’مشرقِ وسطیٰ مذاکرات کو حقیقت کی نگاہ سے دیکھنے کا وقت آ گیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزیرِ خارجہ کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب گذشتہ دو روز میں اسرائیل اور فلسطین نے ایک دوسرے پر اپنے وعدوں کا پاس نہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے

امریکہ کے وزیرِ خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو حقیقت پسندانہ نگاہ سے دیکھنے کا وقت آ گیا ہے۔

مراکو میں بات کرتے ہوئے جان کیری کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں وقت کی ایک حد مقرر تھی تاہم واشنگٹن اسرائیل اور فلسطین کو کسی معاہدے پر رضا مند کرنے کے لیے کوشش کرے گا۔

امریکی وزیرِ خارجہ کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب گذشتہ دو روز میں اسرائیل اور فلسطین نے ایک دوسرے پر اپنے وعدوں کا پاس نہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

جمعے کو ربات کے دورے پر بات کرتے ہوئے امریکی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ہمیں اب کچھ دیر کے لیے ٹھہر کر یہ سوچنا ہو گا کہ مذاکرات کا عمل کس جانب بڑھ رہا ہے۔ ہم اندازہ کرنا چاہتے ہیں کہ آئندہ کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں۔

خیال رہے کہ جان کیری گذشتہ کئی ہفتوں سے فریقین سے براہِ راست مذاکرات شروع کرنے پر زور دے رہے ہیں تاہم ان کی کوششوں کو اس وقت دھچکا لگا جب اسرائیلی جیلوں میں قید 26 قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے اختلافات سامنے آئے۔

دوسری جانب واشنگٹن نے اس صورتِ حال پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ہوئے کہا ہے کہ فریقین نے غیر ضروری اقدامات کیے ہیں۔

اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تین برس کے وقفے کے بعد رواں برس جولائی میں دوبارہ مذاکرات شروع ہونے ہیں تاہم رواں ہفتے اسرائیل اور فلسطین کی جانب سے ایک دوسرے پر وعدوں کا پاس نہ رکھنے کے الزامات سامنے آنے کے بعد مذاکرات کا انعقاد مشکل دکھائی دیتا ہے۔

اسرائیل کی جانب سے جمعرات کو فلسطینی قیدیوں کے چوتھےگروپ کو رہا نہ کرنے کے اعلان سے فلسطینی برہم ہیں۔

اس سے پہلے فلسطینی قیدیوں کے تین گروپوں کی رہائی کو اسرائیلی عوام نے بالکل پسند نہیں کیا تھا کیونکہ رہائی پانے والے قیدیوں میں کئی ایسے افراد تھے جنھیں اسرائیلیوں کو قتل کرنے کا مرتکب قرار دیا گیا تھا۔

اسرائیل نے جمعرات کو فلسطینی رہنماؤں کی جانب سے اقوام متحدہ میں اپنی شناخت بڑھانے کی پاداش میں فلسطینی قیدیوں کے چوتھےگروپ کو رہا کرنے کا ارادہ ترک کر دیا تھا۔

اسرائیل کی وزیر انصاف زپی لِونی نے کہا تھا کہ فلسطینیوں نے اپنے اقدامات سے قیدیوں کی رہائی کی شرائط سے رو گردانی کی ہے۔

دوسری جانب فلسطین کا موقف ہے کہ ان قیدیوں کو ہر صورت رہا کیا جائے کیونکہ اسرائیل نے جولائی میں شروع ہونے والے مذاکرات سے قبل ان کی رہائی کا وعدہ کیا تھا۔

فلسطین کے صدر محمود عباس نے بدھ کو چوتھے جنیوا کنونشن کے ساتھ شروع بین الاقوامی معاہدوں کی توثیق کرنے کے لیے ’فلسطین کی ریاست‘ کی جانب سے درخواستوں پر دستخط کیے جس کے بارے میں فلسطین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اسرائیل کی جانب سے قیدیوں کو رہا نہ کرنے کا ردِ عمل ہے۔

اسی بارے میں