امریکہ: پاکستانی شہری کو دہشت گردی کے الزام میں قید کی سزا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عدالتی دستاویزات کے مطابق 2011 میں گرفتاری کے بعد حسن خالد نے القاعدہ سے متعلق کئی معلومات حاصل کرنے میں اور دہشت گردی کے دوسرے معاملات میں امریکی اہل کاروں کی مدد کی

امریکہ کی ایک عدالت نے پاکستان سے امریکہ منتقل ہو جانے والے محمد حسن خالد کو دہشت گردی کے الزام میں پانچ برس کی سزا سنائی ہے۔ انھیں 2011 میں کچھ لوگوں کے ساتھ یورپ میں حملوں کی سازش کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

اپنے والدين اور بھائیوں کے ساتھ محمد حسن خالد کو امریکہ آئے ہوئے کچھ ہی برس ہوئے تھے جب انھوں نے اپنی محنت سے جانز ہاپکنز یونیورسٹی سے مکمل وظیفہ حاصل کر لیا۔ لیکن امریکی ایجنسی ایف بی آئی کے مطابق بالٹي مور کے پاس ایک چھوٹے سے فلیٹ میں اپنے خاندان کے ساتھ رہنے والے خالد دوغلی زندگی جی رہے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ 15 برس کی عمر میں ہی خالد انٹرنیٹ پر کچھ جہادی اسلامی چیٹ رومز سے سے منسلک تھے اور وہیں ان کی گفتگو ’جہاد جین‘ کے نام سے جانی جانے والي امریکی خاتون كولين لاروز سے ہونے لگی۔

وفاقي وکلا کا کہنا تھا کہ خالد کمپیوٹر کے ماہر ہیں اور انھوں نے اس قابلیت کا استعمال جہادی طاقتوں کے لیے کیا۔ وہ دستاویزات کو ترجمہ کرنے اور مغربی شہریوں کو جہادی بنانے کی کوششوں میں مدد کرتے تھے۔

عدالت میں اپنے دفاع میں خالد نے کہا کہ جہادی چیٹ رومز میں ’نفرت کی طاقت اتنی مضبوط تھی کہ اس نے مجھے اپنے پنجے میں پھنسا لیا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’میری پوری زندگی کچھ ہی برسوں میں تباہ ہو گئی ہے۔‘

سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ ایف بی آئی کی نظر خالد پر پڑ چکی تھی اور انھوں نے انھیں کئی بار سمجھایا بھی کہ وہ اس راستے کو چھوڑ دیں: ’لیکن وہ جہاد کی دنیا کے آن لائن ہیرو بننا چاہتے تھے اور اسی نے انھیں مشکل میں ڈال دیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption خالد کے ہی ساتھ گرفتار كولين لاروز عرف ’جہاد جین‘ کو اسی سال جنوری میں دس برس کی قید کی سزا سنائی گئی تھی

عدالتی دستاویزات کے مطابق 2011 میں گرفتاری کے بعد انھوں نے القاعدہ سے متعلق کئی معلومات حاصل کرنے میں اور دہشت گردی کے دوسرے معاملات میں امریکی اہل کاروں کی مدد کی اور اسی وجہ سے ان کی سزا، جو کہ 15 برس تک ہو سکتی تھی، کم کر دی گئی۔

خالد کے ہی ساتھ گرفتار كولين لاروز عرف ’جہاد جین‘ کو اسی سال جنوری میں دس برس کی قید کی سزا سنائی گئی تھی، جب کہ ایک اور خاتون جیمی پلن رمیریز کو آٹھ برس کی سزا ہوئی۔

لاروز اور رمیریز پر الزام تھا کہ وہ پیغمبرِ اسلام کا کارٹون بنانے والے سوئیڈن کے آرٹسٹ کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی تھیں اور آئر لینڈ میں موجود ایک شدت پسند تنظیم کے ساتھ کام کر رہی تھیں۔

خالد کے وکیل کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ ایسا تھا جس میں خالد کوئی حملہ نہیں کر سکتے تھے۔ ان کے مطابق خالد کبھی اپنے شہر سے باہر نہیں گئے اور انھوں نے صرف لاروز کی طرف سے بھیجے گئے اس ڈبے کو کھولا تھا جس میں کچھ پاسپورٹ اور پیسے تھے۔ اس میں سے کچھ سامان انھوں نے آئرلینڈ بھیجا تھا۔

خالد تین سال جیل میں گزار چکے ہیں اور اگر ان کا سلوک اچھا رہتا ہے تو شاید انھیں 14 ماہ میں رہا کر دیا جائے گا۔

خالد نے کہا کہ ان کی کوشش ہوگی کہ اپنے خاندان کے ساتھ امریکہ میں پھر سے ایک نئی زندگی شروع کریں، لیکن وہ امریکی شہری نہیں ہیں اور ممکن ہے کہ جیل سے رہائی کے بعد انھیں واپس پاکستان بھیج دیا جائے۔

اسی بارے میں