مراکش: یہودی وکیل اسلامی جماعت کا رکن بننے کا خواہاں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اب وقت آ گیا ہے کہ مذہب میں سیاست کی آمیزش بند کی جائے اور حقیقی ترقی کے لیے کوشاں رہا جائے: اسحٰق چریا

اطلاعات کے مطابق افریقی ملک مراکش میں ایک یہودی وکیل کی جانب سے ملک میں حکمران اسلامی جماعت کا رکن بننے کی درخواست دی گئی ہے۔

جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی اور وزیراعظم عبدالالہ بینکیران کو تحریر کردہ خطوط میں اسحٰق چریا نامی وکیل نے کہا ہے کہ وہ جاننا چاہتا ہے کہ آیا وہ اپنی جماعت میں یہودیوں کو خوش آمدید کہتے ہیں یا نہیں۔

انھوں نے یہ امید بھی ظاہر کی ہے کہ ان کی اس درخواست کو ’طنزیہ‘ اقدام نہیں سمجھا جائے گا۔

مراکش کے مقامی اخبار ’اخبار الیوم‘ سے بات کرتے ہوئے اسحٰق چریا نے کہا کہ ’اسلامی دنیا نے مذہب کے نام پر کئی جنگیں دیکھی ہیں جن میں بہت سے لوگ مارے گئے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اب وقت آ گیا ہے کہ مذہب میں سیاست کی آمیزش بند کی جائے اور حقیقی ترقی کے لیے کوشاں رہا جائے۔

یہودی وکیل نے سوال کیا کہ ’میں تو ایسا ہی ہوں۔ کیا آپ مجھے قبول کریں گے؟‘

ان کے مطابق تاحال ان کی درخواست پر کوئی ردعمل یا جواب سامنے نہیں آیا ہے۔

ایک تخمینے کے مطابق مراکش کی سوا تین کروڑ کی آبادی میں سے چھ ہزار یہودی ہیں۔

جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی سنہ 2011 میں پہلی مرتبہ برسرِاقتدار آئی تھی اور ملک میں حکومت کرنے والی پہلی اسلامی جماعت ہے۔

حکومت چلانے کے لیے اس اسلامی جماعت نے کمیونسٹ اور سوشلسٹ نظریے کی حامی جماعتوں کے علاوہ لبرل اور شہنشاہیت کی حامی قدامت پسند جماعت سے اتحاد قائم کر رکھا ہے۔

اسی بارے میں