’لباس میں احتیاط کریں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption لاس اینجلس میں قانون کے سکول میں حال ہی میں طالبات کے لیے ایک یاداشت بھجوائی گئی جس میں کہا گیا کہ باریک ایڑھی والی جوتیاں دفتر میں پہننے کے لیے مناسب نہیں ہیں۔

امریکہ میں ایک عدالت کے جج رچرڈ کوف نے نوجوان خواتین وکلا کو مشورہ دیا ہے کہ وہ عدالت کی دیگر خواتین ملازمین کی جانب سے پیٹھ پیچھے بے سلیقہ کہلائے جانے سے بچنے کے لیے اپنے کپڑوں پر توجہ دیں۔

وفاقی جج نے اپنے بلاگ میں خاتون وکلا کو کپڑوں میں بہتری لانے کے لیے تجاویز دیں۔

1: آپ جیت نہیں سکتیں۔ مرد برے بھی ہیں اور معقول بھی، اس عادت پہ قابو پائیں۔

2: یہاں آپ اہم نہیں ہیں۔ جب آپ اس طرح عدالت کے سامنے آتی ہیں تو معاملہ دوہرا ہو جاتا ہے۔

3: عدالتوں میں کام کرنے والی خاتون ملازمین کے بارے میں سوچیں۔ اگر وہ آپ کے نام رکھنا شروع کر دیں یا پیٹھ پیچھے آپ کا تمسخر اڑاتے ہوئے آپ کو بے سلیقہ کہیں، لہذا لباس کی شدت میں کمی لائیں۔

نبراسکا سے تعلق رکھنے قانون دان نے یہ بلاگ امینڈا ہیس کے اس مضمون سے متاثر ہو کر لکھا تھا جس میں کمرۂ عدالت میں خواتین کے لیے موزوں لباس کے موضوع کی تاریخ بیان کی گئی تھی۔

امینڈا نے ایک جج کے حوالے سے لکھا تھا کہ عورتوں کے نامناسب کپڑے ایک بڑا مسئلہ بن گئے ہیں۔

انہوں نے لکھا کہ ’لاس اینجلس میں قانون کے سکول میں حال ہی میں طالبات کے لیے ایک یاداشت بھجوائی گئی جس میں کہا گیا کہ باریک ایڑھی والی جوتیاں دفتر میں پہننے کے لیے مناسب نہیں ہیں۔‘

انہوں نے مزید لکھا تھا ’ایک طرف جو مرد جج خواتین وکلا کو لباس پہننے کی تمیز سکھاتے ہیں وہ بہت غصہ دلاتے ہیں تاہم عورتوں کی الماری میں موجود لامحدود انتخاب بھی پریشان کن ہے۔‘

ایسے ججوں کے لیے رچرڈ کوف نے اپنے بلاگ میں ایک کہانی بھی لکھی ہے۔

ایک کالم نگار ایرن گریس نے متعدد خاتون وکلا سے بات کی جن میں نے ایک نے کہا کہ ’جج نے کافی دیانت داری سے بات کی ہے۔‘

ایک اور خاتون نے کہا ’اس کے بعد کوئی خاتون ان کے سامنے پریکٹس نہیں کرنا چاہے گی۔‘

ایرن گریس نے یہ کہہ کر کالم ختم کیا کہ ’اگر قانون کے طالب علموں کو اس بات پر یاد رکھا جانا چاہییے کہ وہ کیا کہتے ہیں نہ کہ کیا پہنتے ہیں تو یہ اصول ججوں پر لاگو ہونا چاہیے۔‘

بعد ازاں جج نے اپنے بلاگ میں اضافہ کرتے ہوئے لکھا کہ انہوں نے کمرہ عدالت میں خواتین کے لباس پر بات کر کے ’ایک خطرناک موضوع‘ کو چھیڑ دیا ہے۔

انہوں نے ایرن گریس کو جواب دیتے ہوئے لکھا ’ اگر آپ کے خیال میں میری تحریر وفاقی عدلیہ کے لیے نقصان دہ تھی اور میں نے سچ میں عورت کو ایک چیز کی طرح پیش کیا ہے تو میں بہت بہت بہت معذرت خواہ ہوں۔ ‘

اسی بارے میں