نائیجریا: حملوں میں 135 شہری ہلاک

Image caption شورس کا شکار شمال مشرقی علاقوں میں اس سال اب تک تقریبا 1،500 افراد ہلاک ہو گئے ہیں

نائجیریا میں ایک اعلی سرکاری اہلکار سے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ملک کے شمال مشرقی حصوں میں مسلح افراد کی ہاتھوں بدھ سے اب تک کم سے کم 135 شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔

بورنو کے اسٹیٹ سینٹر احمد زناح نے کہا کہ یہ ہلاکتیں ریاست کے تین مختلف حصوں میں ہوئیں۔

خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حملہ آوروں کا تعلق اسلامی شدت پسند تنظیم بوکو حرام سے ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق شورس کا شکار شمال مشرقی علاقوں میں اس سال اب تک تقریبا 1،500 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، ان میں سے تقریبا نصف عام شہری ہیں۔

تنظیم کے مطابق ہلاکتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے لیے ’بوکو حرام کی طرف سے ہونے والے حملوں میں اضافہ اور نائجیریا کی سیکورٹی فورسز کی طرف سے ہونے والی بدلے کی کارروائی‘ کو ذمہ دار ہے۔

ریاستی سینٹر زناح نے کہا کہ حملہ آوروں کا پہلا نشانہ ڈكوا شہر کا ٹیچر ٹریننگ کالج پر کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ حملہ آوروں نے وہاں پانچ لوگوں کو قتل کر دیا اور کچھ خواتین کو اغوا کر لیا۔

سینٹر زناح نے بتایا کہ حملہ آوروں نے جانے سے پہلے کالج کے لائبریری کو نذر آتش کر دیا۔

انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد شدت پسندوں نے کیمرون کی سرحد کے قریب واقع دو گاؤں پر حملہ کرکے قریب 130 لوگوں کو قتل کر دیا۔

یہ حملے بدھ اور جمعرات کو ہوئے، ابتدائی اطلاعات میں 70 افراد کے ہلاک کا دعوی کیا گیا تھا۔

ابھی تک نائجیریا کی فوج نے ان حملوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

نائجیریا کے شمالی مشرقی ریاستوں بورنو، يوبے اور اڈاماوا میں گزشتہ سال سے ایمرجنسی نافذ ہے۔

انسانی حقوق گروپوں نے شہریوں کی ہلاکتوں کے حوالےسے بوکو حرام اور نائجیریا فوج پر پر تنقید کی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بتایا کہ نائجیریا کی فوج نے گزشتہ ماہ بوکو حرام کے ایک حملے کے بعد 600 لوگوں کے قتل کر دیا تھا۔

نائجیریا حکومت کی امدادی ایجنسی کا کہنا ہے کہ ان حملوں کی وجہ سے تقریبا 2 لاکھ 50 ہزار لوگ اپنا گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

بوکو حرام نامی تنظیم 2009 سے شمالی نائجیریا میں سخت گیر اسلامی ملک کے قیام کے لیے لڑ رہی ہے۔

اسی بارے میں