’اتنا گرم کہ ہاتھ جلا جائے‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption میں بیجنگ کی فضائی آلودگی کے بارے میں کچھ زیادہ پریشان نہیں تھی

میں 15 سال بعد دوبارہ چین کے دارالحکومت بیجنگ میں بی بی سی کی مستقل نامہ نگار کی حیثیت سے واپس آئی ہوں۔

میں نے 1990 کی دہائی کا زیادہ عرصہ اسی شہر میں گزارا تھا، اس لیے بجائے اس کے کہ میں آپ کو چین کی مجموعی قومی پیداوار کے اعداد و شمار بتاؤں یا یہ بتاؤں کہ چین کے قومی سلامتی کمیشن کی پہلی میٹنگ ہو چکی ہے، میں نے سوچا کیوں نہ آپ کو اس شہر کے بارے میں اپنے ابتدائی تاثرات بتاؤں جو کبھی میرا گھر ہوا کرتا تھا اور آئندہ بھی میرا گھر ہوگا۔

ریاست یا دادی اماں؟

میں جیسے ہی بیجنگ کے غار جیسے ایئر پورٹ پر اتری تو ایئر پورٹ کی ہر دیوار پر ایسے پوسٹر ہی پوسٹر دیکھ کر حیران ہو گئی جن میں آپ کو بہت سختی سے انتباہ کیا جا رہا تھا۔ ’خبردار‘ جیسے الفاظ سے شروع ہونے والے نوٹس بینجنگ کے ایئر پورٹ پر کوئی نئی بات نہیں، لیکن اس مرتبہ مجھے لگا کہ ہر آنے والے کو کچھ زیادہ ہی خبردار کیا جا رہا ہے: ’سگریٹ نہ پیو،‘ ’بند ہوتے ہوئے دروازوں میں انگلی مت ڈالو،‘ ’دھیان رکھیں آگے خالی جگہ ہے‘ ’تھوکیے مت،‘ ’لڑکھڑائیے مت۔‘

لیکن ان انتباہی پوسٹروں کے درمیان سے گزرتی ہوئی جب میں باہر پہنچی اور ٹیکسی میں بیٹھی تو کیا دیکھتی ہوں کہ پچھلی نشت پر سیٹ بیلٹ ہی نہیں۔ جب ڈرائیور سے پوچھا کہ سیٹ بیلٹ کہاں گئی تو اس کا جواب تھا: ’ قانونی طور پر ہم صرف اگلی نشستوں پر سیٹ بیلٹ لگانے کے پابند ہیں اور ویسے بھی کوئی نہیں پوچھتا کہ بیلٹ ہے یا نہیں۔‘

اتنا گرم آلو کہ ہاتھ جل جائے

مجھے چینی زبان کی جو چیزیں سب سے زیادہ پسند ہیں وہ اس کے چار مخصوص فقرے ہیں۔ سنیچر کی شام ان میں سے ایک فقرہ سن کر میں خوب ہنسی۔ میری ایک دوست حال ہی میں امریکہ سے چین واپس لوٹی اور جب میں سنیچر کو اسے رات کے کھانے پر ملی تو وہ حیران تھی کہ سکیورٹی کے سابق سربراہ ہاؤ یونگ کانگ اتنی مدت گزر جانے کے باوجود عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔

سنہ 2012 تک مسٹر ہاؤ کا شمار چین کے طاقتور ترین افراد میں ہوتا تھا، لیکن گذشتہ ایک سال سے ان کو طاقت کے غلط استعمال اور بدعنوانی کے الزامات کا سامنا ہے اور ان کے خلاف تحقیقات ہو رہی ہیں۔ ایک گرم نوالہ چباتے ہوئے میری دوست نے کہا: ’تانگشو شانیو،‘ جس کا مطلب ہوتا ہے ’وہ آلو جو آپ کا ہاتھ جلا دے۔‘ یہ لفظ آپ کی طرح مجھے بھی مانوس لگا۔

میری دوست نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا: ’یہ لوگ اس شخص کو نہیں پکڑ سکتے۔ اس کے پاس چین کے دوسرے بڑے گھرانوں کے خلاف اتنا زیادہ بارُود ہے کہ یہ لوگ اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔‘

دیکھتے ہیں آنے والے دنوں میں مسٹر یاؤ کے معاملے کا کیا ہوتا ہے۔ فی الحال آپ میرے دوست کا لفظ یاد رکھیں، ہو سکتا ہے ہمیں یہ دوبارہ سننے کو ملے۔

