یوکرین کے بحران کے حل پر اتفاقِ رائے ہوگیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یوکرین میں روس نواز حکومت گرنے کے بعد سے ملک میں کشیدگی جاری ہے

روس، یوکرین، امریکہ اور یورپی یونین کا کہنا ہے کہ تمام فریق مشرقی یوکرین میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اقدامات پر رضامند ہو گئے ہیں۔

تینوں ممالک اور یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے یہ اعلان یوکرین کے معاملے پر جنیوا میں مذاکرات کے بعد کیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اتفاقِ رائے کی وجہ سے مغربی ممالک کی جانب سے روس کے خلاف تیار کردہ ممکنہ اقتصادی پابندیاں منسوخ کی جا سکتی ہیں۔

یوکرین میں روس نواز حکومت گرنے کے بعد سے ملک میں کشیدگی جاری ہے۔

حکومت گرنے کے بعد یوکرین کے علاقے کرائمیا نے روس سے الحاق کر لیا تھا۔ کرائمیا میں عوام کی اکثریت روسی زبان بولتی ہے۔ روس کے اس اقدام پر بین الاقوامی برادری کی جانب سے سخت ردِ عمل سامنے آیا تھا۔

اس کے بعد مشرقی یوکرین میں روس نواز باغیوں نے سرکاری عمارتوں پر قبضہ کرنا شروع کر دیا تھا۔

جنیوا میں مذاکرات میں روسی وزیرِ خارجہ سرگے لاوروف، یوکرینی وزیرِ خارجہ آندری دشیتشیا، امریکی وزیرِ خارکہ جان کیری اور یورپی یونین کی خارجہ امور کی نگران کیتھرین ایشٹن شامل تھے۔ روسی وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اس بات پر اتفاقِ رائے کر لیا گیا ہے کہ یوکرین میں مسلح افراد کے تمام غیر قانونی دستوں کو ختم کر دیا جائے اور سرکاری عمارتوں پر قبضے بھی ختم کر دیے جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام حکومت مخالف باغیوں کو غیر مشروط معافی دی جائے اور ممکنہ طور پر یوکرین کے روسی زبان والے علاقوں کو قدرے زیادہ خود مختاری دی جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ الفاظ اعمال میں تبدیل ہوں

ان اقدامات پر عمل درآمد کی نگرانی ’آرگنائزیشن فار سیکورٹی اینڈ کو آپریشن اِن یورپ‘ کے مبصرین کریں گے۔

امریکی صدر براک اوباما کا کہنا ہے کہ یہ اتفاقِ رائے ’خوش آئند ہے، تاہم ان کے مطابق سوال اب یہ ہے کہ اب کیا روس اپنا اثر و رسوخ یوکرین میں استحکام لانے کے لیے استعمال کرے گا یا نہیں۔

جمعرات کی شب واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ہم کوئی بھی بات مکمل یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتے۔

’اگر ہمیں حالا ت میں بہتری نظر نہیں آتی تو ہمارے پاس مزید نتائج ہوں گے جنھیں روس پر لاگو کیا جا سکتا ہے۔‘

ادھر روسی وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے تھا کہ یوکرین میں طویل المدت آئینی اصلاحات کی ضرورت ہے، تاہم جنیوا میں تمام فریق اس بات پر متفق ہیں کہ یوکرین میں کشیدگی کا حل یوکرین کے عوام کو خود تلاش کرنا ہے۔

اس سے پہلے وہ کہہ چکے ہیں کہ روس یوکرین میں فوج نہیں بھیجنا چاہتا۔

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ الفاظ اعمال میں تبدیل ہوں۔

اسی بارے میں