یہ بھی کوئی وقت ہے فون کا؟

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption دفتری اوقات کے بعد سکون برباد کرنے والی ای میلز ہر ملازم کا مسئلہ نہیں ہے

فرانس میں نئے قوانین متعارف کروائے جا رہے ہیں جن کا مقصد ملازمین کو دفتر کے اوقات کے بعد سرکاری ای میلز سے بچانا ہے۔ کیا ایسا کوئی قانون باقی دنیا میں بھی سود مند ہو سکتا ہے؟

آپ ساحل سمندر پر مزے سے لیٹے ہوئے ہیں اور آپ کا موبائل فون بج اٹھتا ہے۔ آپ کے افسر کی ای میل آ گئی ہے۔

اکثر نوکریوں میں ملازمین کے دفتر سے نکل جانے کے بعد بھی سرکاری ای میلز ان کا پیچھا نہیں چھوڑتیں۔ لیکن اب فرانس نے اس سلسلے کو بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اندازہ ہے کہ نئے قوانین کے آنے سے ڈیجیٹل اور اسی قسم کے دیگر شعبوں سے منسلک کم از کم دس لاکھ ملازمین کو سکھ کا سانس نصیب ہوگا اور انہیں دفتر کے اوقات کے علاوہ ای میل نہیں بھیجی جا سکے گی۔

ڈیجیٹل کمپنیوں کے ملازمین کی فیڈریشنوں اور یونین کے درمیان طے پانے والے ایک معاہدے کے مطابق صبح نو بجے سے شام چھ بجے کے اوقات کے علاوہ ملازمین کو اپنے سرکاری فونز بند کرنا ہوں گے اور وہ سرکاری ای میلز کو بھی نہیں دیکھیں گے۔ معاہدے کے تحت اداروں کو یہ حق نہیں ہوگا کہ وہ اپنے ملازمین پر ان اوقات کے علاوہ بھی دفتری پیغامات دیکھنے پر مجبور کر سکیں۔

فرانس میں مینیجروں کی تنظیم (جنرل کنفیڈریشن آف مینیجرز) کے چیئرمین مشیل ڈی لا فورس کا کہنا ہے کہ ’ ہم کام کے اوقات کا حساب تو کمپوٹر پر رکھیں گے لیکن دفتر کے اوقات کے علاوہ صرف ’مخصوص حالات‘ میں سرکاری ای میلز بھیجنے کی اجازت ہوگی۔‘

کئی دیگر ممالک کی طرح فرانس میں بھی ملازمین ایک ہفتے میں 35 گھنٹوں کے لیے کام کرنے کے پابند ہیں، لیکن فرانس وہ اکیلا ملک نہیں کہ جہاں لوگ فکرمند ہیں کہ لیپ ٹاپ اور سمارٹ فونز کے اس دور میں دفتر کے اوقات کے بعد بھی انہیں ای میلز اور ٹیلفون آتے رہتے ہیں۔

دسمبر 2011 میں برطانیہ میں بھی کاریں بنانے والی مشہور کمپنی ووکس ویگن نے بھی اعلان کیا تھا کہ صبح دفتر سےآدھا گھنٹہ پہلے اور شام کو دفتر سے آدھا گھنٹہ بعد ان کے کمپیوٹر سرورز ملازمین کو بھیجی جانے والی ای میلز کو روک لیا کریں گے۔اس کمپنی کی دیکھا دیکھی جرمنی کی ایک وزارت کے دفاتر میں بھی اسی روایت کو متعارف کرایا گیا تھا۔

برطانیہ میں بھی ’اوقات کار کے قوانین‘ کے ایکٹ کے تحت کئی شعبوں میں ملازمین کو دفتری اوقات کے بعد کام سے انکار کرنے کا تحفظ حاصل ہے، تاہم ملازمین کی تنظیموں کی فیڈریشن ’ٹی یو سی‘ کا اصرار ہے کہ یہ قانون ملازمین کو ای میلز سے تحفظ فراہم نہیں کرتا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دفتری اوقات کے بعد سکون برباد کرنے والی ای میلز ہر ملازم کا مسئلہ نہیں ہیں بلکہ اس سے بنیادی طور پر صرف وکلا اور بینکروں جیسے ’وائیٹ کالر‘ ملازمین ہی متاثر ہوتے ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایسے ملازمین کی تعداد کم ہے جو رات کو ملنے والی ای میلز سے پریشان نہیں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption غیر ضروری ای میلز دیکھ کر ’میرا تو پارہ چڑھ جاتا ہے۔‘

مثلاّ برطانوی شہر لِیورپول کے ایک ہائی سکول میں آئی ٹی کے استاد مائیکل رِیڈ کہتے ہیں کہ آئے روز ان کی شام خراب ہو جاتی ہے۔ ’آپ کو رات 11.45 پر ایک ای میل موصول ہوتی ہے۔ آپ سمجھ جاتے ہیں کہ یقیناّ آپ کے سکول کا کوئی دوسرا استاد بھی اس وقت کام کر رہا ہے اور اسے آپ کی مدد چاہئیے۔ لیکن ایسی بے وقت کی ای میلز سے آپ کا سارا مزا کرکرا ہو جاتا ہے اور آپ اپنے کام سے بیزار ہو جاتے ہیں۔‘

