نیٹو کا یوکرین کے حوالے سے مزید اقدامات پر غور

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اطلاعات کے مطابق روس نے یوکرین کی سرحد سے کچھ فوجی واپس بلا لیے ہیں

نیٹو ممالک کے وزرائے خارجہ برسلز میں ایک اہم ملاقات کے دوران یوکرین کی مدد اور مشرقی یورپی ممالک کو حمایت کی دہانی کرانے کے معاملات پر بات چیت کرنے والے ہیں جبکہ بلقان کی ریاستوں پر نیٹو کی فضائی مشقوں کو بڑھا دیا گیا ہے۔

روس کی طرف سے کرائمیا کے الحقاق کی وجہ سے پیدا ہونے والے سفارتی تناؤ کے بعد نیٹو کے 28 ممالک کے وزرائے خارجہ کی یہ پہلی ملاقات ہے۔

نیٹو نے بلقان کی ریاستوں کی فضا میں ہونے والی سالانہ فضائی مشقوں کو بھی بڑھا دیا ہے۔

توقع ہے کہ برسلز میں ہونے والی ملاقات کے دوران نیٹو ممالک ماسکو کے ساتھ رسمی طور پر تعاون ختم کرنے پر بحث کریں گے۔

نیٹو کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وزرا یوکرین کے وزیرِ خارجہ اندریا دیش چتسیا سے یوکرین کے دفاعی شعبے میں اصلاحات میں مدد دینے کے طریقۂ کار پر بات چیت کریں گے۔

توقع ہے کہ ملاقات کے دوران مشرقی یورپ کے ممالک کو حمایت کی دہانی کرانے کے لیے بلقان کی ریاستوں میں نیٹو کے مستقل فوجی اڈے قائم کرنے پر بھی بات ہو۔

یوکرین میں روس کی کارروائی کی وجہ سے سابق سوویت یونین کی ریاستیں ایسٹونیا، لیٹویا اور لتھوانیا مضطرب ہو گئی ہیں۔

نیٹو کے طیارے اس خطے میں معمول کی پروازوں میں حصہ لیں گے جسے تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتِ حال کی وجہ سے زیادہ اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔

کئی نیٹو ممالک نے، جن میں برطانیہ، امریکہ اور فرانس شامل ہیں، ان مشقوں میں حصہ لینے کےلیے اضافی جنگی طیارے مہیا کرنے کی پیشکش کی ہے۔

ادھر روس کی توانائی کی کمپنی نے یوکرین کو فراہم کی جانے والی گیس کی قیمتیں منگل سے بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔

گیز پروم کے چیف ایگزیکٹیو ایلکیسی میلر نے گذشتہ مہینے کہا تھا کہ کیئف اپنے بل ادا کرنے میں ناکام ہو گیا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس بل کی مالیت ڈیڑھ ارب امریکی ڈالر ہے۔

دریں اثنا اطلاعات کے مطابق روس نے یوکرین کی سرحد سے کچھ فوجی واپس بلا لیے ہیں۔

جرمن حکومت کے مطابق روسی صدر ولادی میر پوتن نے جرمنی کی چانسلر انگلیلا میرکل کو ٹیلی فون پر بتایا کہ انھوں نے یوکرین کی سرحد سے فوج کو واپس بلانے کا حکم دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ہزاروں کی تعداد میں روسی افواج اب یوکرین کی سرحد پر موجود ہیں۔

اس سے پہلے یوکرین نے روسی وزیرِاعظم دمتری میدویدیف اور وزرا کی طرف سے کرائمیا کے دورے کی شدید مذمت کی۔

کیئف میں وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ روس کے اعلیٰ سطح کے حکام کا کرائمیا کادورہ ’بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اطلاعات کے مطابق ہزاروں کی تعداد میں روسی افواج اب یوکرین کی سرحد پر موجود ہیں

کرائمیا 16 مارچ کو ہونے والے ریفرینڈم کے بعد یوکرین سے علیحدہ ہو کر روس میں شامل ہو گیا تھا۔ اس ریفرینڈم کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے غیر قانونی قرار دیا تھا۔

یاد رہے کہ امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے اتوار کی شام روس کے وزیرِ خارجہ سرگے لاوروف کے ساتھ ’دوستانہ ماحول‘ میں چار گھنٹے تک جاری رہنے والی بات چیت کے بعد اعلان کیا تھا کہ یوکرین کے معاملے پر کوئی نیا سمجھوتہ طے نہیں ہوا۔

انھوں نے کہا تھا کہ امریکہ اب بھی کرائمیا میں روسی کارروائی کو ’غیر قانونی‘ سمجھتا ہے۔

جان کیری نے کہا تھا کہ یوکرین کی سرحدوں پر روسی فوجیوں کی موجودگی سے خوف و ہراس کی فصا پیدا ہو گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’دونوں ممالک کے درمیان اس بحران کے محرکات پر اختلافِ رائے ہے لیکن دونوں اس مسئلے کو سفارتی طریقے سے حل کرنے پر متفق ہیں۔‘

اس سے پہلے سرگے لاوروف نے ایک غیر جانبدار وفاقی یوکرین بنانے کا مطالبہ کیا جسے کیئف نے ’مکمل غلامی‘ قرار دیا۔ تاہم روسی وزیرِ خارجہ نے یوکرین پر فوج کشی کے امکان کو رد کیا۔

یوکرین کے جزیرہ نما کرائمیا کو اپنی فیڈریشن کا حصہ بنانے پر روس کو عالمی تنقید اور مذمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اسی بارے میں