اسلامی شدت پسندی مغرب کے ایجنڈے میں سرفہرست رہے: ٹونی بلیئر

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption ٹونی بلیئر کے عہد میں عراق میں برطانیہ کی شمولیت پر بہت حلقوں کی جانب سے ان پر سخت تنقید ہوئی ہے

برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر مغربی ممالک کے رہنماؤں کو یوکرین کے معاملے پر روس سے اختلافات بھلا کر اسلامی شدت پسندی پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے کہنے والے ہیں۔

ٹونی بلیئر اپنے ایک کلیدی خطبے میں مغربی ممالک کو مشرق وسطیٰ پر ایک مجموعی اور مربوط پالیسی رکھنے کی تلقین کرنے والے اور یہ کہنے والے ہیں کہ مغرب کو وہاں جانب داری سے کام لینا چاہیے۔

اس کے ساتھ ہی وہ یہ بھی کہیں گے کہ مغربی ممالک کو چاہیے کہ وہ اسلامی شدت پسندی کے خلاف جنگ کو اپنے سیاسی ایجنڈے میں سر فہرست رکھیں۔

برطانوی اخبار داگارڈیئن میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق وہ لندن میں بدھ کو اپنے خطاب میں کہیں گے: ’مغرب کو درپیش اہم نکتہ یہ ہے ان کے سامنے طرفین کے درمیان جنگ جاری ہے۔ اس لیے جب ہم مشرق وسطیٰ یا اس کے آگے پاکستان یا ایران یا پھر کہیں اور دیکھیں تو ایسا نہیں ہے کہ گڑبڑ کا لامتناہی سلسلہ ہے اور کوئی بھی ہماری حمایت کے لائق نہیں۔‘

وہ مزید یہ کہنے والے ہیں کہ ’در حقیقت یہ ایک ایسی جنگ ہے جس میں ہمارے سٹریٹیجک مفادات بہت ہی گہرے ہیں۔ وہاں ایسے لوگ ہیں جنھیں ہمیں تعاون دینا چاہیے اور یہ عجیب بات ہے کہ وہ شاید اکثریت میں ہیں اگر ہم انھیں یکجا اور منظم کرکے ان کا تعاون کر سکیں۔‘

مشرق وسطیٰ اور اسلامی دنیا کے بارے میں اپنے کلیدی خطبے میں وہ یہ کہیں گے: ’اس کے لیے ضروری یہ ہے کہ ہم پہلے اپنے رویے سے خود کو آزاد کریں۔ ہمیں کسی ایک کی طرفداری کرنی ہوگي۔ ہمیں کسی ملک سے کسی خاص وقت میں اپنی سہولتوں کی بنیاد پر تعلقات رکھنے سے روکنا ہوگا۔ ہمیں پورے خطے کے بارے میں مربوط نظریہ رکھنا ہوگا اور اسے مجموعی طور پر لینا ہوگا۔ اور سب سے پہلے ہمیں اس کا عہد کرنا ہوگا کہ ہم اس میں شامل ہوں گے۔‘

وہ اپنے خطاب میں اس بات سے متفق ہیں کہ مشرق وسطیٰ یا مسلم ممالک کے ساتھ رابط کی اپنی قیمت ہے اور جہاں کمٹمنٹ نہیں اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہاں خطرہ مول نہیں لیا جا سکتا۔

ان کے معاون نے کہا کہ ان کلیدی خطبے کا مقصد اس پورے خطے میں کسی انقلاب کی دعوت نہیں بلکہ اس کا مقصد اس بات کو تسلیم کرانا ہے کہ خطے میں جاری کشمکش سے مغرب خود کو علیحدہ نہیں رکھ سکتا۔

اس ضمن میں انھوں نے شام میں جاری جنگ کا حوالہ دیا۔

واضح رہے کہ مصر میں اخوان المسلمین کی جمہوری طور پر منتخب ہونے والی حکومت کی برطرفی کے معاملے میں بلیئر نے مصر کی فوج کی حمایت کی تھی اور اس بات پر تنازع اٹھ کھڑا ہوا تھا۔

اس کے ساتھ ہی بلیئر یہ بھی کہنے والے ہیں کہ ’بنیاد پرست اسلام کا خطرہ کم نہیں ہوا ہے بلکہ یہ بڑھ رہا ہے۔ یہ دنیا بھر میں پھیل رہا ہے۔ یہ اقوام کو غیر مستحکم کر رہا ہے۔ یہ گلوبلائزیشن کے عہد میں پرامن بقائے باہمی کے امکان کو کم کر رہا ہے۔‘

انھوں نے اس کے ساتھ اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ’اس خطرے کے سامنے ہم حیرت انگیز طور پر اسے تسلیم کرنے میں تذبذب کا شکار ہیں اور موثر ڈھنگ سے اس کی مزاحمت کرنے کی قوت نہیں رکھتے۔‘

اسی بارے میں