امن مذاکرات کے لیے اسرائیل کے جاسوس کو رہا کیا جا سکتا ہے

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امریکی بحریہ میں کام کرنے والے سابق تجزیہ نگار پولارڈ کو سنہ 1987 میں اسرائیل کو دستاویزات فراہم کرنے کے جرم میں عمر قید کی سزا ہوئی تھی

امریکی وزیر خارجہ جان کیری فلسطینی اور اسرائیلی رہنماؤں سے مزید ملاقاتیں کرنے والے ہیں تاکہ امن مذاکرات کے سلسلے کو ختم ہونے سے بچایا جا سکے۔

جان کیری کی اس خطے میں پیر کو آمد ہوئی اور انھوں نے اس دوران اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو سے ملاقات کی۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ منگل کی صبح دونوں رہنماؤں کے درمیان مزید بات چیت ہوگی جس میں مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کو بچانے کی کوشش کے طور پر اسرائیلی جاسوس جوناتھن پولارڈ کی رہائی کے سلسلے میں بھی بات ہوگی۔

ایک امریکی اہلکار نے اخبار نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ ابھی تک اس بابت کوئی فیصلہ نہیں کیا گيا ہے تاہم اس کے متعلق بات ضرور ہوئی ہے۔

امریکی بحریہ میں کام کرنے والے سابق تجزیہ نگار پولارڈ کو سنہ 1987 میں اسرائیل کو دستاویزات فراہم کرنے کے جرم میں عمر قید کی سزا ہوئی تھی۔

جان کیری نے دریں اثنا نتن یاہو کے علاوہ فلسطین کے مرکزی رابطہ کار صائب اراکات سے بھی ملاقات کی ہے۔ تاہم ابھی تک کسی بھی فریق نے بات چیت کے متعلق کوئی بات نہیں کہی ہے۔

یہ دوسرا موقع ہے جب جان کیری نے اپنے پروگرام میں تبدیلی کرتے ہوئے اس خطے کا دورہ کیا ہے تاکہ براہِ راست بات چیت کی تاریخ کو 29 اپریل کی حتمی مہلت سے آگے بھی جاری رکھا جا سکے۔

واضح رہے کہ یہ حتمی مہلت گذشتہ سال موسم گرما میں طے کی گئی تھی جب تین سال تک جاری رہنے والے تعطل کے بعد گذشتہ جولائی میں امریکی صدر اوباما اور وزیر خارجہ جان کیری نے اسرائیل اور فلسطین کو بات چیت کی میز پر آنے کے لیے راضی کر لیا تھا اور اس وقت کہا تھا کہ ’ہمارا ہدف آئندہ نو مہینوں میں معاہدے کی حتمی حیثیت تک پہنچنا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اسرائیل ایک عرصے سے جوناتھن پولارڈ کی رہائی کی درخواست کر رہا ہے

خطے میں قیامِ امن کے سلسلے میں امن منصوبہ اپنے مجوزہ راستے سے اس وقت ہٹ گيا جب اسرائیل نے طویل عرصے سے قید 26 فلسطینیوں کی رہائی کی چوتھی کھیپ کو رہا کرنے سے قبل پس پیش شروع کر دیا تھا۔

فلسطین کے صدر محمود عباس کا کہنا ہے کہ انھیں 29 مارچ تک رہا ہو جانا چاہیے کیونکہ بات چیت کی ابتدا کے وقت اسرائیل نے اس کا وعدہ کیا تھا۔

اسرائيلی حکام کا کہنا ہے کہ انھیں قیدیوں کی رہائی میں اس وقت تک پس و پیش ہے جب تک کہ فلسطین بات چیت میں توسیع کا عہد نہیں کرتا۔ انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قیدیوں کی رہائي ان کی پیش رفت سے منسلک ہے۔

اس سے قبل تین بار جو قیدیوں کی رہائی ہوئی تھی اسے اسرائیلی عوام نے ناپسند کیا تھا کیونکہ ان میں سے بہت سے قیدی ایسے تھے جواسرائيلیوں کے قتل کے مرتکب تھے۔

ایسے میں پولارڈ کی رہائي کی بات اس لیے سامنے آئی ہے کہ اس کے ذریعہ امن مذاکرات کے سلسلے میں اسرائیلی تعاون حاصل ہو سکے۔

یاد رہے کہ اپنے پیش روؤں کی طرز پر صدر براک اوباما نے بھی 59 سالہ قیدی پولارڈ کو اسرائيلی رہنماؤں کی بار بار درخواست کے باوجود رہا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

اسی بارے میں