لاپتہ طیارہ:’دورانِ تلاش چینی جہاز کو سگنل موصول‘

تصویر کے کاپی رائٹ xinhua
Image caption بحری جہاز پر موجود تین افراد نے یہ سگنل سنا لیکن اسے ریکارڈ نہیں کیا جا سکا

چینی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ بحرِ ہند میں ملائیشیا کی فضائی کمپنی کے لاپتہ مسافر طیارے کی تلاش میں مصروف ایک چینی بحری جہاز کو ایک سگنل موصول ہوا ہے۔

ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ اس سگنل کی فریکوئنسی سینتیس اعشاریہ پانچ کلو ہرٹز ہے جو کہ طیاروں کے فلائٹ ریکارڈر سے خارج ہونے والے سگنل کے برابر ہے۔

تاہم تاحال اس بارے میں تصدیق نہیں کی جا سکی ہے کہ اس سگنل کا تعلق گمشدہ پرواز ایم ایچ 370 سے ہے۔

کوالالمپور سے بیجنگ جانے والا یہ مسافر بردار طیارہ آٹھ مارچ کو لاپتہ ہوا تھا اس پر 239 افراد سوار تھے۔

اس کی تلاش کا عمل اس وقت انتہائی اہم مرحلے میں داخل ہو گیا ہے اور درجنوں بحری جہاز اور طیارے جہاز کے ڈیٹا ریکارڈر کی بیٹری کی مدت ختم ہونے سے قبل اسے ڈھونڈ نکالنے کے لیے کوشاں ہیں۔

چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنوا کے مطابق سنیچر کو تلاش میں مصروف چینی بحری جہاز ہیزون 01 نے ایک سگنل کا پتہ چلایا لیکن یہ طے ہونا ابھی باقی ہے کہ اس کا تعلق گمشدہ طیارے سے ہے یا نہیں۔

ایک چینی اخبار کے مطابق بحری جہاز پر موجود تین افراد نے یہ سگنل سنا لیکن اسے ریکارڈ نہیں کیا جا سکا کیونکہ یہ اچانک موصول ہوا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption آسٹریلوی بحری جہاز اوشن شیلڈ پر امریکی بحریہ کا ’پِنگ لوکیٹر‘ یا بلیک باکس سے آنے والے سگنل کا سراغ لگانے والا آلہ نصب ہے

تلاش کے عمل کی نگران اور رابطہ کار آسٹریلوی ایجنسی کے سربراہ ریٹائرڈ ایئر چیف مارشل اینگس ہیوسٹن کا کہنا ہے کہ ’جن سگنلوں کے بارے میں اطلاع ملی ہے وہ طیارے کے بلیک باکس سے مطابقت رکھتے ہیں لیکن تاحال یہ تصدیق نہیں ہوئی کہ ان کا تعلق گمشدہ طیارے سے ہے‘۔

ملائیشیا نے مختلف ممالک کے مصنوعی سیاروں سے ملنے والی تصاویر کی بنیاد پر کہا تھا کہ طیارے کی موجودگی کے آخری شواہد بحرِ ہند کے جنوبی علاقے میں پائے گئے تھے لیکن ابھی تک اس طیارے کا ملبہ کہیں سے بھی نہیں ملا ہے۔

تاحال یہ بھی واضح نہیں کہ یہ طیارہ اپنے مقررہ راستے سے ہٹ کر بحرِ ہند کے جنوبی علاقے میں کیوں پہنچا تھا۔

اس طیارے کی تلاش میں شامل دو بحری جہاز ایسے آلات سے لیس ہیں جو لاپتہ طیارے کے بلیک باکس کے سگنل کو زیرِآب ڈھونڈ نکالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

Image caption بلیک باکس کی بیٹری سات اپریل تک ہی سگنل بھیج سکتی ہے

آسٹریلوی بحری جہاز اوشن شیلڈ پر امریکی بحریہ کا ’پِنگ لوکیٹر‘ یا بلیک باکس سے آنے والے سگنل کا سراغ لگانے والا آلہ نصب ہے اور ایسی ہی صلاحیت رکھنے والے جہاز ایچ ایم ایس ایکو بھی تلاش میں شامل ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے اس تلاش میں وقت کی بڑی اہمیت ہے کیونکہ بلیک باکس کی بیٹری تیس دن تک ہی یعنی رواں ماہ کی سات تاریخ تک ہی سگنل بھیج سکتی ہے جس کے بعد وہ ناکارہ ہو جائے گی۔

آسٹریلوی شہر پرتھ کے شمال مغرب میں 1700 کلومیٹر کے فاصلے پر جس جگہ سمندر میں تلاش جاری ہے، اسے لاپتہ طیارے کی تلاش کے لیے مصنوعی سیاروں سے لیے گئے ڈیٹا کی بنیاد پر چنا گیا تھا۔

ملائیشیا نے سنیچر کو ہی کہا ہے کہ وہ تلاش کے عمل میں رابطہ کاری بہتر بنانے کے لیے تین وزارتی کمیٹیاں اور ایک نئی تحقیقاتی ٹیم بنا رہا ہے جس میں آسٹریلیا، چین، امریکہ، برطانیہ اور فرانس کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔

اسی بارے میں