اشتہارات کی دنیا سے منسلک ایک خاتون، جو اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتیں، کہتی ہیں کہ ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ہر ای میل کا جواب دیا کریں، لیکن مسئلہ یہ کہ انھیں موصول ہونے والی ای میلز میں کئی ایک ایسی ہوتی ہیں جو شام چھ بجے سے رات دس بجے کے دوران موصول ہوتی ہیں۔’ میرا خیال ہے کہ مجھے آپ کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ان میں سے ہر ای میل ایسی نہیں ہوتی کہ مجھے اس کا فوری جواب دینا ہوتا ہے۔‘ چونکہ وہ کسی ایک کمپنی کے ساتھ کام نہیں کرتیں، اس لیے وہ اُن ای میلز کا جواب ضرور دیتی ہیں جن میں ان سے کوئی بات پوچھی گئی ہو۔

لیکن دوسری ای میل جن میں کوئی ضروری بات نہیں ہوتی، ایس ای میلز دیکھ کر ’میرا تو پارا چڑھ جاتا ہے۔‘

خاتون نے ایسی ای میلز اور بے وقت کی فون کالز سے بچنے کا یہی حل نکالا ہے کہ رات دس بجے کے بعد اپنا فون ہی بند کر دو۔ ’پرسکون نیند کا اس کے علاوہ اور کوئی طریقہ نہیں۔‘

’ٹی یو سی‘ کے پالیسی کے شعبے سے منسلک پال سیلرز کہتے ہیں کہ برطانیہ میں بھی ہمیں فرانس جیسی صورتحال کا سامنا ہے اور ہمیں بھی اس مسئلے کا حل تلاش کرنا ہے۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ برطانیہ میں قانون، میڈیا، فائنینس اور مقامی حکومتوں کے ملازمین کو اجازت نہیں کہ وہ دفتر کے بعد بھی اپنے فون بند کر سکیں۔ ’مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ہم کیوں توقع کرتے ہیں کہ لوگ رات ساڑھے آٹھ بجے تک کام کرتے رہیں۔‘

’برطانیہ میں اوقات کار کے قوانین سنہ 1990 سے پہلے اس وقت بنائے گئے تھے جب ہر کسی کے پاس موبائل فونز نہیں تھے۔ لیکن اب ان قوانین کو بدلنے کی ضرورت ہے۔‘

سیلرز کہتے ہیں کہ ’محکمہ صحت کے ملازمین کو اگر شام کو کام پر نہیں بلایا جاتا تو تب بھی انھیں فون پر حاضر ہونے کی اضافی تنخواہ دی جاتی ہے۔ ’لیکن ایسے ملازمین جن کو شام کے اوقات کے پیسے نہیں دیے جاتے، دراصل ان کے کام کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔‘

آج کل ایک اور خیال کو بھی بہت سے لوگوں کی پذیرائی حاصل ہے۔ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی کالم نگار لُوسی کیلاوے کہتی ہیں کہ اب کئی لوگوں کے لیے کام اور فراغت اور گپ شپ کے اوقات گڈ مڈ ہو چکے ہیں۔ ’نئے دور کی حقیقت یہ ہے کہ اگر آپ تخلیقی شعبوں میں ملازمت کرتے ہیں تو آپ کی تعطیلات اور کام دونوں ساتھ ساتھ چلتے رہتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فرانس میں ملازمین نے بہتر سہولتوں کے لیے مظاہرے بھی کیے ہیں

ایسے ملازمین کی بھی کمی نہیں جن کو ای میل تنگ نہیں کرتی بلکہ وہ بے وقت کی ای میلز سے ہونے والے ’کولیٹل ڈیمیج‘ یا دوسرے نقصانات پر متفکر ہیں۔لندن میں مقیم اشتہارات کی دنیا کے ایک کنسلٹنٹ کہتے ہیں: ’ مجھے دفتر کے اوقات کے بعد ای میلز تنگ نہیں کرتیں، لیکن میری شریکِ حیات تنگ ہوتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ میرے پارٹنر کا دعویٰ تھا کہ وہ رات کے کھانے کے دوران بھی سب سے نظر بچا کر چپکے سے اپنے موبائل پر ای میل چیک کر سکتے ہیں، لیکن اب انھیں اپنے اس دعوے پر ناز نہیں رہا۔

’میرا خیال ہے کہ دوسرے لوگوں کی موجودگی میں جب آپ چپکے سے ای میل دیکھ رہے ہوتے ہیں تو آپ کو زیادہ مسئلہ ہوتا ہے۔ اور آپ کے ساتھ بیٹھے ہوئے لوگوں کے لیے تو یہ تجربہ ناگوار ہی ہوتا ہے۔‘

اسی بارے میں