لبنان: سنی مبلغ عمر بکری گھر سے فرار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption لندن میں 2005 میں ہونے والے بم دھماکوں کے بعد عمر بکری لبنان چلے گئے

لبنان میں گزشتہ ہفتے ہونے والے فرقہ وارانہ تشدد کے بعد سخت گیر سنی مبلغ عمر بکری اپنا گھر چھوڑ کر کسی نامعلوم مقام کی طرف چلےگئے ہیں۔

لبنان میں گزشتہ ہفتے فرقہ وارانہ تشدد میں کم از کم تیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

لبنان کی فوج فرقہ وارانہ تشدد میں ملوث دو سو افراد کو گرفتار کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور عمر بکری ان میں سے ایک ہیں۔

شامی نژاد عمر بکری 2005 میں برطانیہ میں چھوڑ کر لبنان کے شہر تریپولی میں منتقل ہوگئے تھے۔

بکری نےگھر سے غائب ہونے سے پہلے فرقہ وارانہ تشدد میں ملوث ہونے کے الزام کی ترید کی اور کہا کہ ان پر الزام انتہائی ’غیر منصفانہ‘ ہے۔

عمر بکری پر الزام لگتا رہا ہے کہ ان کے القاعدہ سے تعلقات ہیں۔ عمر بکری نے ہمیشہ ان الزامات کی تردید کی ہے۔

لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ عمر بکری قومی سلامتی کو خطرات لاحق کرنے کے جرم میں مطلوب ہیں۔

لبنان کی فوج نےکہا ہے کہ انہوں نے منگل کے روز 75 افراد کو حراست میں لیا ہے۔ گزشتہ ہفتے تریپولی میں علوی شیعہ اور سنی مسلمانوں کے مابین ہونے والی جھڑپوں میں تیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

لبنانی حکومت نے تریپولی میں حالات پر قابو پانے کے لیے فوج تعینات کی ہے۔

بدھ کے روز جب لبنانی فوجیوں نے عمر بکری کے گھر پر چھاپہ مارا تو وہ گھر میں موجود نہیں تھے۔ان کی بیوی نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ انھیں نہیں معلوم کہ ان کے شوہر کہاں ہیں۔

عمر بکری محمد صدر بشار الاسد اور لبنان میں اس کے حامیوں کی کھلے بندوں مخالفت کرتے ہیں۔

وہ شام میں پیدا ہوئے تھے اور ان کے پاس لبنانی شہریت بھی تھی۔

عمر بکری بیس سال تک برطانیہ میں رہے اور لندن کے بم دھماکوں کے بعد سنہ 2005 میں لبنان چلےگئےجس کے بعد برطانیہ نے ان کی وطن واپسی پر پابندی لگا دی۔

برطانوی حکومت کا کہنا ہے ملک میں ان کی موجودگی عوام کے حق میں بہتر نہیں تھی۔