برطانیہ واقعی عیسائی ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ THINKSTOCK
Image caption نگلینڈ میں چرچ یا کلیسا کا ایک اپنا مقام ہے

گذشہ ہفتے برطانوی اخبار چرچ ٹائمز میں وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے ایک مضمون میں کہا تھا کہ برطانوی قوم کو اپنی ’عیسائی حیثیت پر زیادہ اعتماد ہونا چاہیے۔‘

اس بیان کے جواب میں مصنفین، براڈ کسٹرز، مزاحیہ فنکاروں اور سائنسدانوں سمیت 50 معروف افراد نے ایک دوسرے برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلی گراف کو ایک کھلا خط لکھا جس میں انھوں نے ڈیوڈ کیمرون کے برعکس برطانیہ کو ایک بڑی حد تک ’غیر مذہبی‘ معاشرہ قرار دیا۔

برطانیہ کی حکمران جماعت کنزرویٹو پارٹی کے دو سینیئر ارکانِ پارلیمان نے وزیر اعظم کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ برطانیہ کو ایک عیسائی ملک ماننے سے انکار کرتے ہیں وہ خود کو ’دھوکا‘ دے رہے ہیں۔

وزیر اعظم کے دعوے کی مخالفت اور حمایت میں کیا دلائل ہیں؟

سنہ 2011 کی مردم شماری کے مطابق انگلینڈ اور ویلز میں 59 فیصد لوگوں نے عیسائی ہونا تسلیم کیا جو ایک دہائی قبل 72 فیصد تھے۔ سکاٹ لینڈ میں 2011 ہی میں یہ اعداد و شمار 54 فیصد تھے جو ایک دہائی قبل کی تعداد 65 فیصد سے کم ہوئے جبکہ شمالی آئرلینڈ میں یہ تعداد معمولی کمی کے بعد 83 فیصد رہی۔

چرچ آف انگلینڈ کی انتظامیہ کی ایک اہلکار کے مطابق، قطع نظر کہ 2001 کے بعد خود کو عیسائی کہلانے والوں کی تعداد میں 40 لاکھ کی کمی ہوئی، ان کی تعداد اب بھی قابل ذکر ہے۔

چرچ آف انگلینڈ کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق 2012 میں آٹھ لاکھ لوگوں نے چرچ میں ہونے والی اتوار کی سروس میں شرکت کی، جبکہ 1968 میں یہ تعداد دوگنا زیادہ تھی۔

دوسری جانب برطانوی ہیومنسٹ ایسوسی ایشن کے سربراہ اینڈرو کاپسن کا کہنا ہے کہ مردم شماری کے اعدا وشمار ایک غلط تصویر پیش کرتے ہیں کیونکہ ان اعداد و شمار میں فرض کیا جاتا ہے کہ ہر شحض کوئی نہ کوئی مذہب رکھتا ہے، جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔

سنہ 2013 میں معاشرتی رویوں کے بارے میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق 48 فیصد لوگ خود کو کسی مذہب سے منسلک نہیں کرتے جبکہ چرچ آف انگلینڈ سے تعلق رکھنے والے لوگ فقط 20 فیصد تھے۔

اینڈرو کاپسن کا کہنا ہے کہ: ’کوئی بھی حکومت یا سیاستدان اگر برطانوی اقدار یا سماجی اخلاقیات کی بنیاد عیسائیت اور عیسائی عقائد کو بنائے گی تو اس سے ایک غیر مستحکم عمارت تعمیر کرنے کا خدشہ ہے۔‘

انگلینڈ میں چرچ یا کلیسا کا ایک اپنا مقام ہے جس کے بشپ ہاؤس آف لارڈز میں بیٹھتے ہیں۔ اس اصول کے تحت ریاست کا سربراہ اور چرچ آف انگلینڈ کی سپریم گورنر ملکہ ہوتی ہیں۔ اس حوالے سے برطانوی وزیر ایئن ڈنکن سمتھ کا کہنا ہے کہ برطانیہ ایک عیسائی ملک نہیں ہے اور ایسا کہنا ایک مضحکہ خیز بات ہے اور ایسا کرنا ملک کے ’تاریخی اور آئینی حقائق‘ کو نظر انداز کرنے کے برابر ہے۔

ہیری کول، جو ماضی میں کسی مذہب سے تعلق نہیں رکھتے تھے، انھوں نے اخبار ’سپیکٹیٹر‘ میں لکھا کہ برطانیہ کو عیسائی ملک کا درجہ نہ دینا ناممکن ہے اور ’ہماری تاریخ اور ورثے کو نظر انداز کرنے کے برابر ہے۔‘

Image caption وہ قوانین جو عیسائیت نے ہم پر عائد کیے تھے وہ آہستہ آہستہ تحلیل ہو رہے ہیں

مذہبی گروہوں کی مخالفت کے باوجود اسقاط حمل، ہم جنس پرستی، دوسروں کے بچوں کو گود لینے اور دیگر مسائل کےمتعلق قوانین تبدیل ہوئے ہیں۔ سیکولر خیالات کے حامی لوگوں کے لیے یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ چرچ کے وقار اور اہمیت میں خاصا فرق آیا ہے۔

