکا ہے کہ وہ اپنے پھیلاؤ کی سمت میں کوئی تبدیلی نہیں کرے گا۔ کچھ ناقدین کا خیال ہے کہ سرد جنگ کے بعد جس سمت میں نیٹو نے اپنا دائرۂ اثر پھیلایا ہے، روس دراصل اسی سے خائف ہوا اور اس نے یوکرین پر چڑھائی کر دی۔

لیکن نیٹو کے سفارتکار اس منطق سے اتفاق نہیں کرتے۔ نیٹو کے سیکریٹری جنرل آنیرس راس موسین نے منگل کو سرد جنگ کے بعد نیٹو کے رکن بننے والے تمام ممالک کے اخباروں میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ نیٹو کے پھیلاؤ سے یورپ اور تنظیم کے نئے ارکان کو فائدہ پہنچا ہے۔ ان کا اصرار ہے کہ نیٹو اسی سمت میں پھیلےگا اور اس بات کا فیصلہ خود ہر رکن ملک کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس اتحاد میں شامل ہونا چاہتا یا کسی دوسرے اتحاد میں۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ نیٹو ممالک ماسکو سے آنے والی نئی گرم ہواؤوں کا سامنا کیسے کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption صدر اوباما اور نیٹو کے سیکریٹری جنرل کا اصرار ہے کہ نیٹو ایک امن کی طاقت ہے

نیٹو کا اگلا اجلاس ستمبر میں برطانیہ میں ہو رہا ہے۔

اگر روس واقعی اپنے فوجی پھیلاؤ کی سوچ کو عملی جامہ پہنانا شروع کر دیتا ہے تو مالی بحران کے شکار یورپی ممالک کو اپنے دفاعی اخراجات پر نظر ثانی کرنا پڑے گی اور اپنے انفرادی وسائل میں دوسرے رکن ممالک کو شریک کرنا پڑے گا۔ اس کے علاوہ امریکہ کو بھی ثابت کرنا ہوگا کہ وہ یورپ کی سیکیورٹی کے معاملے میں سنجیدہ ہے۔

جو بھی ہو، ایک بات واضح ہے کہ یوکرین پر روس کی چڑہائی کے بعد حالات پہلے والے نہیں رہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ سرد جنگ کے دن لوٹ آئے ہیں، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ چند ہفتے پہلے کی نسبت اب نیٹو کو ثابت کرنا پڑے گا کہ وہ رکن ممالک کی سرحدوں کے دفاع کے نصب العین پر کس قدر پورا اترتا ہے۔