عراق: ابو غریب جیل بند کر دیا گیا ہے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سابق سربراہ صدام حسین کے دور میں بھی اس جیل میں سینکڑوں قیدیوں کی ہلاکت کی اطلاعات تھیں

عراق کی حکومت نے ابو غریب نامی متنازع جیل کو ’سکیورٹی خدشات‘ کے پیشِ نظر بند کر دیا ہے۔

وزیرِ انصاف حسن الشماری نے اعلان کیا ہے کہ جیل کے 2400 قیدیوں کو وسطی اور شمالی صوبوں میں دیگر جیلوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

ابو غریب جیل دارالحکومت بغداد کے مغربی علاقے میں واقعہ ہے۔ یہ جیل 2004 میں ایک سکینڈل کا محور اس وقت بنا جب امریکی فوجیوں کی جانب سے قیدیوں کے ساتھ انتہائی برا سلوک کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ سکینڈل کے بعد جیل کا نام تبدیل کر کے بغداد سنٹرل جیل رکھ دیا گیا تھا۔

سابق سربراہ صدام حسین کے دور میں بھی اس جیل میں سینکڑوں قیدیوں کی ہلاکت کی اطلاعات تھیں۔

منگل کے روز وزارتِ انصاف نے اعلان کیا کہ جیل کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے اور قیدیوں کی منتقلی کا عمل مکمل کر لیاگیا ہے۔ اعلان کے مطابق اس عمل میں وزارتِ دفاع اور وزارتِ داخلہ کی مدد لی گئی تھی۔

حسن الشماری نے کہا کہ وزارتِ انصاف نے یہ فیصلہ جیلوں کی سکیورٹی کے حوالے سے احتیاطی طور پر لیا ہے اور یہ کہ ابو غریب جیل ایک حساس علاقے میں واقعہ ہے۔

اعلان میں یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ جیل کی یہ بندش مستقل ہے یا عبوری۔

گذشتہ جولائی میں مسلح حملہ آوروں نے ابو غریب جیل اور بغداد سے شمال میں واقعہ تاجی میں ایک جیل پر حملہ کیا اور سینکڑوں قیدیوں کو رہا کروا لیا تھا۔ ان حملوں میں 50 سے زیادہ سیکورٹی اہلکار اور قیدی ہلاک ہوئے تھے۔

ابو غریب انبار صوبے میں شہر فلوجہ سے 25 کلومیٹر مغرب میں واقعہ ہے اور جنوری میں یہ علاقے شدت پسندوں کے قبضے میں آگیا تھا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق منگل کے روز فلوجہ میں پانچ افراد ہلاک اور 16 زخمی ہوگئے جبکہ انبار کے دارالحکومت رمادی میں دو خودکش حملوں میں ایک شخص ہلاک ہو گیا۔

اے ایف پی کے غیر سرکاری اعداد و شمار انبار اور ملک کے دیگر حصوں میں کشیدگی میں اس ماہ 340 لوگ ہلاک ہوگئے ہیں جس کے بعد ملک میں سال کی مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 2500 ہوگئی ہے۔