سنہ 2006 میں کیے جانے والے ایک جائزے کے مطابق ’مذہبی جماعتیں اور رہنما‘ ان گروپوں میں شامل تھے جن کا وزیروں پر سب سے زیادہ اثرو رسوخ تھا۔ 2013 میں لینکاسٹر یونیورسٹی نے ایک تجویز پیش کی جس میں کہا گیا کہ برطانوی عیسائی اپنے ذاتی اخلاقیات کے معاملات میں اپنے روحانی رہنما سے اتفاق نہیں کرتے۔ مثلاً مانع حمل ادویات استعمال کرنے والوں میں سے محض 9 فیصد اپنے آپ کو گناہگار سمجھتے ہیں اور صرف 19 فیصد اسقاط حمل پر پابندی کی حمایت کرتے تھے۔ اور ہم جنس شادیوں کی حمایت کرنے والے اکثریت میں تھے۔

نیشنل سیکولر سوسائٹی (این ایس ایس) کے صدر ٹیری سینڈرسن کا خیال ہے کہ ’وہ قوانین جو عیسائیت نے ہم پر عائد کیے تھے وہ آہستہ آہستہ تحلیل ہو رہے ہیں اور ان میں اصطلاح ہوئی ہے۔ یہ سچ ہے کہ عیسائیت ہمارے قوانین پر اثرانداز ہوئی ہے، لیکن قوانین تیزی سے تبدیل اور سیکولر ہو رہے ہیں۔

یہاں تک کہ چرچ کی تعلیمات کو مسترد کرنے والے رچرڈ ڈاکنز، جو کہ بہت سے دہریوں کے لیے ایک بڑا نام ہے، وہ خود کو ایک ’تہذیبی عیسائی‘ کہلاتے ہیں۔ اس حوالے سے چرچ آف انگلینڈ کی ایک رہنما کرسٹینا ریس کا کہنا ہے کہ لوگوں کی بڑے پیمانے پر عیسائی رسومات ، علامت اور اداروں سے تعلق اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ چرچ کا اب بھی شہری زندگی میں ایک اہم کردار ہے۔ ریس نے مذید کہا کہ’لوگوں کی زندگی کی اہم رسومات جیسے شادی، بپتسمہ اور جنازہ وغیرہ چرچ میں ہی ادا کی جاتی ہیں۔

اٹارنی جنرل اور کنزرویٹو کرسچن فیلوشپ کے سرپرست ڈومینک گریو کے مطابق دہریت اب تک برطانیہ میں زیادہ جگہ نہیں بنا پائی ہے۔ ان کا مذید کہنا تھا کہ ’برطانوی معاشرے کی کافی اخلاقیات عیسائیت کی بنیاد پر بنی ہیں اور 1500 سال سے جاری عیسائیت کا نتیجہ ہیں۔‘ 2011 میں چرچ آف انگلینڈ نے 51 ہزار سے زائد شادیاں کرائیں، ایک لاکھ چالیس ہزار بپتسمے، اور ایک لاکھ باسٹھ ہزار جنازے کرائے۔

اس کی ایک وجہ ملک کے تعلیمی نظام میں چرچ کا نمایاں کردار ہو سکتی ہے۔ 2011 میں انگلینڈ کے 20 ہزار سرکاری سکولوں میں سے ایک تہائی مذہبی سکول تھے جن میں 68 فیصد چرچ آف انگلینڈ کے سکولوں سے منسلک تھے اور 30 فیصد رومن کیتھولک تھے۔

Image caption میں مسلمان آبادی بڑھ کر 47 لاکھ ہو چکی تھی

کچھ سیکولر عوامی نمائندوں نے ڈیلی ٹیلیگراف کو ایک کھلے خط میں لکھا کہ ’برطانیہ کو بہتر بنانے میں عیسائت کے علاوہ دیگر مذہبی روایات کا بھی اثر ہے۔ عوامی زندگی میں عیسائیوں کے حصے کو سراہتے ہوئے انھوں نے یہ بھی کہا کہ ہمیں برطانیہ میں مختلف عقائد اور دیگر عناصر کو بھی تسلیم کرنا چاہیے۔‘

سینڈرسن نے کہا ’برطانیہ کے ملحد، مسلمان ، یہودی ، سکھ اور دیگر غیر مسیحی عقیدوں سے تعلق رکھنے والوں نے برطانوی ثقافت میں ایک مثبت کردار ادا کیا ہے۔

ریس کا کہنا ہے کہ عیسائت کے مسلسل اثر و رسوخ کا ثبوت دیکھنے کے لیے کیلنڈر پر ایک نظرڈالیں۔ ’اگرچہ کرسمس اور ایسٹر کے ارد گرد زیادہ چھٹیاں ہوتی ہیں لیکن اسے عسیائی اور غیر عیسائی دونوں بڑے پیمانے پر یکساں مناتے ہیں۔‘

برطانیہ کے عیسائی نہ ہونے کی جانب سے ایک دلیل یہ بھی ہے کہ ملک میں دوسرے مذاہب اور غیر مذہبی لوگوں میں اضافہ ہوا ہے۔

2011 کی مردم شماری کی تحت ایک کروڑ چالیس لاکھ لوگ کوئی مذہب نہیں رکھتے جبکہ ایک دہائی پہلے یہ تعداد 77 لاکھ تھی۔ اس دوران مسلمانوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا۔2011 میں مسلمان آبادی بڑھ کر 47 لاکھ ہو چکی تھی۔ اسی طرح بدھ مت، ہندو، یہودی اور سکھ تمام کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

مردم شماری کے شائع ہونے پر ایک تھنک ٹینک کے سرپرست نے کہا ’برطانیہ کثیر التہذیبی معاشرہ ہے۔‘

اسی بارے میں