ہنی مون قتل، شرین دیوانی جنوبی افریقہ کےحوالے

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption شرین دیوانی نے جنوبی افریقہ نہ جانے کے لیے ایک لمبی قانونی جنگ لڑی

سکاٹ لینڈ یارڈ کے مطابق ہنی مون پر اپنی بیوی کو قتل کرنے کی سازش کے الزام کا سامنا کرنے والے شرین دیوانی کو جنوبی افریقہ بھیج دیا گیا ہے۔

34 سالہ شرین دیوانی پر الزام ہے کہ انھوں نے اپنی 28 سالہ بیوی اینی کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔

اینی کو کیپ ٹاؤن میں نومبر سنہ 2010 میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

برسٹل سے تعلق رکھنے والے بزنس مین شرین دیوانی پچھلے تین سال سے کارروائی کے لیے جنوبی افریقہ جانے سے انکار کرتے رہے ہیں مگر اس بار ان کی اپیل مسترد کر دی گئی ہے۔

شرین دیوانی منگل کو مغربی کیپ ہائی کورٹ میں پیش ہوں گے۔

سکاٹ لینڈ یارڈ سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ 34 سالہ شرین کو سات اپریل کو برطانیہ سے جنوبی افریقہ بھجوا دیا گیا ہے۔

دوسری جانب اینی دیوانی کے خاندان نے شرین دیوانی کو قانونی کارروائی کے لیے بھجوانے کا خیر مقدم کیا ہے۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے اینی کے بھائی انیش ہندوچا نے کہا ’یہ ہمارے لیے بہت مشکل وقت ہے۔ ہم جنوبی افریقہ اور برطانیہ کے لوگوں کی مدد سے اس صدمے کا سامنا کر رہے ہیں۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ قانونی کارروائی کے لیے شرین دیوانی کو جنوبی افریقہ بھجوانا ان کے خاندان کےلیے’نہایت کٹھن‘ تھا۔

دوسری جانب شرین دیوانی کے وکلا کا کہنا تھا کہ انھیں جنوبی افریقہ بھجوانے کے لیے زبردستی نہیں کی جا سکتی۔

خیال رہے کہ پچھلے مہینے ہائی کورٹ کے جج نے ان کی اپیل مسترد کر دی تھی اور انھیں سپریم کورٹ میں اپیل کرنے سے روک دیا تھا۔

جج نے جنوبی افریقہ کے حکام کی بات مانتے ہوئے کہا کہ ذہنی دباؤ کی وجہ سے اگر اٹھارہ مہینے میں شرین مقدمے کا سامنا نہ کر سکے تو انہیں واپس برطانیہ بھیج دیا جائے گا۔

اینی دیوانی کے قتل کے الزام میں ٹیکسی ڈرائیور زولہ ٹونگو کو 18 سال کی قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔

اسی بارے میں