تلوار لٹکتی رہے گی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کرائمیا میں کارروائی کرنے والی فوج میں ’ریپڈ ری ایکشن فورس‘ کے دستے شامل تھے

نیٹو کے اس اندازے کے بعد کہ روس کے چالیس ہزار فوجی یوکرین کی سرحد پر صدر پوتن کے اگلے حکم کے لیے تیار بیٹھے ہیں، اس بات کا خدشہ بڑھ گیا ہے کہ اب یہ بات صرف ماسکو اور کیئف کے درمیان تند وتیز جملوں کے تبادلے تک محدود نہیں رہے گی۔ دونوں ممالک کے درمیان باقاعدہ جنگ کے امکانات مذید بڑھ چکے ہیں۔

اگر روس کو یوکرین پر چڑھائی کا جواز چاہیے تو اس کے لیے بھی لگتا یہی ہے کہ تیاری ہو چکی ہے۔ لیکن سول پیدا ہوتا ہے کہ کیا روس کے پاس اتنی فوجی طاقت موجود ہے کہ اس کے فوجی سرحد عبور کر کے یوکرین کی ملکی حدود میں داخل ہو جائیں؟ کرائمیا میں روس کی اب تک کی فوجی کارروائیوں سے کیا نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے؟

روسی کے عسکری امور کے ماہر کیئر گائلز کا خیال ہے کہ ’ آج کی روسی فوج اس روسی فوج سے بہت مختلف ہے جسے ہم نے سنہ 2008 میں جارجیا میں لڑتے دیکھا تھا۔

’اگرچہ بظاہر روسی فوج کو جارجیا میں کسی دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا، لیکن سنہ 2008 کی اس کارروائی میں روس کی فوجی کارکردگی کی خرابیاں سامنے ضرور آ گئی تھیں۔‘

کیئر گائلز کہتے ہیں کہ ’جارجیا پر حملہ کرنے والی روسی فوج سوویت یونین کے دور والی فوج تھی جس میں سنہ 1980 سے کوئی خاص تبدیلی نہیں ہوئی تھی۔ وہ فوج کسی دوسری طرز کی جنگ کے لیے ترتیب دی گئی تھی۔‘

’اسی لیے جارجیا کی جنگ سے روس نے بہت سے سبق سیکھے، چاہے ان کا تعلق فوجی کی انتظامی صلاحیت سے ہو، اس کی کمانڈ اینڈ کنٹرول سے ہو یا اسلحے اور فوج کے مختلف شعبوں کے درمیان رابطے سے ہو۔‘

روسی فوجوں کو جدید خطوط پر اسطوار کرنے کا عمل سنہ 2008 سے پہلے ہی شروع کر دیا گیا تھا۔ لیکن جارجیاکی جنگ میں یہ بات ثابت ہوگئی تھی کہ روسی فوج کی تجدید ہونا ضروری ہے اور اس جنگ نے روس کی سیاسی قیادت کو بھی یہ موقع اور حمایت فراہم کر دی کہ وہ فوج میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں لا سکتے تھے۔

واشنگٹن کے ایک تھِنک ٹینک سے منسلک ماہر روجر میکڈرموٹ اس خیال سے متفق نہیں اور ان کہنا ہے کہ روسی حکومت نے فوج کو ماڈرن بنانے کا فیصلہ پہلے سے ہی کر رکھا تھا اور جارجیا کی جنگ نے انھیں وہ جواز فراہم کر دیا کہ وہ روس کی ’روایتی‘ فوج کو ایک جدید فوج میں تبدیل کر دی۔ ’لیکن ناقص منصوبہ بندی اور نظام کے اندر موجود بد دیانتی کی وجہ سے روسی فوج کو جدید بنانے کا منصوبہ زیادہ تر ناکام ہی رہا۔‘

’تاہم ان خرابیوں کے باوجود روسی فوج کی تشکیل نو اور اسے جدید اسلحے سے لیس کرنے کا عمل جاری رہا۔‘

اور اس عمل کا نتیجہ یہ نکلا کہ گدشتہ کچھ برسوں میں روسی فوج کی صلاحیتوں میں بہرحال خاصی بہتری بھی آئی ہے۔ جب روسی فوجوں نے کرائمیا پر قبضہ کیا تو اس وقت دنیا کو روسی فوج میں آنے والی ان تبدیلیوں کا مشاہدہ کرنے کا موقع بھی ملا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فوج کی تشکیل نو اور اسے جدید اسلحے سے لیس کرنے کا عمل جاری رہا

بلکہ اگر آپ کو گذشتہ دو تین برسوں میں ماسکو میں ہونے والی فوجی پریڈ دیکھنے کا موقع ملا ہو تو آپ نے یقیناً محسوس کیا ہوگا کہ روسی فوج ایک جدید فوج بن چکی ہے۔

کچھ عرصہ پہلے تک جو آلات صرف مخصوص فوجیوں کے پاس ہوتے تھے، اب وہ عام سپاہیوں کے ہاتھوں میں بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

روجرگائلز کا کہنا ہے کہ انھوں نے کرائمیا میں کارروائی کرنے والے روسی فوجی دستوں کو بغور دیکھا تھا۔ ’ یہ فوجی دستے عام فوجی نہیں تھے بلکہ اس میں سبک رفتاری سے کارروائی کرنے والی ’ریپڈ ری ایکشن فورس‘ کے دستے بھی شامل تھے جن کے پاس تمام ضروری آلات موجود تھے۔

’ اس میں کوئی شک نہیں کہ روسی فوج مکمل طور پر ماڈرن نہیں ہے، لیکن ’آج کی روسی فوج سنہ 2008 کی روسی فوج کے مقابلے میں بہت زیادہ باصلاحیت ہے۔ یوکرینی فوجوں کے مقابلے میں تو روسی فوج واقعی بہت باصلاحیت ہے۔‘

روجرگائلز کا خیال ہے کہ یوکرین کی سرحدوں پر روسی حملے کی تلوار مذید کچھ عرصے تک لٹکتی رہے گی۔

اسی بارے میں