غرقاب کشتی:’عملے کے اقدامات قتل کے مترادف تھے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اس واقعے میں اب تک ہلاک شدگان کی کل تعداد 64 تک پہنچ گئی ہے

جنوبی کوریا کی صدر پارک گیون ہائی نے گذشتہ بدھ کو غرقاب ہونے والے بحری جہاز کے عملے کے بعض ارکان کے اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’قتل کرنے کے مترادف‘ قرار دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ جن لوگوں پر الزام ہے انھیں اپنے اقدامات کی پاداش میں ’شہری اور مجرمانہ‘ ذمے داریاں قبول کرنے پڑیں گی۔

صدر پارک گیون ہائی کی حکومت کو اس تباہی سے نمٹنے کے لیے اٹھائے گئے ابتدائی اقدامات کی وجہ سے تنقید کی نشانہ بنایا گیا ہے۔

صدارتی دفتر کے ایک بیان کے مطابق صدر گیون ہائی پارک نے اپنے اہلکاروں سے کہا کہ کشتی کے کپتان اور عملے کے بعض ارکان کے اقدامات ’سمجھ سے بالاتر، ناقابلِ قبول اور قتل کرنے کے مترادف تھے۔‘

سیول نامی کشتی پر کل 476 افراد سوار تھے اور حادثے کے بعد 174 مسافروں کو بچا لیا گیا تھا۔

کئی دن کی کوشش کے بعد اب غوطہ خور غرقاب کشتی کے نیچلے حصے تک رسائی کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں اور وہ وہاں سے لاشیں نکال رہے ہیں۔

اس واقعے میں اب تک ہلاک شدگان کی کل تعداد 64 تک پہنچ گئی ہے، تاہم اب بھی اس کشتی پر سوار 238 افراد لاپتہ ہیں۔

دریں اثنا پولیس کو مسافروں اور عملے کی طرف سے بھیجے گئے سینکڑوں پیغامات تک رسائی دی گئی ہے تاکہ وہ کشتی ڈوبنے کے آخری وقت کے حالات کا جائزہ لے سکے۔

ڈوبنے والی مسافر بردار کشتی کے عملے کے درمیان ہونے والی بات چیت سے پتہ چلا ہے کہ عملے کے ارکان ہنگامی صورتحال میں گھبرا گئے تھے اور صحیح وقت پر فیصلہ نہیں کر پائے تھے۔

اتوار کو جاری کی جانے والی تفصیلات کے مطابق عملے کا ایک رکن بار بار یہ پوچھتا رہا کہ اگر کشتی خالی کرنے کا حکم دیا جائے تو کیا مسافروں کو بچانے کے لیے مطلوبہ تعداد میں چھوٹی کشتیاں موجود ہیں۔

فیری کے کپتان کو پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا ہے جنھوں نے تسلیم کیا ہے کہ کشتی خالی کرنے کا حکم دینے میں ان سے تاخیر ہوئی کیونکہ انھیں مسافروں کے ڈوب کر بہہ جانے کا خدشہ تھا۔

یہ کشتی بدھ کو شمال مغربی علاقے انچیون سے جنوبی سیاحتی جزیرے جیجو کی طرف جا رہی تھی کہ دو گھنٹے کے قلیل وقت میں الٹ کر سمندر کی تہہ میں غرق ہوگئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کشتی کے حادثے میں مرنے والے افراد کے لواحقین نے امدادی کارروائی پر احتجاج کیا تھا

فیری ڈوبنے سے پہلے عملے اور ٹریفک کنٹرولر کے درمیان ہونے والی بات چیت سے صاف پتہ چلتا ہے کہ صحیح وقت پر فیصلہ کرنے میں تاخیر ہوئی۔

اس بات کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہے کہ اگر فیری کو وقت پر خالی کرا لیا جاتا تو آیا لوگوں کی جان بچائی جا سکتی تھی۔

دوسری طرف کشتی کے حادثے میں مرنے والے افراد کے لواحقین نے امدادی کارروائی پر احتجاج کیا ہے۔

جنوبی کوریا میں حکام کا کہنا ہے کہ سمندر میں ڈوبنے والی مسافر بردار کشتی کے امدادی آپریشن میں دو ماہ تک کا وقت لگ سکتا ہے۔

امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کرنے والے ادارے ایمرجنسی مینجمنٹ سینٹر کے سربراہ شن وون نام نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ امدادی آپریشن اگر مہینوں نہیں تو کئی ہفتے تک تو ضرور جاری رہ سکتا ہے۔

ابھی تک جہاز ڈوبنے کا اصل سبب معلوم نہیں ہو سکا لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یا تو اس جہاز کا نچلا ڈھانچہ کسی چٹان سے ٹکرایا تھا یا پھر تیزی سے موڑ کاٹنے کی وجہ سے اس پر لدا سامان کھسک کر ایک طرف چلا گیا اور جہاز کا توازن بگڑ گیا اور یہ ایک طرف کو جھک گیا۔

اسی بارے میں