ایران کی اقوام متحدہ سےابوطالبی پر پابندی کی شکایت

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حمید ابو طالبی صدر روحانی کے سیاسی مشیر ہیں

ایران نے اقوام متحدہ کے لیے اپنے مستقل نمائندے کو امریکی ویزا نہ دیے جانے پر اقوام متحدہ سے شکایت کی ہے۔

نیو یارک میں ایران کے نائب نمائندے حسین دھقانی، نے لکھا ہے کہ ویزا نہ دے کر امریکہ نے اپنی قانونی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کی ہے اور ایک خطرناک مثال قائم کی ہے۔

امریکہ نے حمید ابوطالبی کو ملک میں داخل ہونے سے منع کر دیا ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ حمید ابو طالبی کا ماضی میں تعلق ان طالب علموں سے تھا جنہوں نے 1979 میں تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضہ کیا تھا۔

حمید ابو طالبی کا کہنا ہے کہ انھوں نے کچھ بار محض ایک ترجمان کی حیثیت میں کام کیا ہے۔

اس سے پہلے حمیدابوطالبی اٹلی، بلجیئم، اور آسٹریلیا کے سفارت خانوں میں ایک سینیئر سیاسی مشیر کی حیثیت سے کام کرتے رہے ہیں۔

اب تک کوئی ایسا ثبوت سامنے نہیں آیا جو اس بات کی تصدیق کرے کہ حمید ابو طالبی باقاعدہ ترجمان تھے یا کہ امریکی سفارت خانے کےمحاصرہ میں شامل تھے۔ اس محاصرے کے دوران 52 امریکیوں کو 444 دنوں کے لیے یرغمال بنایا گیا تھا۔

لیکن جمعہ کو وائٹ ہاؤس نے ایرانی حکومت کو اطلاع دی تھی کہ وہ ابو طالبی کو ویزا نہیں دیں گے۔

پیر کے روز حسین دھقانی نے اقوام متحدہ سے شکایت کی کہ امریکہ نے بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

صدر براک اوباما پر امریکی کانگریس کی طرف سے بہت دباؤ ہے کہ ایرانی نمائندے کو ویزا نہ دیا جائے اور وہ امریکہ میں داخل نہ ہو سکیں۔

ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں نے ابو طالبی کے امریکہ میں داخلے پر پابندی کے بل کی حمایت میں ووٹ ڈالے ہیں۔ تاہم قانون بننے کے لیے اس بل پر صدر براک اوباما کے دستخط لازمی ہیں۔

سنہ 1947 کے ایک معاہدے کے تحت امریکہ کو اقوامِ متحدہ سے وابستہ افراد کو نیو یارک آنے کے لیے عام طور پر ویزا دینا پڑتا ہے۔

واشنگٹن کہ کہنا ہے کہ وہ ’دہشت گردی، سلامتی اور خارجہ پالیسی‘ کی وجوہات پر کسی کو بھی ویزا دینے سے انکار کر سکتا ہے۔ تاہم قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ یہ ثابت کرنا مشکل ہے کہ ابو طالبی امریکہ کے لیے فوری خطرہ ہیں۔

بی بی سی کی نامہ نگار باربرا پلیٹ کہتی ہیں کہ معاملہ کچھ بھی ہو سرکاری اہلکاروں کا موقف ہے کہ یہ واضح نہیں کہ اس نوعیت کے معاہدے کا نفاذ کس طرح سے ہوگا۔ لہذا اگر کسی طرح کا کوئی اقدام کیا گیا تو وہ سیاسی ’پوائنٹ سکور‘ کرنے کے مترادف ہوگا۔

لیکن بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس تشویش کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ اس تنازع سے ایران کے متنازع جوہری پروگرام پر جاری موجودہ مذاکرات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