توانائی کی فکر سے آزاد امریکہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption توانائی میں آزادی سے امریکہ کو اپنے عالمی کردار پر نظرثانی کا موقع ملے گا

اگر آپ سٹے بازوں کی بات پر یقین کرتے ہیں تو پھر آپ کو ماننا پڑے گا کہ چیلسی کلنٹن امریکہ کی تاریخ کی خوش قسمت ترین صدر ہو سکتی ہیں۔گذشتہ چار دہائیوں میں رچرڈ نکسن سے لے کر براک اوباما تک ہر امریکی صدر کا خواب یہی رہا ہے کہ وہ امریکہ کو توانائی کے شعبے میں خودکفیل کر دے۔

اب شیل توانائی یعنی چٹانوں سے تیل اور گیس نکالنے کے امکانات سے لگتا ہے کہ امریکہ کا یہ خواب جلد ہی حقیقت بننے والا ہے۔ کم از کم توانائی کے بین الاقوامی ادارے (انٹرنیشنل انرجی ایجنسی) اور دنیا میں تیل کی بہت بڑی کمپنی برٹش پیٹرولیم (بی پی) کا یہی کہنا ہے کہ امریکہ سنہ 2035 تک توانائی میں خودکفیل ہو جائے گا۔

گذشتہ برس اپنے سالانہ صدارتی خطاب میں صدر اوباما نے کہا تھا کہ ’سالہا سال اس پر بات کرنے کے بعد، آخر کار ہم توانائی کے شعبے میں اپنے مستقبل پر قابو پانے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔‘

کوئی بھی یہ نہیں کہہ رہا کہ امریکہ راتوں رات تیل درآمد کرنا بند کر دے گا، لیکن اگر امریکہ توانائی میں بڑی حد تک خود کفیل ہو جاتا ہے تو اس کے نہ صرف امریکہ بلکہ باقی دنیا پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

امریکی معیشت

گذشتہ برس امریکہ نے تیل کی درآمد پر تقریباً تین سو ارب ڈالر خرچ کیے۔ یہ رقم امریکہ کے کل تجارتی خسارے کا تقریباً دو تہائی بنتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ تیل ہر سال امریکی معیشت سے اربوں ڈالر چوس رہا ہے۔

انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق اتنا بڑا تجارتی خسارہ آنے والے برسوں میں امریکہ کی معاشی نمو، مصنوعات اور ملک میں روزگار کے مواقع کو بری طرح متاثر کر سکتا ہے۔

اگر امریکہ توانائی میں آزادی حاصل کر لیتا ہے تو نہ صرف توانائی پر اس کے اخراجات میں کمی آ جائے گی بلکہ توانائی پر خرچ ہونے والی خطیر رقم دوسرے ممالک کو جانے کی بجائے خود مقامی امریکی کمپنیوں کو ملنا شروع ہو جائے گی۔

امریکی مصنوعات

امریکی کو توانائی میں آزادی صرف شیل سے نکالے جانے والے تیل اورگیس سے مل سکتی ہے، اور اگر ایسا ہو جاتا ہے تو امریکی مصنوعات کے شعبے میں بھی ایک سنہری دور میں داخل ہو جائے گا۔

جاپان اور یورپ کی نسبت امریکہ میں توانائی کی قیمتیں بہت کم ہیں اور اگر اس بات کو چین میں بڑھتی ہوئی اجرت اور امریکی کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی پیداوار کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو اس کا مطلب وہی نکلتا ہے جو ہمیں نظر آ رہا ہے، یعنی امریکی کمپنیاں اپنی فیکٹریاں واپس امریکہ لا رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بہت سے ماہرین معاشیات کہتے ہیں کہ شیل توانائی سے امریکی صنعتی ترقی کا نیا دور شروع ہوگا

’ری شورنگ‘ کے اس رجحان کے تحت ڈاؤ کیمیکل، جنرل الیکٹرک، فورڈ، بی اے ایس ایف اور کیٹر پلر سمیت کئی دیگر بڑی امریکی کمپنیوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے ملک میں نئی فیکٹریاں قائم کرنے اور اپنی بند فیکٹریوں کو دوبارہ چالو کرنے پرسینکڑوں کروڑ ڈالر خرچ کرنے جا رہی ہیں۔ حتیٰ کہ مشہور کمپیوٹر کمپنی ایپل نے بھی اعلان کر دیا ہے کہ وہ ایریزونا میں اپنا پلانٹ بند کرنے کے دس سال بعد اب امریکہ میں ایک نیا پلانٹ لگانے جا رہی ہے۔

