اسرائیل فلسطین پر مزید پابندیاں عائد کرے گا

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption فلسطین کی مذاکراتی ٹیم کے رابطہ کار نے اسرائیل کے اس اقدام کی مذمت کی ہے

اسرائیل میں حکام کے مطابق اسرائیل نے فلسطین کی جانب سے بین الاقوامی معاہدوں کی توثیق کرنے کے ردِ عمل میں اس کے خلاف پابندیاں عائد کر دے گا۔

حکام کے مطابق اسرائیل فلسطینی انتظامیہ کی جانب سے وصول کیے جانے والے ٹیکسوں کی ادائیگی منجمد کر دے گا اور فلسطینی انتظامیہ کی اسرائیلی بینکوں میں موجود رقوم تک رسائی کو محددو کر دے گا۔

اسرائیل نے یہ فیصلہ ایسے وقت کیا ہے جبکہ یروشلم میں امریکی ثالثی میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن مذاکرات جاری ہیں جن میں پیش رفت کے کوئی اشارے نہیں ملے۔

دوسری جانب فلسطین کی مذاکراتی ٹیم کے رابطہ کار نے اسرائیل کے اس اقدام کی مذمت کی ہے۔

فلسطینی رابطہ کار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اسرائیلی اقدام بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

ادھر امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان جین ساکی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جمعرات کو امریکہ، اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن مذاکرات کا نیا دور ہوا ہے۔

ترجمان نے اس بات کی تردید کی کہ یروشلم میں ہونے والی بات چیت میں اسرائیل اور فلسطین نے مذاکرات کو آگے بڑھانے کے سلسلے میں کوئی معاہدہ کر لیا ہے مگر انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں تفصیل سے بات چیت ہورہی ہے اور فاصلے کم ہو رہے ہیں۔

اسرائیل اور فلسطین نے حالیہ ہفتوں میں ایک دوسرے پر وعدوں کا پاس نہ رکھنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔

اسرائیل کی جانب سے گذشتہ جمعرات کو فلسطینی قیدیوں کے چوتھےگروپ کو رہا نہ کرنے کے اعلان سے فلسطینی برہم ہیں۔

اسرائیل نے جمعرات کو فلسطینی رہنماؤں کی جانب سے اقوام متحدہ میں اپنی شناخت بڑھانے کی پاداش میں فلسطینی قیدیوں کے چوتھےگروپ کو رہا کرنے کا ارادہ ترک کر دیا تھا۔

اس سے پہلے فلسطینی قیدیوں کے تین گروپوں کی رہائی کو اسرائیلی عوام نے پسند نہیں کیا تھا کیونکہ رہائی پانے والے قیدیوں میں کئی ایسے افراد تھے جنھیں اسرائیلیوں کو قتل کرنے کا مرتکب قرار دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں