میں نے ریوا کی چیخیں نہیں سنیں: پسٹوریس

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption آسکر پسٹوریس سے جرح کے دوران کئی بار پوچھا گیا کہ ان کےعدالتی بیانات اور گزشتہ بیان میں فرق کیوں ہے؟

جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے کھلاڑی آسکر پسٹوریس سے استغاثہ نے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس بات کی وضاحت کریں کہ ان کے گھر کا الارم اس رات کیوں بند تھا جس رات ان کی گرل فرینڈ کو انہوں نے گولی ماری۔

پسٹوریس نے کہا کہ ’میں نے الارم خود بند کیا تھا۔‘

استغاثہ کے وکیل نے آسکر پسٹوریس پر جھوٹ بولنے کا الزام لگایا جس کے جواب میں پسٹوریس نے اپنے بیانات میں تضاد کی وجہ تھکاوٹ بتائی۔

پسٹوریس تسلیم کرتے ہیں کہ انہوں نےنادانستہ طور پر اپنی گرل فرینڈ ریوا سٹین کیمپ کا قتل کیا۔

وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے غلط فہمی میں ریوا سٹین کیمپ کو ایک چور یا بغیر اجازت داخل ہونے والا کوئی شخص سمجھ کر ان پر گولی چلائی۔

جرح کے دوران پسٹوریس سے کئی بار پوچھا گیا کہ ان کےعدالتی بیانات اور گزشتہ بیان میں فرق کیوں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ریوا سٹین کیمپ کی والدہ جون نے بتایا کہ اسکر پسٹوریس نے علیحدگی میں ان کے خاندان سے معافی مانگنے کی کوشش کی ہے

ان سے پوچھا گیا کہ ’آپ بہت تھکے تو نہیں اور کیا جرح جاری رکھ سکتے ہیں؟‘

پسٹوریس نے جواب دیا کہ ’مجھے وقت نہیں چاہیے۔ میں تھکا ہوا ہوں۔ اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔‘

استغاثہ کے وکیل نیل نے اس بات کی استدعا کی اور کہا کہ ’ایسا دکھائی دیتا ہے کہ آپ اپنے جھوٹ کو چھپا رہے ہیں۔ میں آپ کے جواب سے مطمئن نہیں ہوں۔‘

اس پر جج نے مداخلت کی اور پسٹوریس سے پوچھا کہ کہیں وہ بہت زیادہ تھکے تو نہیں کہ کارروائی جاری نہ رکھ سکیں۔

استغاثہ نے اس کے بعد پسٹوریس کی ماضی کی زندگی کے واقعات پر گفتگو شروع کی جس کے بعد توجہ واپس سٹین کیمپ کے قتل کی رات کے واقعات پر مرکوز کی گئی۔

وکیلِ استغاثہ نے پسٹوریس کے بیانات پر جرح کرتے ہوئے دوبارہ وہی طریقہ اپنایا جو انہوں نے جمعرات کو اپنایا جس میں پسٹوریس کے بیانات کا جائزہ لیا اور ان پر جھوٹ بولنے کا الزام لگایا۔

پسٹوریس نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے کھڑکی کھلنے اور بند ہونے کی آواز سنی تھی جسے سنتے ہی وہ اپنے بستر سے نکلے اور انہوں نے اپنی بندوق اپنے بستر کے نیچے سے نکالی۔

’میں نے ریوا سے کہا کہ جھک جاؤ اور پولیس کو فون کرو۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وکیلِ استغاثہ گیری نیل نے آسکر پر جھوٹ بولنے کا الزام لگایا۔

اس پر نیل نے سوال کیا کہ کیا آپ نے سٹین کیمپ کو دیکھا اور پوچھا کہ انہوں نے آواز سنی ہے؟

اس پر پسٹوریس نے جواب دیا کہ ’14 کی صبح مجھے اس پر یقین تھا جو میں نے سنا۔‘

’میری پوری توجہ اس شخص پر مرکوز تھی جو اس وقت غسل خانے میں تھا۔‘

آسکر پسٹوریس پر اگر 29 سالہ ماڈل کے قتل کا الزام ثابت ہو جاتا ہے تو انہیں عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

لیکن ان کے اس الزام سے بری ہونے کی صورت میں عدالت ایک دوسرے جرم کے تحت انہیں 15 سال تک جیل بھجوا سکتی ہے۔

پسٹرویس پر پبلک میں غیر قانونی طور پر بندوق سے فائر کرنے اور غیر قانونی طور پر اسلحہ رکھنے کا الزام بھی ہے جن کی صحت سے وہ انکار کرتے ہیں۔

جنوبی افریقہ میں جیوری نہیں ہوتی اس لیے اس مقدمے کا فیصلہ ایک جج اور ان کے دو معاونین کریں گے۔

اسی بارے میں