سعودی عرب میں وزیر صحت برطرف

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سعودی وزیر کو ہٹانے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی

سعودی عرب میں نظامِ تنفس کو متاثر کرنے والے وائرس کے پھیلنے سے ہلاکتوں کی تعداد کے اکاسی تک پہنچنے کے بعد ملک کے وزیر صحت کو کوئی وجہ بتائے بغیر ان کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا ہے۔

عبداللہ الربیہ نے چند دن قبل جدہ میں ایک ہسپتال کا دورہ کیا تھا جس کا مقصدہ شہریوں میں اس وائرس کی وجہ سے پائے جانے والے خوف و ہراس کو کم کرنا تھا۔

’مڈل ایسٹ ریسپیریٹری سنڈروم‘ کی وبا سے سعودی عرب میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

سعودی عرب کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں 261 شہری اس مرض میں مبتلا ہوئے ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق دنیا بھر سے 243 لیباٹری سے تصدیق شدہ کیسز کا اس کو علم ہوا ہے۔ جبکہ ستمبر سنہ 2012 میں اس وائرس کے سامنے آنے کے بعد اب تک 93 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

عالمی ادارۂ برائے صحت کا کہنا ہے کہ وہ اس صورت حال کا بغور جائزہ لے رہا ہے اور ابھی سفری پابندیاں عائد کرنے کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔

اسی بارے میں