امریکہ کی کیمسٹری کونسل کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ سنہ 2010 اور مارچ 2013 کے درمیانی عرصے میں امریکہ میں کیمیائی صنعت کے تقریباً ایک سو منصوبوں کا اعلان ہو چکا ہے جن کی کل مالیت 72 ارب ڈالر بنتی ہے۔

اسی طرح بوسٹن کنسلٹنگ گروپ کے تجزیے میں بھی یہی بات سامنے آئی ہے کہ امریکہ بھر میں مصنوعات کے شعبے میں تیزی آ رہی ہے۔

یورپی مصنوعات

صرف چار برس پہلے تک یورپ میں گیس کی قیمتیں امریکہ کے تقریباً برابر ہی تھیں، لیکن اب یہ امریکہ کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہو گئی ہیں۔ آئی ای اے کا اندازہ ہے کہ سنہ 2035 میں یورپ میں گیس کی قیمتیں امریکہ کے مقابلے میں دگنی ہوں گی۔

بوسٹن کنسلٹنگ گروپ کا اندازہ ہے کہ پلاسٹک، ربڑ، مشینری، کمپیوٹرز اور الیکٹرانکس سمیت کئی مصنوعات کی برآمدات میں اگلے سال تک امریکہ کو برطانیہ اور جاپان کے مقابلے میں پانچ سے 25 فیصد زیادہ فائدہ ہو گا۔

حقیقت یہ ہے کہ کئی یورپی کمپنیاں پہلے ہی امریکہ میں بھاری سرمایہ کاری کا آغاز کر چکی ہیں۔ ہالینڈ کی تیل کی کمپنی شیل امریکہ کے تیل سے مالا مال علاقے ایپالیچیا میں ایک نیا پلانٹ لگانے کا اعلان کر چکی ہے۔ اس کے علاوہ فرانس کے والو ریک نامی صنعتی گروپ نے ریاست اوہایو میں ایک ارب ڈالر کا پلانٹ لگایا ہے جبکہ آسٹریا کا سٹیل بنانے والا گروپ ووسٹل پائن بھی ریاست ٹیکسس میں 75 کروڑ ڈالر کی مالیت کی ایک نئی فیکٹری لگا چکا ہے۔

یورپ سے صنعتوں کے امریکہ جانے کے رجحان پر یورپی سیاستدان بھی خاموش نہیں ہیں۔

گذشتہ سال یورپین کونسل کے صدر ہرمن ہان رومپوئی کا کہنا تھا کہ ’ تمام یورپی رہنما اس بات سے باخبر ہیں کہ روزگار کو یورپ میں رکھنے کے لیے توانائی کی قیمتوں پر قابو رکھنا ضروری ہے۔ یورپ کی انڈسٹری کے لیے مشکل ہے کہ وہ امریکہ جیسے دوسرے ممالک کی کمپنیوں سے مقابلہ کریں جہاں بجلی کی قیمت یہاں سے آدھی ہے۔‘

یورپ میں توانائی کی قیمتوں میں اضافے پر یورپین کمیشن نے بھی فکر مندی کا اظہار کیا ہے اور اسے یورپ میں ’صنعتی زوال‘ سے تعبیر کیا ہے۔

تیل برآمد کرنے والے ممالک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ناقدین کے اعتراضات کے باوجود امریکہ میں فصلوں سے توانائی حاصل کی جا رہی ہے

دنیا کے کئی ممالک امریکہ کو بھاری مقدار میں تیل برآمد کرتے ہیں، اور اگر امریکہ توانائی میں خو کفیل ہو جاتا ہے تو ان ممالک کی آمدن پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ خاص طر پر جنوبی امریکہ، افریقہ اور مشرق وسطیٰ پر یہ اثرات بہت گہرے ہوں گے۔

ایکواڈور، کولمبیا، حتیٰ کہ دنیا کی ایک بڑی معاشی طاقت کینیڈا بھی ان اثرات سے محفوظ نہیں ہو رہی گی۔ لیکن صاف ظاہر ہے یہ اثرات یک دم نہیں ظاہر ہوں گے۔

