ایم ایچ 370:’تلاش کے دوران خوش آئند سراغ ملے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption لا پتہ طیارے کی تلاش میں شامل آسٹریلوی بحری جہاز اوشین شیلڈ انتہائی جدید آلات سے لیس ہے

ملائیشیا کے لاپتہ مسافر طیارے کی تلاش کی عالمی کوششوں کے قائد آسٹریلوی اہلکار نے کہا ہے کہ انھیں تلاش کے دوران ’خوش آئند سراغ‘ ملے ہیں۔

ایئر چیف مارشل اینگس ہوسٹن نے پیر کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ آسٹریلوی بحری جہاز اوشن شیلڈ کو ایسے سگنل ملے ہیں جو طیارے کے بلیک باکس کے سگنلز سے مطابقت رکھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اوشن شیلڈ کو یہ سگنل دو مرتبہ ملے اور ایک مرتبہ ان کا دورانیہ دو گھنٹے سے زیادہ تھا۔

آسٹریلوی افسر نے کہا کہ’یہ اب تک کا سب سے خوش آئند سراغ ہے‘۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بارے میں مزید معلومات درکار ہیں: ’ہمیں ابھی طیارہ نہیں ملا ہے اور ہمیں مزید تصدیق کرنے کی ضرورت ہے۔‘

واضح رہے کہ کوالالمپور سے بیجنگ جانے والا یہ مسافر بردار طیارہ آٹھ مارچ کو لاپتہ ہوا تھا اور اس پر 239 افراد سوار تھے جن میں بیشتر چینی باشندے تھے۔تحقیقات کرنے والوں کا خیال ہے کہ یہ طیارہ بحر ہند میں کہیں گر کر تباہ ہو گيا ہے لیکن تاحال اس کا ملبہ نہیں مل سکا ہے۔

اینگس ہوسٹن نے بتایا کہ ان سگنلوں کی نشاندہی اوشن شیلڈ پر نصب ’پنگر لوکیٹر‘ کی مدد سے ہوئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اس چیز کی تصدیق میں کئی دن لگ سکتے ہیں کہ آیا یہ سگنل مصدقہ طور پر ایم ایچ 370 کے ہی ہیں

ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ جب سگنل موصول ہوا تو اس کی مدت دو گھنٹے 20 منٹ تھی جس کے بعد جہاز جب دوبارہ مڑ کر واپس آیا تو 13 منٹ تک سگنل ملتا رہا۔

انھوں نے کہا ’دوسری مرتبہ دو واضح سگنل سنائی دے رہے تھے اور یہ فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر اور کاک پٹ وائس ریکارڈ سے موصول ہونے والی ٹرانسمیشن سے مطابقت رکھتے تھے۔‘

ایئر چیف مارشل اینگس ہوسٹن کا کہنا تھا کہ یہ سگنل 4500 میٹر کی گہرائی سے مل رہے تھے اور اوشن شیلڈ اب بھی اسی علاقے میں موجود ہے لیکن اسے مزید سگنل نہیں ملے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’اب ان سگنل کے صحیح مقام کا تعین کرنا باقی ہے اور ایسا ہونے پر روبوٹ گاڑی کی مدد سے سمندر کے فرش پر ملبے کی نشاندہی کا عمل شروع کیا جا سکے گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption برطانوی بحری جہاز ایچ ایم ایس ایکو جنوبی بحر ہند کے اس علاقے میں پہنچ گیا ہے جہاں دو بار سگنل ملے تھے

تاہم انھوں نے خبردار کیا کہ اس چیز کی تصدیق میں کئی دن لگ سکتے ہیں کہ آیا یہ سگنل مصدقہ طور پر ایم ایچ 370 کے ہی ہیں۔

ادھر سراغ رسانی کے جدید آلات سے لیس ایک برطانوی بحری جہاز ایچ ایم ایس ایکو اس علاقے میں پہنچ گیا ہے جہاں ملائیشیا کے لاپتہ طیارے کو تلاش کرنے والے ایک چینی بحری جہاز کو دو بار سگنل ملے تھے۔

واضح رہے کہ اس جہاز میں بھی ایسی ٹیکنالوجی موجود ہے جو طیاروں کے ڈیٹا ریکارڈر باکس یعنی بلیک باکس سے نکلنے والے سگنلز کو زیر آب پکڑ سکتی ہے۔

اتوار کو تلاش کا 30 واں دن تھا اور کہا جاتا ہے کہ ریکارڈر کی بیٹری 30 دنوں بعد کمزور ہونے لگتی ہے۔

دریں اثنا لاپتہ طیارے پر سوار مسافروں کے لواحقین نے دارالحکومت کوالالمپور میں منعقدہ ایک دعائیہ تقریب میں شرکت کی ہے۔

اسی بارے میں