بچوں سے زیادتی، چرچ معافی کا طلبگار

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ہم ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے اور زیادتی کے مرتکب افراد پر پابندیاں ضرور عائد ہوں گیں: پوپ

کیتھولک فرقے کے مسیحوں کے رہنما پوپ فرانسس نے پادریوں اور دوسرے مذہبی رہنماؤں کے ہاتھوں بچوں کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی سے جو ’مکروہ‘ برائی پیدا ہوئی اس پر معافی کی درخواست کی ہے۔

پوپ نے کہا کہ بچوں کے ساتھ زیادتی سے’کلیسا سے منسلک مردوں کے ہاتھوں اخلاقی نقصان ہوا‘ اور اس سلسلے میں چرچ سے منسلک افراد پر ’پابندیاں‘ لگائی جائیں گی۔

پوپ نے یہ بیان بچوں کے حقوق کی تنظیموں کے نمائندوں کے ساتھ ایک ملاقات میں دیا اور یہ اس مسئلے پر پوپ فرانسس کا سخت ترین بیان ہے۔

یاد رہے کہ پوپ نےگذشتہ برس مذہبی رہنماؤں کے ہاتھوں جنسی زیادتی کا شکار ہونے والے افراد کی مدد کی غرض سے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی تھی، لیکن کچھ کیتھولک حلقوں نے ان پر الزام لگایا تھا کہ بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والے پادریوں کے ہاتھوں ہونے والے اخلاقی اور ذہنی نقصان کو تسلیم کر کے پوپ اس معاملے میں خوامخواہ خود کوگھسیٹ رہے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار ڈیوڈ وِلی نے ویٹیکن ریڈیو کی ویب سائیٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ پوپ نے کہا کہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی وجہ سے’متاثرین کو جو نقصان پہنچا ہے‘ اس کے لیے وہ خود ذاتی طور معافی کے طلبگار ہیں۔

پوپ کا کہنا تھا کہ اگرچہ جن پادریوں نے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتیاں کی ہیں ان کی ’تعداد بہت کم‘ ہے تاہم اگر آپ پادریوں کی کل تعداد دیکھیں تو زیادتی کرنے والے افراد کی تعداد اتنی بھی کم نہیں۔

پوپ نے مذید کہا کہ ’ہم اس مسئلے سے کس طرح نمٹنے جا رہے ہیں، اس سلسلے میں ہم ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے اور زیادتی کے مرتکب افراد پر پابندیاں ضرور عائد ہوں گی۔‘

’بلکہ ہمیں اس سے بھی زیادہ سختی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔‘

بچوں کے تحفظ کی ایک تنظیم انٹرنیشنل کیتھولک چائلڈ بیورو سے منسلک ایلسینڈرا آؤلا ویٹیکن میں پوپ کے مذکورہ خطاب کے وقت موجود تھیں اور انھوں نے پوپ کے بیان پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایلسینڈرا آؤلا کا کہنا تھا کہ ’جنسی زیادتی کے معاملے پر پوپ نے بڑا واضح موقف اختیار کیا ہے اور میرا خیال ہے کہ ہم سب کو پوپ کی جانب سے ایسے ہی بیان کا انتظار تھا۔‘

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ ایک انٹرویو میں کیتھولک چرچ کا دفاع کرتے ہوئے پوپ فرانسس کا کہنا تھا کہ ’جنسی زیادتی سے نمٹنے کے لیے کیتھولک چرچ نے جس قدر کوشش کی ہے، کسی دوسرے ادارے نے نہیں کی، لیکن اس کے باوجود چرچ کو ہی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘

پوپ نے ان خیالات کا اظہار اُس وقت کیا تھا جب اقوام متحدہ نے اپنی ایک رپورٹ میں ویٹیکن پر الزام لگایا تھا کہ اس نے ’زیادتی کا شکار ہونے والے بچوں کے مقابلے میں کلیسا اور زیادتی کے مرتکب افراد کی شہرت کو بچانے کو زیادہ ترجیح دی۔‘

اقوا متحدہ کی رپورٹ کے علاوہ بھی،گذشتہ برسوں میں بچوں سے جنسی زیادتی اور اس کے خلاف اقدامات نہ اٹھانے کے حوالے سے کیتھولک چرچ پر شدید تنقید ہوتی رہی ہے۔

اسی بارے میں