برطانوی بحریہ بھی ایم ایچ 370 کی تلاش میں

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption برطانوی جہاز پر سمندر کی تہہ میں چیزوں کو تلاش کرنے کے خصوصی آلات نصب ہیں

برطانوی بحریہ کا ایک جہاز 24 گھنٹے ملائیشیا کے لاپتہ مسافر طیارے ایم ایچ 370 کے بلیک باکس کی تلاش میں مصروف ہے۔

بحری جہاز ایچ این ایس ایکو کے کمانڈر کے مطابق وہ آٹھ مارچ کو لاپتہ ہونے والے ہوائی جہاز کی جنوبی بحیرۂ ہند میں تلاش کے آپریشن میں مدد کر رہے ہیں۔

بحری جہاز کے کمانڈر فلپ نیوویل کے مطابق مسافر طیارے کی تلاش ایک چینلج ثابت ہو رہا ہے۔

برطانوی بحریہ کے جہاز نے اومان سے روانگی کے وقت سے لاپتہ بحری جہاز کی تلاش شروع کی تھی اور جمعرات کو جنوبی بحیئرہ ہند میں پہنچا ہے۔

بحری جہاز پر طیاروں کے بلیک باکس فلائٹ ریکارڈز کے سگنل موصول کرنے کے لیے خصوصی آلات نصب ہیں۔

جہاز کے کمانڈر کے مطابق جہاز کا عملہ جوان ٹیم پر مشتمل ہے اور وہ چوبیس گھنٹے سمندر کی تہہ اور سطح پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ’ہمیں احساس ہے کہ ہم اس عمل میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور اسے نبھانے کے لیے پرجوش ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ خراب موسم کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

برطانوی بحری جہاز چھ ہزار مربع میل کے علاقے میں ہوائی جہاز کو تلاش کر چکا ہے۔ کمانڈر نیوویل کے مطابق وہ رواں ماہ کے اختتام پر جائزے سے پہلے ہوائی جہاز کی تلاش کی آپریشن میں اپنی خدمات جاری رکھیں گے۔

ہوائی جہاز کی تلاش میں برطانوی کے بحری جہاز کے علاوہ ایک آبدوز بھی حصہ لے رہی ہے جس میں زیرآب تلاش کی خصوصیات شامل ہیں۔

آسٹریلیا روزانہ کی بیناد پر جاری آپریشن کی نگرانی کر رہا ہے اور اس مقصد کے رابط کاری کے لیے ایک نئے سینٹر کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سیٹلائٹ معلومات کی بنیاد پر حکام کا خیال ہے کہ مسافر طیارہ اپنے متعین راستے سے بہت دور بحرِ ہند کے جنوبی حصّے میں سمندر میں گر گیا تھا

آسٹریلیا اور برطانوی کے بحری جہازوں کے علاوہ تلاش کے آپریشن میں متعدد ممالک کے فوجی ہوائی جہاز اور چین کا ایک برف توڑنے پر بحری جہاز بھی شامل ہے۔

تلاش کے عمل میں مصروف حکام کا کہنا ہے کہ لاپتہ طیارے کا بلیک باکس ملنے کی امیدیں کم ہوتی جا رہی ہیں کیونکہ بلیک باکس کی بیٹری عام طور پر صرف ایک ماہ تک کام کر سکتی ہے اور یہ مدت پوری ہو چکی ہے۔

اس سے پہلے جمعے کو آسٹریلوی سربراہ ٹونی ایبٹ کا کہنا تھا کہ حکام اس بارے میں بہت پراعتماد ہیں کہ بحرِ ہند میں ملنے سگنل ملائیشیا کے لاپتہ مسافر طیارے ایم ایچ 370 کے بلیک باکس ہی سے آ رہے ہیں۔

چین میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ لاپتہ طیارے کی کھوج میں مصروف ٹیموں نے تلاش کا دائرہ محدود کر لیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ایک آسٹریلوی کشتی نے چار مختلف مواقع پر فلائٹ ریکاڈروں سے نشر ہونے والے سگنلوں کی مانند سگنل موصول کیے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption طیارے پر 239 افراد سوار تھے، جن میں سے بیشتر چینی باشندے تھے

تاہم جمعرات کو ملنے والے پانچویں سگنل کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس کا تعلق ایم ایچ 370 کے بلیک باکس سے ہونے کا امکان کم ہے۔

کوالالمپور سے بیجنگ جانے والا یہ مسافر بردار طیارہ آٹھ مارچ کو لاپتہ ہو گیا تھا اور اس پر 239 افراد سوار تھے، جن میں سے بیشتر چینی باشندے تھے۔

سیٹلائٹ معلومات کی بنیاد پر حکام کا خیال ہے کہ مسافر طیارہ اپنے متعین راستے سے بہت دور بحرِ ہند کے جنوبی حصّے میں سمندر میں گر گیا تھا۔

تفتیش کاروں کو ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوا کہ ایم ایچ 370 ملائیشیا اور ویت نام کے درمیان بحیرۂ جنوبی چین کی حدود میں لاپتہ ہونے کے بعد اپنے متعین راستے سے اتنا دور کیوں چلی گئی تھی۔

اسی بارے میں