بیجنگ کے نیلے آسمان

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ایک زمانہ تھا کہ بیجنگ میں آپ کو صرف مہنگے غیر ملکی سٹور ہی دیکھنے کو ملتے تھے

اتوار کے روز میں نے ایک دوست کو فون کیا اور اس کے فون اٹھاتے ہی خوشی سے اعلان کیا: ’سورج چمک رہا ہے، موسم زبردست ہو گیا ہے، چلو باہر چہل قدمی کے لیے چلتے ہیں۔‘

’نہیں کوئی ضرورت نہیں،‘ میری دوست کا جواب تھا۔ ’تم نے آج کا پی ایم انڈیکس (آلودگی کی شرح) دیکھا ہے؟

میں ابھی تک بیجنگ کی فضائی آلودگی کے بارے میں کوئی زیادہ پریشان نہیں تھی۔ لیکن اب میرے سمارٹ فون پر ایک ایپلیکیشن موجود ہے جو مجھے بتاتی ہے کہ کھڑکی سے باہر فضا میں جو سنہری تہہ دکھائی دے رہی ہے وہ بہار کا پیغام نہیں ہے۔

میرے تمام چینی دوست آلودگی کے ہاتھوں اپنی زندگی کے کم ہوتے ہوئے برسوں کا سوچ کر پریشان ہیں۔ یہ آلودگی ان کی زندگی کے کتنے سال کھا جائے گی۔

امید پسند لوگوں کا کہنا ہے کہ صرف پانچ برس۔

خارجہ پالیسی کا ایک لطیفہ

یہ لطیفہ مجھے ایک ایسے شخص نے سنایا جو اپنا نام نہیں ظاہر کرنا چاہتا۔

ہُوا یہ کہ ایک دن امریکہ، روس اور چین کے صدور کے تقریروں کے مسودے گڈ مڈ ہوگئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ براک اوباما نے جو تقریر کی اس کا موضوع ’علاقائی سالمیت‘ تھا، ولادی میر پوتن یہ بتانے لگ گئے کہ ان کے لیے ’بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ‘ کس قدر اہم ہے اور یاؤ زیپنگ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ پر تقریر فرماتے رہے۔

بینجنگ میں نیا کیا ہے

ایک زمانہ تھا کہ بیجنگ میں آپ کو صرف مہنگے غیر ملکی سٹور ہی دیکھنے کو ملتے تھے، لیکن اب ’زارا‘ اور ’ایچ اینڈ ایم‘ جیسے سٹور بھی ہر جگہ دکھائی دیتے ہیں۔

اسی طرح لندن اور پیرس کی طرح بیجنگ میں بھی کرائے پر سائیکلیں دستیاب ہونا شروع ہوگئی ہیں۔

میں نے ایک دوست سے کہا کہ چلو ہم بھی کرائے کی سائیکل کے لیے اپنا نام رجسٹر کراتے ہیں لیکن میری دوست کہنی لگی کہ ایسا کرنا ذرا پیچیدہ کام ہے اور دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ لوگ سائیکل کے حصے چُرا لے جاتے ہیں۔

شراب کا نشہ: میں جب سے یہاں آئی ہوں ایک شخص کو لفٹ میں لڑکھڑاتے ہوئے دیکھ چکی ہوں، ایک اور کو فٹ پاتھ پر پڑے ہوئے اور ایک کو نشے میں گاڑی چلاتے ہوئے بھی دیکھ چکی ہوں۔ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ بیجنگ میں یہ مناظر آپ کو پہلے بھی دکھائے دیتے تھے، یا شاید نشے میں دُھت یہ افراد سنیچر کی شام پارٹی کے موڈ میں تھے۔

آج کل کیا ہو رہا ہے؟

آجکل ہر شام قریبی پارک میں بال روم ڈانس پارٹی ہوتی ہے۔ آپ کو چائینیز اوپرا کی خوبصورت دھنیں سنائی دیتی ہیں۔

بیجنگ کی ہوا کی کوالٹی جیسی بھی ہو، شیشم کے درختوں پر ہریالی اور ہر طرف کھلے پھول تو بیجنگ میں بہار کا ہی پیغام دے رہے ہیں۔

اور آخر میں آپ کو یہ بتاتے ہوئے میں بہت خوش ہوں کہ بیجنگ کے کھانے اتنے ہی مزیدار ہیں جتنے 15 سال پہلے تھے۔

اسی بارے میں