ایم ایچ 370:’دوبارہ سگنل ملا تو تہہ میں تلاش شروع ہوگی‘

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption کئی ممالک کے طیارے اور بحری جہاز بحرِ ہند میں گمشدہ طیارے کی تلاش میں مصروف ہیں

کوالالمپور سے بیجنگ کے سفر کے دوران لاپتہ ہونے والے ملائیشیا کے مسافر طیارے کو غائب ہوئے ایک ماہ ہو گیا ہےاور اس کی تلاش میں مصروف آسٹریلوی حکام نے کہا ہے کہ اتوار کو ملنے والے سگنلز دوبارہ وصول کرنے کی کوشش جاری ہے اور اگر سگنل ملے تو ملبے کی تلاش کے لیے سمندر میں خودکار آبدوز گاڑی اتاری جائے گی۔

منگل کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے تلاشی کی کارروائیوں کے آسٹریلوی رابطہ کار ایئر چیف مارشل اینگس ہوسٹن نے کہا کہ اب تک ملنے والے سگنل قابلِ یقین تھے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ تلاش کا عمل اس وقت تک جاری رہے گا جب تک حکام کو اس بات کا یقین نہیں ہو جاتا کہ اب مزید سگنل ملنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

اسی پریس کانفرنس میں آسٹریلوی وزیرِ دفاع نے کہا ہے کہ تلاش کے سلسلے میں اب بھی بہت کام باقی ہے۔

اس سے قبل اینگس ہوسٹن نے آسٹریلوی ریڈیو کو بتایا تھا کہ وہ وقت قریب آ رہا ہے جب ہم امریکی ساختہ خودکار روبوٹک گاڑی ’بلیو فن - 21‘ کو سمندر میں اتاریں تاکہ وہ سمندر کی تہہ میں ملبے کا کھوج لگا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں اس بارے میں بات کرنے والا ہوں اور میرے خیال میں ہم اس لمحے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔‘

اس وقت طیارے کی تلاش کا عمل جنوبی آسٹریلیا کے ساحل سے دور ایک چھ سو کلومیٹر کی قوس میں ہو رہا ہے۔

آٹھ مارچ 2014 کو غائب ہونے والے اس طیارے پر 239 افراد سوار تھے جن میں سے بیشتر چینی باشندے تھے۔

اس معاملے کی تحقیقات کرنے والوں کا خیال ہے کہ یہ طیارہ اپنے مقررہ راستے سے ہٹنے کے بعد بحر ہند کے جنوبی حصے میں کہیں گر کر تباہ ہو گيا ہے لیکن تاحال اس کا ملبہ نہیں مل سکا ہے۔

طیارے کی تلاش کے لیے بین الاقوامی آپریشن جاری ہے جن میں کئی ممالک کے طیارے اور بحری جہاز آسٹریلوی قیادت میں بحرِ ہند کے اس علاقے میں ملبے کی تلاش میں مصروف ہیں جس کی نشاندہی جہاز سے موصول ہونے والے ڈیٹا کی بنیاد پر کی گئی ہے۔

پیر کو آسٹریلوی بحری جہاز اوشن شیلڈ کو دو مرتبہ ایسے سگنل ملے ہیں جو طیارے کے بلیک باکس کے سگنلز سے مطابقت رکھتے تھے۔ ایک مرتبہ ان سگنلز کا دورانیہ دو گھنٹے سے بھی زیادہ تھا۔

منگل کو آسٹریلوی حکام اس مقام پر سونار سے لیس ایک زیرِ آب ڈرون گاڑی اتارنے کا ارادہ رکھتے ہیں جہاں آسٹریلوی اور چینی بحری جہازوں نے اس فریکوئنسی کے سگنل موصول کیے تھے جو طیاروں کے فلائیٹ ڈیٹا ریکارڈر اور کاک پٹ وائس ریکارڈر سے خارج ہونے والے سگنلوں کی ہوتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سگنلوں کی نشاندہی اوشن شیلڈ پر نصب ’پنگر لوکیٹر‘ کی مدد سے ہوئی

طیاروں کے بلیک باکس کی بیٹری کی مدت عموماً 30 دن ہوتی ہے اور خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اگر جلد ہی اس کا سراغ نہ ملا تو اس سے آنے والے سگنل ہمیشہ کے لیے خاموش ہو سکتے ہیں۔

تلاش میں مصروف اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ابھی ان سگنلوں کو طیارے سے جوڑنا قبل از وقت ہوگا تاہم تلاش کی عالمی کوششوں کے قائد نے انھیں ’خوش آئند سراغ‘ قرار دیا تھا۔

طیارے کی گمشدگی کا ایک ماہ مکمل ہونے پر ملائیشیا اور چین میں دعائیہ تقاریب منعقد ہوئی ہیں جس میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے ہیں۔

چین کے شہر بیجنگ میں اس لاپتہ طیارے کے مسافروں کے لواحقین نے منگل کو ایک دعائیہ تقریب میں شرکت کی ہے۔ بیجنگ کے لیڈو ہوٹل میں ہونے والی تقریب میں لواحقین نے شمعیں روشن کی اور اپنے پیاروں کو یاد کیا اور ان کے لیے دعائیں کیں۔

اس موقع پر موجود سٹیو وینگ کا کہنا تھا کہ ’ہم 31 دن سے انتظار ہی کر رہے ہیں لیکن ہمیں اب مزید رونا نہیں ہے اور تکلیف نہیں سہنی ہے۔‘

اسی بارے میں