ایم ایچ 370 کے لیے زیرِ آب تلاش کا آغاز

تصویر کے کاپی رائٹ GETTY IMAGES
Image caption آٹھ اپریل کے بعد سے کوئی سنگنل سنائی نہیں دیا اور خدشہ ہے کہ فلائٹ ریکارڈر کی بیٹریز ختم ہو گئی ہیں

ملائیشیا کے لاپتہ جہاز ایم ایچ 370 کی تلاش کے لیے پہلی مرتبہ زیرِ آب چلنے والی کشتیوں اور ڈرونز کی مدد لی جا رہی ہے۔

تلاش کی مہم کے سربراہ اینگس ہوسٹن کا کہنا ہے کہ زیرِ آب چلنے والے بلیو فِن 21 ڈرون کو سمندر کی تہہ میں جہاز کے ملبے کی تلاش کے لیے جلد از جلد روانہ کیا جائے گا۔

ایم ایچ 370 کا راز شاید راز ہی رہ جائے

تلاش میں مصروف ٹیمیں جہاز کے فلائیٹ ریکارڈر ’بلیک باکس‘ کے سگنلز سننے کے لیے مخصوص آلات کا استعمال کر رہی ہیں۔

تاہم آٹھ اپریل کے بعد سے کوئی سگنل سنائی نہیں دیا اور خدشہ ہے کہ فلائٹ ریکارڈر کی بیٹریاں ختم ہو گئی ہیں۔

ملائیشیا کی پرواز ایم ایچ 370 آٹھ مارچ کو لاپتہ ہوگئی تھی اس میں 239 افراد سوار تھے۔ یہ جہاز کوالالمپور سے بیجنگ جا رہا تھا۔ جنوبی چین کے سمندر پر پرواز کرتے ہوئے اس کا رابطہ ایئر ٹریفک سے منقطع ہو گیا تھا۔

ملائیشیا کے حکام کا خیال ہے کہ سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق یہ جہاز اپنے مقررہ راستے سے ہزاروں کلومیٹر دور جنوبی بحر ہند میں کہیں گر کر تباہ ہوا ہے۔

آسٹریلیا کے ساحلی شہر پرتھ کے مغرب میں بحرِ ہند میں جہاز کی تلاش کے لیے بین الاقوامی مہم جاری ہے۔

ایئر چیف مارشل ہوسٹن تلاش کے مشترکہ آپریشن کی قیادت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چھ دن سے فلائٹ ریکارڈر کے سنگل موصول نہیں ہو رہے اس لیے اب وقت ہے کہ پانی کے اندر جایا جائے۔

بلیو فن 21 اس مقام پر ملبہ کی تلاش کرے گا جہاں گذشتہ ہفتے چار مرتبہ سگنل سنے گئے تھے۔

ایئر چیف مارشل ہوسٹن کا کہنا ہے کہ ’ان چاروں سگنلوں کے جائزے کی مدد سے سمندر کے فرش پر ایک قدرے کم رقبے پر تلاش کی جائے گی جس کا انتظام بھی آسان ہوگا۔‘

تاہم انھوں نے خبردار کیا ہے کہ زیرِ آب چلنے والی ان کشتیوں کی مدد سے کی جانے والی یہ تلاش طویل اور محنت طلب ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ لاحاصل ہو۔

اسی بارے میں