لاپتہ طیارے کی تلاش جاری رہے گی: نجیب رزاق

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption میں طیارے میں سوار لوگوں کے اہل خانہ سے وعدہ کر سکتا ہوں کہ ہم ہار نہیں مانیں گے: نجیب رزاق

ملائیشیا کے وزیرِاعظم نجیب رزاق نے کہا ہے کہ لاپتہ طیارے ایم 370 کی تلاش کے لیے شروع کی گئی مہم جاری رہے گی۔

نجیب رزاق آسٹریلیا کے شہر پرتھ کے دورے پر ہیں جہاں لاپتہ طیارے ایم ایچ 370 کی تلاش کی کوششیں جاری ہیں۔

ملائیشیا کے وزیرِاعظم نے یہ بیان اپنے ہم منصب ٹونی ایبٹ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں دیا۔

نجیب رزاق نے لاپتہ طیارے کو تلاش کرنے کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا ’بڑے سانحے‘ کے وقت ملنے والا تعاون ’ہمیں تسلی دے دیتا ہے۔‘

انھوں نے پریس کانفرنس میں کہا ایم 370 کے لاپتہ ہونے کے واقعہ نے ہمارے اجتماعی عزم کا امتحان لیا ہے۔‘

نجیب رزاق نے کہا ’لاپتہ طیارے کی تلاش ایک انتہائی مشکل کام ہے اور اس کے لیے ملائیشیا، امریکہ، برطانیہ، چین، آسٹریلیا اور فرانس کی حکومتوں نے مسلسل تلاش مہم جاری رکھی ہوئی ہے۔‘

ملائیشیا کے وزیرِاعظم نے حالیہ ہفتوں میں دونوں تفتیشی ٹیموں اور آسٹریلوی حکومت کی کوششوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ لاپتہ طیارے کی تلاش جاری رہے گی.

انھوں نے کہا ’میں طیارے میں سوار لوگوں کے اہل خانہ سے وعدہ کر سکتا ہوں کہ ہم ہار نہیں مانیں گے۔‘

ملائیشیا کے حکام کو طیارے کے 153 چینی مسافروں کے رشتہ داروں کی جانب طیارے کی تلاش میں ناکامی پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

جمعرات کو آٹھ فوجی طیاروں اور نو بحری جہازوں نے تلاشی مہم میں حصہ لیا۔

برطانوی سب میرین ایچ ایم ایس جنوبی بحرِ ہند میں رائل نیوی جہاز کے ساتھ مل کر تلاشی مہم میں شامل ہے۔

آسٹریلوی بحریہ جہاز اس علاقے میں تلاشی مہم کی قیادت کر رہی ہے اور طیارے کے بلیک باکس کو تلاش کرنے میں مصروف ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے وقت کی بڑی اہمیت ہے کیونکہ بلیک باکس کی بیٹری سات اپریل تک ہی سگنل بھیج سکتی ہے۔

اقوام ایجنسی کوآرڈینیشن مرکز کے سربراہ ایئر چیف مارشل ینگس ہیوسٹن نے خبردار کیا ہے کہ تلاش مہم میں کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption متعدد طیارے اور بحری جہاز بحرِہند کے جنوب میں لاپتہ طیارے کی تلاش میں کوشاں ہیں جہاں اس کے تباہ ہونے کا خطرہ ظاہر کیا گيا تھا

یاد رہے کہ کوالالمپور سے بیجنگ جانے والا یہ مسافر بردار طیارہ آٹھ مارچ کو لاپتہ ہو گیا تھا اس پر 239 افراد سوار تھے۔

ملائیشیا نے مختلف ممالک کے مصنوعی سیاروں سے ملی تصاویر کی بنیاد پر کہا تھا کہ طیارے کی آخری موجودگی بحرِہند کے جنوبی علاقے میں پائی گئی تھی۔

متعدد طیارے اور بحری جہاز بحرِہند کے جنوب میں لاپتہ طیارے کی تلاش میں کوشاں ہیں جہاں اس کے تباہ ہونے کا خطرہ ظاہر کیا گيا تھا۔

تلاش کا دائرہ تقریبا سوا دو لاکھ مربع کلو میٹر پر محیط ہے جو جنوبی بحرِہند میں پرتھ سے 1500 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔

اس طیارے کو لاپتہ ہوئے تین ہفتے سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہےلیکن ابھی تک اس کا ایک بھی ٹکڑا نہیں مل سکا۔

اسی بارے میں