پرنس بندر سعودی خفیہ ادارے کی سربراہی سے ہٹا دیےگئے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پرنس بندر گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے حملوں کے وقت امریکہ میں سعودی عرب کے سفیر تھے

سعودی عرب میں سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک کے خفیہ ادارے کے سربراہ شہزادہ بندر بن سلطان کو ان کی درخواست پر ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔

شہزادہ بندر شاہ عبداللہ کے بھتیجے ہیں اور امریکہ میں سعودی سفیر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ حال ہی میں بیرون ملک علاج کروانے کے بعد سعودی عرب لوٹے تھے۔

پینسٹھ برس کے شہزادہ سلطان کی جگہ ان کے نائب جنرل یوسف الادریسی کو سعودی خفیہ ادارے کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔

شہزادہ بندر بن سلطان نے چنہ ماہ قبل خبردار کیا تھا کہ امریکہ کی مشرق وسطیٰ اور خاص طور پر سعودی عرب کے بارے میں پالیسی میں تبدیلی کے واضح آثار نظر آ رہے ہیں۔

امریکہ کی طرف سے شام میں فوجی مداخلت سے گریز کرنے کی پالیسی پر بظاہر اعتراض کرتے ہوئے انھوں نے یورپی سفارت کاروں کو اکتوبر میں کہا تھا کہ شام میں صدر اسد کی حکومت کے خلاف برسرِپیکار باغیوں اور اسلامی شدت پسندوں کو اسلحہ کی فراہمی اور تربیت کے حوالے سے سعودی عرب امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے سے اپنے تعاون پر نظر ثانی کرے گا۔

ماسکو کا صدر پوتن کو شام کے صدر اسد کی حمایت سے دستبردار ہونے پر رضامند کرنے کے لیے ان کا دورہ بھی ناکام رہا تھا۔

سعودی حکومت سے قریبی روابط رکھنے والے مصطفیٰ الانی نے روئٹرز نیوز ایجنسی کو بتایا کہ شہزادہ بندر بن سلطان گذشتہ پانچ ماہ سے شام کے معاملات سے کوئی تعلق نہیں رہا تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ شام کے حوالے سے ذمہ داریاں مختلف لوگوں میں بانٹ دی گئی ہیں جن میں کئی اعلیٰ سرکاری اہلکار اور شہزادے شامل ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ اس ضمن میں بہت سی تبدیلیاں پہلے ہی کی جا چکی ہیں۔

سعودی وزیر داخلہ شہزادہ محمد بن نائف کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ انھوں نے سعودی عرب کی شام کے بارے میں پالیسی کو اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے اور انھوں نے مغربی ملکوں اور عرب ملکوں کے خفیہ اداروں کی اس سال فروری میں واشنگٹن میں ہونے والی ملاقات میں بھی شرکت کی تھی۔

خفیہ ادارے کے سربراہ کے طور پر شہزادہ بندر نے مصر میں صدر مرسی کو اقتدار سے علیحدہ کر کے حکومت پر قبضہ کرنے والے فوجیوں کی مکمل حمایت کی تھی۔

سعودی کی سرکاری خبر رساں ادارے جس نے شاہی فرمان کی خبر دی ہے اس نے یہ واضح نہیں ہے کہ کیا شہزادہ بندر بن سلطان قومی سلامتی کونسل کے سربراہ کے طور پر کام کرتے رہیں گے یا نہیں۔

اسی بارے میں