یو این مندوبین کو ویزے سےمتعلق قانون پر دستخط

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption یہ قانون آئین میں دیےگئے صدارتی اختیارات سے متصادم ہے اور میں اسے ’مشاورت‘ کے طور پر لوں گا: صدر اوباما

امریکی صدر براک اوباما نے ایک ایسے قانون پر دستخط کر دیے ہیں جس کے تحت امریکہ اقوم متحدہ کے لیے کسی بھی ملک کےمندوب کو ویزہ جاری کرنے سے انکار کر سکتا ہے جو ان کی نظر میں ’دہشتگردی‘ میں ملوث رہا ہو۔

اس بل پر دستخط کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ کسی سفیر کو ملک میں آنے کی اجازت دینا صدارتی اختیار ہے اور وہ کانگریس کی طرف سے منظور کیے جانے والے اس بل کو ’مشاورت‘ کے طور پر قبول کرتے ہیں۔

اس امریکی قانون کا مقصد ایران کے اقوام متحدہ کے لیے نامزد نمائندے حمید ابو طالبی کو امریکہ میں داخل ہونےسے روکنا ہے۔ حمید ابو طالبی کا مبینہ طور پر ان طالب علموں سے تعلق تھا جنہوں نے 1979 میں تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضہ کر کے 52 امریکی شہریوں کو 444 دن تک یرغمال بنائے رکھا تھا۔

امریکہ اس قانون کے منظور ہونے سے پہلے ہی حمید ابوطالبی کو ویزہ جاری کرنے سے انکار کر چکا ہے۔

ایران نے اقوام متحدہ سےاپنے مندوب کو ویزہ نہ دیے جانے کی شکایت کی ہے۔

صدر اوباما نے بل کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ سینیٹ اور ایوان نمائندگان کے خدشات سے آگاہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ امریکی آئین صدر کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ کسی سفیر کی نامزدگی کو قبول یا مسترد کرے لیکن یہ قانون اس صدارتی اختیار کے متصادم ہے۔ انھوں نے کہا وہ اس قانون کو ایک ’مشاورت‘ کے طور پر قبول کریں گے۔

ایرانی نامزد سفیر حمید ابو طالبی کا موقف ہے کہ انھوں نے چند بار امریکی شہریوں کو یرغمال بنانے والے طلبا کے مترجم کے طور پر کام کیا تھا اور وہ ان کو یرغمال بنانے والوں میں شامل نہیں تھے۔ انسانی حقوق کے کئی کارکن بھی ابوطالبی کے اس موقف کی تائید کر چکے ہیں۔

ابوطالبی اقوام متحدہ میں سفیر نامزد کیے جانے سے پہلے اٹلی، بلجئیم، اور آسٹریلیا میں ایرانی سفیر رہ چکے ہیں۔

صدر اوباما نے کہا: ’میں کانگریس کے خدشات سے متفق ہوں کہ کوئی ایسا شخص جو ایسی سرگرمیوں میں ملوث رہا ہو وہ سفارت کاری کی آڑ میں ہمارے ملک میں داخل نہ ہو جائے۔‘

ایک معاہدے کے تحت امریکہ کو اقوامِ متحدہ سے وابستہ افراد کو نیو یارک آنے کے لیے عام طور پر ویزا دینا پڑتا ہے۔

اقوام متحدہ میں ایران کے نائب سفیر حسین دھقانی نے اس معاملے پر غور کےلیے اقوام متحدہ کے ایک خصوصی اجلاس کی درخواست کی ہے۔

اقوام متحدہ کو اپنے شکایت میں حسین دھقانی نے کہا کہ امریکہ نے ایرانی مندوب کو ویزہ جاری نہ کر کے بین الاقوامی قانون کےتحت اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کی ہیں۔

انھوں نے خبردار کیا کہ امریکہ ویزا نہ دے کر ایک خطرناک مثال قائم کی ہے۔