اس تبدیلی سے صرف وہ ممالک متاثر نہیں ہوں گے جو براہ راست امریکہ کو تیل فروخت کرتے ہیں، بلکہ چونکہ امریکہ اس وقت دنیا میں تیل درآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور اگر وہ تیل خریدنا بند کر دے گا تو اس سے تیل پیدا کرنے والے تمام ممالک متاثر ہوں گے۔ ایک تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ ایسی صورتحال میں ہوگا یہ کہ دولت تیل پیدا کرنے والے ممالک کی بجائے ان ممالک میں جمع ہونا شروع ہو جائے گی جو تیل استعمال کرتے ہیں۔

عالمی سیاست اور مشرق وسطیٰ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption امریکی کو توانائی میں آزادی صرف شیل سے نکالے جانے والے تیل اورگیس سے مل سکتی ہے

توانائی میں خود انحصاری کی صورت میں مشرق وسطیٰ میں امریکہ کا مفاد بھی کم ہو جائے گا۔ یہ آپ پر ہے کہ آپ اسے کیسے دیکھتے ہیں۔ لیکن کچھ تجزیہ کار اس سلسے میں یہ کہتے ہیں کہ امریکہ نے کم تیل پیدا کرنے والے ملک شام کے معاملے میں اتنا جوش خروش نہیں دکھایا جتنا اس نے دنیا میں تیل برآمد کرنے والے بڑے ممالک میں سے ایک بڑے ملک عراق میں دکھایا تھا۔

یہ سمجھنے کے لیے کہ توانائی اور خارجہ پالیسی کے درمیان تعلق کتنا گہرا ہے، آپ صرف یہ دیکھیں کہ کرائمیا میں روس کی مداخلت پر کوئی خاص ردِعمل دیکھنے میں نہیں آیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یورپی لیڈر جانتے ہیں کہ ان کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں کیونکہ یورپ کی توانائی کی ضروریات کا ایک تہائی روس پوری کرتا ہے۔

اس بات پر بحث ہو سکتی ہے کہ آیا مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی پالیسی میں بھی تیل ہی سب اہم ہے۔

ایک سینیئر تجزیہ کار ایلیکسیا ایش کا کہنا ہے کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ تیل امریکہ کی خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہے، لیکن آپ باقی چیزوں کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتے۔‘

ایلیکسیا ایش کہتی ہیں کہ امریکہ کو مشرق وسطیٰ میں استحکام کی بھی فکر ہے کیونکہ اس خطے کی سرحدیں روس اور چین دونوں سے ملتی ہیں۔ اس کے علاوہ امریکہ کو عالمی سپر پاور کے طور پر اپنی ساکھ کا بھی خیال رکھنا ہوتا ہے۔اس کے علاوہ امریکہ کا سعودی عرب کے ساتھ مضبوط تاریخی تعلق بھی ہے جس میں پُر کشش دفاعی معاہدے شامل ہیں۔

لیکن کئی تجزیہ کار اس بات سے اتفاق نہیں کرتے اور ان کا کہنا ہے کہ امریکہ نے اپنے سمندر پار مفادات سے پہلے ہی پیچھے ہٹنا شروع کر دیا ہے۔

ایلیکسیا ایش کہتی ہیں کہ ’ اگر امریکہ نظریاتی لڑائیاں ہار جاتا ہے، تو کیا اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ پسپا ہو کر اپنی سمندری حدود تک محدود ہو جائے گا؟

اس کا مطلب ہے کہ توانائی میں خود کفالت ہی وہ چیز ہے جس کے بعد امریکہ کا دنیا سے کوئی زیادہ لینا دینا نہیں ہوگا۔

معلوم نہیں کہ سٹے بازوں کی یہ بات درست ثابت ہوتی ہے کہ چیلسی کلنٹن سنہ 2035 میں امریکہ کی صدر ہوں گی، لیکن یہ کہنا زیادہ قرین قیاس ہے کہ سنہ 2035 تک امریکہ کی توانائی کی تمام ضروریات چٹانوں سے نکلنے والے تیل اورگیس سے پوری ہو جائیں گی۔

اسی بارے میں